المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
656. إِسْلَامُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6025
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيدُ بن أبي حَبيب، عن راشدٍ مولى حَبيب ابن [أبي] (1) أوس [عن حَبيب بن أبي أَوس] (2) حدثني عمرو بن العاص مِن فِيه، قال: خرجتُ عامدًا لِرسُول الله ﷺ لأُسلمَ، فلقيتُ خالدَ بن الوليد، وذلك قبلَ الفتح، وهو مُقبِلٌ من مكة، قلتُ: أين يا أبا سليمان؟ قال: والله لقد استقام المِيسَمُ، وإنَّ الرجلَ لَنبِيٌّ، أَذهَبُ واللهِ أُسلِمُ، فحتَّى متى (3) ؟ فقلتُ: وأنا واللهِ ما جئتُ إِلَّا لأُسلِمَ؟ فَقَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فتقدّم خالدُ بن الوليد فأسلَمَ وبايَعَ، ثم دَنَوتُ فبايعتُه، ثم انصرفتُ (4) .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلا تو راستے میں میری ملاقات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ہوئی، یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے اور وہ مکہ سے آ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابوسلیمان! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اب سیدھا راستہ بالکل واضح ہو چکا ہے اور بے شک وہ شخص اللہ کا سچا نبی ہے، اللہ کی قسم! میں تو اسلام قبول کرنے جا رہا ہوں، آخر کب تک (انکار کرتے رہیں گے)؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی صرف اسلام لانے ہی کے لیے نکلا ہوں، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اسلام لائے اور بیعت کی، پھر میں نے قریب ہو کر بیعت کی اور واپس آ گیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «خبر حسن كما تقدَّم بيانه برقم (5377).» [ترقيم الرساله 6025] [ترقيم الشركة 5967]
الحكم على الحديث: خبر حسن كما تقدَّم بيانه برقم (5377).
حدیث نمبر: 6026
حدثنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم ببغداد، حدثنا أبو الأحْوَص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن عُفَير، عن ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، قال: كان عمرو بن العاص قَصِيرًا دَحْداحًا (5) .
عبدالرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پست قد اور گٹھے ہوئے جسم کے مالک تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6026] [ترقيم الشركة 5968]