🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

672. ذِكْرُ مَنَاقِبِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا طفیل بن عبد الله بن سخبرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6057
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا العبّاس بن الفضل الأسفاطي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن أسامة بن زيد، عن ابن شِهاب، عن إبراهيم بن عبد الله بن حُنين: أَنَّ عبدَ الله بن عبّاس والمِسْوَر بن مَخْرَمة اختلفا في المُحرِم يَغسِلُ رأسَه بالماءِ من غير جَنَابةٍ، فأرسَلاني إلى أبي أيوب الأنصاريِّ وهو في بعض مياه مكةَ أسألُه عن ذلك، فذَكَرَ الحديثَ بطوله (1) . هذه فضيلةٌ لأبي أيوب، أنَّ ابنَ عبّاس والمِسْوَرَ يَرجِعان إليه في السؤال، وأظنُّ أنَّ الشيخين ﵄ قد خرَّجاه أو أحدُهما في كتاب الطهارة. ذكرُ مناقب عبد الله بن الطُّفيل بن سَخْبَرة ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5943 - صحيح
ابراہیم بن عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا آپس میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ محرم اگر جنبی نہ ہو تو وہ اپنا سر پانی کے ساتھ دھو سکتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی جانب ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ آپ سے اس مسٔلہ کا جواب پوچھ کر آئے، ان دنوں سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ مکہ کے کسی کنویں پر موجود تھے۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ (امام حاکم کہتے ہیں) اس حدیث میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت نظر آتی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے سوال کے معاملہ میں ان سے رجوع کیا۔ اور میرا خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے یہ حدیث کتاب الطہارت میں ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6057]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6058
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حَدَّثَنَا علي بن سعيد (2) ، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عَمْرو، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبْعيِّ بن حِرَاشٍ، قال: قال عبد الله بن الطُّفيل ابن أخي عائشةَ لأُمها: إنه رأى في المنام أنه لقيَ رَهْطًا من النصارى، فقال: إنَّكم القومُ لولا أنكم تَزْعُمُونَ أَنَّ المسيحَ ابن الله، فقال: وأنتم القومُ لولا أنّكم تقولون: ما شاء الله وشاء محمد، قال: ثم لقيَ ناسًا من اليهود، فقال: إنكم القومُ لولا أنكم تَزعُمون أنَّ العُزيرَ ابن الله، فقال: وأنتم القوم لولا أنكم تقولون: ما شاء الله وما شاء محمد (1) ، فأَتى النَّبِيَّ ﷺ فحدَّثه، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"حدَّثتَ بهذا الحديث أحدًا؟" فقال: نعم. فَحَمِدَ الله وأثنَى عليه، ثم قال:"إنَّ أخاكم قد رأى ما بَلَغَكم، فلا تقولوا: ما شاء الله وشاء محمدٌ، ولكن قولوا: ما شاءَ اللهُ وحدَه لا شريكَ له" (2) . خالَفَه حمادُ بن سَلَمة عن عبد الملك بن عُمير:
ربعی بن حراش کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی کے بیٹے طفیل بن عبداللہ نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری ملاقات ایک عیسائیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ہوئی، میں نے ان سے کہا: تم کتنے اچھے لوگ ہو، اگر تم مسیح عیسیٰ ابن مریم کو خدا کا بیٹا نہ سمجھو، انہوں نے آگے سے جواب دیا: اور تم بھی بہت اچھی قوم ہو اگر تم ماشاء اللہ اور ماشاء محمد نہ کہو۔ طفیل بن عبداللہ فرماتے ہیں: پھر ان کی ملاقات یہودیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ہوئی، میں نے ان سے کہا: تم کتنے اچھے لوگ ہو، اگر تم سیدنا عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہو۔ انہوں نے جواباً کہا: تم کتنے اچھے لوگ ہو اگر تم ماشاء اللہ اور ماشاء محمد نہ کہو۔ سیدنا طفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے یہ بات کسی کو بتائی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے بھائی نے ایک خواب دیکھا ہے، اس لئے تم ماشاء اللہ و ماشاء محمد نہ کہا کرو، بلکہ صرف ماشاء اللہ وحدہ لاشریک کہا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6058]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں