🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
633. ذكر مناقب الحكم بن عمرو الغفاري - رضى الله عنه -
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5976
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني مَعْبَد بن كعب بن مالك بن أَبي كعب بن القَيْن أخو بني سَلِمةَ، أنَّ أخاه عُبيد الله بن كعب - وكان من أعلم الأنصار - حدَّثه، أنَّ أباه كعبًا حدَّثه - وكان كعب بن مالك شهد العَقَبةَ وبايَعَ رسولَ الله ﷺ بها - قال: خَرَجْنا في حُجّاج من المدينة، فقال لنا البَراء بن مَعْرُور: يا هؤلاءِ، إني قد رأيتُ رأيًا، واللهِ ما أدري أتوافقُوني عليها أم لا؟ قال: قلنا: وما ذاك؟ قال: قد رأيتُ أن لا أدَعَ هذه البَنِيَّةَ منّي بظَهْر، وذكرَ الحديثَ بطُوله (1) . وأَظنُّني أني قد أخرجتُه في ذكر البراء بن مَعْرُور (2) . ذكرُ مناقب الحَكَم بن عَمرو الغِفَاري ﵁ -
ابن اسحاق کہتے ہیں: بنی سلمہ کے بھائی، معبد بن کعب بن مالک ابی کعب بن قین نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی عبیداللہ بن کعب ہیں۔ یہ انصار میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا کعب نے (خود اپنے بارے میں) روایت کی ہے کہ کعب بن مالک بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے اور وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت بھی کی تھی، آپ فرماتے ہیں: ہم لوگ مدینہ منورہ سے حاجیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے، سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ تم لوگ اس معاملہ میں میری موافقت کرو گے یا نہیں، ہم نے پوچھا: وہ خواب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں اس عمارت (یعنی کعبہ معظمہ) کی جانب پشت نہ کروں۔ (اس کے بعد پوری حدیث بیان کی) ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ذکر کر دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5976]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5976 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسنٌ من أجل محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15798) من طريق إبراهيم بن سعد، وابن حبان (7011) من طريق سلمة بن الفضل، كلاهما عن محمد بن إسحاق بهذا الإسناد. غير أنَّ سلمة بن الفضل ذكر أنَّ الذي حدَّث معبدًا أخوه عبد الله مكبّرًا، وليس عُبيد الله مصغرًا، وهما أخوان، وقد اختلف أصحاب ابن إسحاق في تعيينه، ومثل هذا لا يضرُّ بصحة الخبر، لأنَّ كليهما ثقة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (25/ 15798) نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے؛ اور ابن حبان (7011) نے سلمہ بن فضل کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ سلمہ بن فضل نے ذکر کیا ہے کہ جس نے معبد کو بتایا وہ ان کا بھائی "عبداللہ" (مکبر) تھا، نہ کہ "عبیداللہ" (مصغر)۔ یہ دونوں بھائی ہیں، اور ابن اسحاق کے شاگردوں میں ان کے تعین میں اختلاف ہے۔ لیکن اس طرح کا اختلاف خبر کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا، کیونکہ دونوں بھائی ثقہ ہیں۔
وقوله: هذه البَنِيّة، يعني الكعبة.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "اس بنیّہ" سے مراد کعبہ ہے۔
(2) لم يخرجه الحاكم بطوله فيما تقدَّم من هذا الكتاب، وقد أخرج منه قطعتين في تعيين بعض النقباء في بيعة العقبة وحسبُ، وهما سعد بن عبادة برقم (5179)، وعبادة بن الصامت برقم (5615).
📝 نوٹ / توضیح: حاکم نے اس کتاب میں پہلے اسے طویل روایت نہیں کیا، بلکہ اس میں سے صرف دو ٹکڑے بیعتِ عقبہ کے بعض نقباء کے تعین کے بارے میں روایت کیے ہیں: سعد بن عبادہ (5179) اور عبادہ بن صامت (5615)۔