المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
633. ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5976
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني مَعْبَد بن كعب بن مالك بن أَبي كعب بن القَيْن أخو بني سَلِمةَ، أنَّ أخاه عُبيد الله بن كعب - وكان من أعلم الأنصار - حدَّثه، أنَّ أباه كعبًا حدَّثه - وكان كعب بن مالك شهد العَقَبةَ وبايَعَ رسولَ الله ﷺ بها - قال: خَرَجْنا في حُجّاج من المدينة، فقال لنا البَراء بن مَعْرُور: يا هؤلاءِ، إني قد رأيتُ رأيًا، واللهِ ما أدري أتوافقُوني عليها أم لا؟ قال: قلنا: وما ذاك؟ قال: قد رأيتُ أن لا أدَعَ هذه البَنِيَّةَ منّي بظَهْر، وذكرَ الحديثَ بطُوله (1) . وأَظنُّني أني قد أخرجتُه في ذكر البراء بن مَعْرُور (2) . ذكرُ مناقب الحَكَم بن عَمرو الغِفَاري ﵁ -
ابن اسحاق کہتے ہیں: بنی سلمہ کے بھائی، معبد بن کعب بن مالک ابی کعب بن قین نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی ” عبیداللہ بن کعب “ ہیں۔ یہ انصار میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا کعب نے (خود اپنے بارے میں) روایت کی ہے کہ کعب بن مالک بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے اور وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت بھی کی تھی، آپ فرماتے ہیں: ہم لوگ مدینہ منورہ سے حاجیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے، سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ تم لوگ اس معاملہ میں میری موافقت کرو گے یا نہیں، ہم نے پوچھا: وہ خواب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں اس عمارت (یعنی کعبہ معظمہ) کی جانب پشت نہ کروں۔ (اس کے بعد پوری حدیث بیان کی) ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ذکر کر دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5976]
حدیث نمبر: 5977
أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببُخارَى، أخبرنا أبو خَلِيفة، حدثنا محمد بن سِلَّام الجُمَحيّ، حدثني أبو عُبيدة مَعمَر بن المُثنَّى، قال: الحَكَم بن عَمرو بن مُجَدَّع بن حِذْيَم بن الحارث بن ثَعْلبة بن مُلَيلِ بن ضَمْرة بن بكر بن عبد مَناةَ بن كِنانةَ (3) .
ابوعبیدہ معمر بن مثنی نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حکم بن عمرو بن مجدع بن حذیم بن حارث بن نعیلہ بن ملیک بن ضمرہ بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5977]
حدیث نمبر: 5978
أخبرنا أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيَّاط، قال: الحكم بن عمرو بن مُجدَّع بن حِذْيَم بن حُلْوان بن الحارث بن ثَعْلبة بن مُلَيل بن ضَمْرة، وأمَّه أُمامة بنت مالك بن الأشَلّ بن عبد الله بن غِفَار، مات بخُراسان، وهو والٍ عليها سنة إحدى وخَمسين (1) .
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حکم بن عمرو بن مجدع بن حزیم بن حلوان بن حارث بن نعیلہ بن ملیک ضمرہ “۔ ان کی والدہ ” امامہ بنت مالک بن اشہل بن عبداللہ بن غفار “ تھیں، یہ خراسان کے والی مقرر ہوئے تھے، اور 51 ہجری کو وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5978]
حدیث نمبر: 5979
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عُمر، قال: والحَكَم بن عمرو بن مُجدَّع بن حِذْيَم بن الحارث بن ثَعْلبة (2) بن مُلَيلِ بن ضَمْرة بن بَكر بن عبد مَناةَ بن كِنانة، وثعلبةُ أخو غِفار بن مُلَيل، صَحِبَ النبي ﷺ حتى قُبِض، ثم تحوّل إلى البصرة فنَزَلَها، فولّاه زيادُ بن أبي سفيان على خُرَاسان، فخرج إليها، ولم يَزَلْ على خُراسان حتى ماتَ بها سنةَ خمسين.
محمد بن عمرو نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حکم بن عمرو بن مجدع بن جذیم بن حارث بن نعیلہ بن ملیک بن ضمرہ بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ “ اور نعیلہ جو ہیں یہ غفار بن ملیک کے بھائی ہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، بعد میں یہ بصرہ میں منتقل ہو گئے، اور وہیں قیام پذیر رہے، زیاد بن ابی سفیان نے ان کو خراسان کا عامل مقرر کیا، 50 ہجری کو وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5979]