المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
686. مُشَاوَرَةُ مُعَاوِيَةَ فِي قَتْلِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بارے میں امیر معاویہ سے مشورہ
حدیث نمبر: 6090
حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حَدَّثَنَا المفضّل بن غسّان الغَلَّابي (3) ، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين وهشام (4) ، حَدَّثَنَا داود بن عمرو، عن بُسْر بن عُبيد الله الحضرمي (5) ، قال: لما بَعَثَ زيادٌ بحُجْر بن عَدي إلى معاوية أمَرَ معاويةُ بحَبْسهم بمكانٍ يقال له: مَرْج عَذْراء، قال: ثم استشار الناسَ فيهم، قال: فجعلوا يقولون: القتلَ القتلَ، قال: فقام عبدُ الله بن يزيد بن أسَدَ البَجَليُّ فقال: يا أمير المؤمنين، أنت راعِينا ونحن رعيَّتك، وأنت رُكْتُنا ونحن عِمادُك، إن عاقبتَ قلنا: أصبتَ، وإِن عَفَوتَ قلنا: أحسنتَ، والعفوُ أقربُ للتقوى، وكلُّ راعٍ مسؤولٌ عن رعيَّته. قال: فتفرّق الناسُ عن قوله (6) .
بسر بن عبیداللہ حضرمی سے روایت ہے کہ جب زیاد نے سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے انہیں ”مرج عذراء“ نامی مقام پر قید کرنے کا حکم دیا، پھر انہوں نے لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگ کہنے لگے کہ انہیں قتل کر دیا جائے، تب سیدنا عبداللہ بن یزید بن اسد بجلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے امیر المومنین! آپ ہمارے چرواہے ہیں اور ہم آپ کی رعایا ہیں، آپ ہماری پناہ گاہ ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں، اگر آپ سزا دیں تو ہم کہیں گے کہ آپ نے درست کیا، اور اگر آپ معاف کر دیں تو ہم کہیں گے کہ آپ نے بہت اچھا کیا، اور معافی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، اور ہر چرواہے سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔“ راوی کہتے ہیں کہ ان کی اس بات پر لوگ منتشر ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6090] [ترقيم الشركة 6032]
حدیث نمبر: 6091
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن محمد اليَزيدي، حَدَّثَنَا سليمان بن أبي شَيخ، حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو مِخْنَف: أنَّ هُدْبة بن فيّاض الأعور أُمِرَ بقتل حُجْر بن عَدي، فمشى إليه بالسيف فأُرعِدَت فَرائصُه، فقال: يا حُجْرُ، أليس زعمتَ أنك لا تَجزَعُ من الموت؟ فإنا نَدَعُك (1) ، فقال: ما لي لا أَجزَعُ، وأنا أَرى قبرًا محفورًا، وكَفَنًا منشورًا، وسيفًا مشهورًا، إنَّني والله لن أقولَ ما يُسخِطُ الرَّب. قال: فقتله، وذلك في شعبان سنة إحدى وخمسين (2) (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابو مخنف سے روایت ہے کہ ہدیہ بن فیاض اعور کو سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا گیا، وہ تلوار لے کر ان کی طرف بڑھا تو (خوفِ خدا سے) اس کے کندھے کانپنے لگے، اس نے کہا: ”اے حجر! کیا آپ یہ دعویٰ نہیں کرتے تھے کہ آپ موت سے نہیں گھبراتے؟ ہم تو آپ کو (موت کے حوالے کرنے کے لیے) چھوڑ رہے ہیں“، حجر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”میں کیوں نہ گھبراؤں جبکہ میں ایک کھدی ہوئی قبر، ایک کھلا ہوا کفن اور ایک سچی ہوئی تلوار دیکھ رہا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں (اپنی زبان سے) کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے میرا رب ناراض ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس نے انہیں شہید کر دیا، اور یہ واقعہ ماہِ شعبان سن 51 ہجری کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: «أبو مخنف» [ترقيم الرساله 6091] [ترقيم الشركة 6033] [ترقيم العلميه 5978]