🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

541. ذِكْرُ مَا قَالَ النَّبِيُّ فِي قَاتِلِ عَمَّارٍ وَسَالِبِهِ
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل اور ان کا سامان لینے والے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5764
أخبرنا أبو زكريا العَنْبري (2) ، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا عطاء بن مُسلم الحَلَبي، قال: سمعتُ الأعمشَ يقول: قال أبو عبد الرحمن السُّلَمي: شَهِدْنا صِفِّينَ، فكنا إذا تَوادَعْنا دخَل هؤلاءِ في عَسكَر هؤلاءِ، وهؤلاءِ في عسكر هؤلاءِ، فرأيتُ أربعةً يَسِيرون: معاويةُ بن أبي سفيان وأبو الأعْور السُّلَمي وعَمرو بن العاص وابنُه، فسمعتُ عبدَ الله بن عَمرو يقول لأبيه عمرو: قد قَتلْنا هذا الرجلَ، وقد قال رسولُ الله ﷺ فيه ما قالَ، قال: أيُّ رجلٍ؟ قال: عمّارُ بنُ ياسر، أما تذكُر يوم بَنَى رسولُ الله ﷺ المسجد، فكُنّا نَحمِل لَبِنةً لَبِنةً، وعمّارٌ يَحمِل لَبِنتَين لَبِنتَين، فمرّ على رسولِ الله ﷺ، فقال:"تَحمِلُ لَبِنتَين، لَبِنتَين، وأنتَ تُرحَضُ (1) "، قال: أما إنك ستقتُلُك الفئةُ الباغِيةُ وأنت مِن أهلِ الجَنّة". فدخل عَمرو على معاويةَ، فقال: قَتلْنا هذا الرجلَ، وقد قال فيه رسولُ الله ﷺ ما قالَ! فقال: اسكُتْ فوالله ما تَزالُ تَدْحَضُ (2) في بَولِكَ، أنحنُ قتلْناهُ؟! إنما قتلَه عليٌّ وأصحابُه، جاؤوا به حتى القَوهُ بيننا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5660 - هو كما ترى خطأ
ابوعبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں: ہم صفین میں گئے، جب ہم ایک دوسرے سے کوئی وعدہ کرتے تو کچھ لوگ اس لشکر میں شامل ہو جاتے کوئی اس لشکر میں۔ میں نے چار آدمیوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔ معاویہ بن ابی سفیان، ابوالاعور سلمی، عمرو بن عاص اور ان کا بیٹا۔ میں نے سنا کہ عبداللہ بن عمرو اپنے والد عمرو سے کہہ رہا تھا: ہم نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد موجود ہے۔ ان کے والد نے پوچھا: کون شخص؟ عبداللہ بن عمرو نے کہا: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی تعمیر کر رہے تھے، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے جبکہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے اور دو دو اینٹیں اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر رہے تھے، آپ بھی تو اس وقت موجود تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور تم جنتی ہو، تب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ہم نے اس شخص کو شہید کر دیا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم فرمان ان کی شان کے بارے میں موجود ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خاموش ہو جایئے، خدا کی قسم! تم ہمیشہ اپنے ہی پیشاب میں کپڑے دھوتے رہو گے، کیا ان کو ہم نے قتل کیا ہے؟ ان کو علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے، کیونکہ انہوں نے ہی ان کو لا کر ہمارے نیزوں کا نشانہ بنوایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5764]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5765
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن المُبَارك، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رجُلَين أتيا عمرَو بنَ العاص يَختصِمان في دمِ عمّار بن ياسر وسَلَبِه، فقال عمرو: خَلِّيا عنه؛ فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"اللهمَّ أُولِعَت قُريشٌ بعمّارٍ، قاتلُ عمّار وسالِبُه في النارِ" (1) . تفرَّد به عبدُ الرحمن بن المُبَارك - وهو ثقةٌ مأمُون - عن مُعتمِر عن أبيه، فإن كان محفوظًا فإنه صحيحٌ على شرط الشَّيخَين، وإنما رواهُ الناسُ عن مُعتمِر عن لَيثٍ عن مُجاهِد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5661 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: دو آدمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے خون کے بارے میں اور ان کے سازوسامان کے حصول کے لئے آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ موضوع چھوڑ دو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! قریش عمار کے خون کے بہت شوقین ہیں۔ بے شک عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل اور ان کا سازوسامان لینے والا دوزخی ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو معتمر بن سلیمان سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن مبارک منفرد ہیں۔ اگر وہ محفوظ ہے تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل کیا۔ کچھ محدثین نے یہی حدیث معتمر کے واسطے سے، لیث سے، اور ان کے واسطے سے مجاہد سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5765]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سُليمان الأصبَهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان. وأخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري، حدثنا أبو قِلابَة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي، قال: استأذَنَ عمّارُ بنُ ياسر على النبيِّ ﷺ وأنا عندَه فقال:"ائذَنُوا له" فلما دخل قال رسولُ الله ﷺ:"مَرحبًا بالطَّيِّبِ المُطيَّبِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5662 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میں بھی بارگاہ رسالت میں موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اندر آنے کی اجازت عطا فرمائی، جب وہ اندر آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ان کا استقبال کیا۔ طیب و مطیب کو خوش آمدید۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5766]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں