🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

656. إِسْلَامُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6024
فحدثني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، أخبرني أبو يونس (5) ، أخبرني إبراهيم بن المنذر، قال: عمرو بن العاص بن وائل قَدِمَ على رسول الله ﷺ سنةَ ثمانٍ، يكنى أبا عبد الله، وتُوفِّي بمصر يومَ الفِطر سنةَ اثنتين وأربعين، وهو والٍ عليها.
ابراہیم بن منذر فرماتے ہیں: عمرو بن العاص بن وائل 8 ہجری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور 42 ہجری کو مصر میں عید کے دن ان کا انتقال ہوا۔ اس وقت آپ وہاں کے گورنر تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6024]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6025
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيدُ بن أبي حَبيب، عن راشدٍ مولى حَبيب ابن [أبي] (1) أوس [عن حَبيب بن أبي أَوس] (2) حدثني عمرو بن العاص مِن فِيه، قال: خرجتُ عامدًا لِرسُول الله ﷺ لأُسلمَ، فلقيتُ خالدَ بن الوليد، وذلك قبلَ الفتح، وهو مُقبِلٌ من مكة، قلتُ: أين يا أبا سليمان؟ قال: والله لقد استقام المِيسَمُ، وإنَّ الرجلَ لَنبِيٌّ، أَذهَبُ واللهِ أُسلِمُ، فحتَّى متى (3) ؟ فقلتُ: وأنا واللهِ ما جئتُ إِلَّا لأُسلِمَ؟ فَقَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فتقدّم خالدُ بن الوليد فأسلَمَ وبايَعَ، ثم دَنَوتُ فبايعتُه، ثم انصرفتُ (4) .
حبیب بن اوس کے آزاد کردہ غلام راشد بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خود اپنے منہ سے یہ بات بتائی ہے کہ قبول اسلام کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا، میری ملاقات سیدنا خالد بن ولید سے ہوئی یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی مکہ کی طرف جا رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا: اے ابوسلیمان! کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: حج کے ایام آ گئے ہیں، اور اللہ پاک نے اپنا نبی بھی بھیج دیا ہے، قسم بخدا، اس کا راستہ، امن کا راستہ ہے، میں کب تک اس سے انکار کروں گا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم! میرے جانے کا مقصد بھی صرف یہی ہے کہ میں بھی اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پہلے ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا، اسلام قبول کیا، بیعت کی اور واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6025]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں