🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

664. مَوْتُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَوَصِيَّتُهُ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6042
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، قال آخَى رسولُ الله ﷺ بين أَبي أيوب وبين مُصعب بن عُمير، وشهد أبو أيوب بدرًا وأُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتُوفي عام غزا يزيدُ بنُ معاوية القُسْطَنطينيّةَ في خلافة أبيه معاويةَ سنة اثنتين وخمسين، وقبرُه بأصل حِصْنِ القُسْطَنطِينيّة بأرض الروم - فيما ذُكر - يتعاهدون قبره يَرُمُّونه (1) ويَستسقُون به إذا قُحِطُوا (2) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ سیدنا معاویہ کی خلافت میں ان کے بیٹے نے 52 ہجری کو قسطنطنیہ پر حملہ کیا، اس جنگ کے دوران آپ شہید ہوئے، آپ کا مزار شریف روم میں قسطنطنیہ کے قلعے کی دیوار کے ساتھ ہے۔ آپ کا مزار شریف مرجع خلائق ہے، لوگ دور دراز سے آپ کی قبر کی زیارت کے لئے آتے ہیں، اور جب بارشیں رک جائیں تو آپ کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6042]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6043
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا ابن عُلَيّة، حَدَّثَنَا أيوب، عن محمد بن سِيرِين قال: شهد أبو أيوب مع رسول الله ﷺ بدرًا، ثم لم يَتخلَّف عن غَزَاةٍ للمسلمين إِلَّا هو فيها، إلَّا عامًا واحدًا؛ فإنه استُعمِلَ على الجيش رجلٌ شابٌّ، فقَعَدَ ذلك العامَ، فجعل بعد ذلك يتلهَّف ويقول: ما عليَّ من استُعمِل عليَّ، وما عليَّ من استُعمِل عليَّ، فمرضَ، وعلى الجيش يزيدُ بنُ معاوية، فدخل عليه يعودُه فقال: ما حاجتُك؟ فقال: حاجتي إذا أنا مُتُّ فاركَبْ، ثم اسْعَ في أرضِ العدو ما وجدتَ مَسَاغًا، فإذا لم تَجِدْ مَسَاغًا فادفنِّي ثم ارجِعْ. قال: وكان أبو أيوب يقول: قال الله ﷿: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] فلا أَجدُني إلَّا خفيفًا أو ثقيلًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5930 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے، اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کے کسی غزوے میں پیچھے نہیں رہے، البتہ ایک مرتبہ ایک جنگ میں ایک نوجوان کو امیر مقرر کر دیا گیا تھا، اس جنگ میں آپ شریک نہیں ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد آپ اس میں شرکت نہ کرنے پر بہت افسوس کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس کو امیر لشکر بنایا گیا تھا مجھے اس کی امارت قبول کرنی چاہیے تھی۔ اس کے بعد آپ بیمار ہو گئے، اور لشکر کی ذمہ داری یزید بن معاویہ پر تھی، وہ ان کی زیارت کرنے کے لئے آیا، اس نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا خواہش ہے؟انہوں نے کہا: جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو سواری پر لاد کر دشمن کے علاقے میں جہاں تک لے جا سکو، لے جانا، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مجھے دفن کر دینا۔ سیدنا ابوایوب فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] اور میں اپنے آپ کو خفیف یا ثقلیل دونوں میں سے ایک پاتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6043]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں