المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
686. مُشَاوَرَةُ مُعَاوِيَةَ فِي قَتْلِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بارے میں امیر معاویہ سے مشورہ
حدیث نمبر: 6089
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، حَدَّثَنَا الهيثم بن خلف، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن أبي إسحاق قال: رأيتُ حُجْرَ بن عديٍّ وهو يقول: ألا إِنِّي على بَيْعتي، لا أُقِيلُها ولا أَستَقِيلُها، سَمَاعَ (1) اللهِ والناسِ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5976 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5976 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہہ رہے تھے خبردار! میں اپنی بیعت پر قائم ہوں، نہ میں نے اس کو توڑا ہے اور نہ توڑنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6089]
حدیث نمبر: 6090
حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حَدَّثَنَا المفضّل بن غسّان الغَلَّابي (3) ، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين وهشام (4) ، حَدَّثَنَا داود بن عمرو، عن بُسْر بن عُبيد الله الحضرمي (5) ، قال: لما بَعَثَ زيادٌ بحُجْر بن عَدي إلى معاوية أمَرَ معاويةُ بحَبْسهم بمكانٍ يقال له: مَرْج عَذْراء، قال: ثم استشار الناسَ فيهم، قال: فجعلوا يقولون: القتلَ القتلَ، قال: فقام عبدُ الله بن يزيد بن أسَدَ البَجَليُّ فقال: يا أمير المؤمنين، أنت راعِينا ونحن رعيَّتك، وأنت رُكْتُنا ونحن عِمادُك، إن عاقبتَ قلنا: أصبتَ، وإِن عَفَوتَ قلنا: أحسنتَ، والعفوُ أقربُ للتقوى، وكلُّ راعٍ مسؤولٌ عن رعيَّته. قال: فتفرّق الناسُ عن قوله (6) .
بشر بن عبدالحضری کہتے ہیں۔ جب زیاد نے سیدنا حجر بن عدی کو سیدنا معاویہ کی جانب بھیجا تو معاویہ نے ان کو ایک جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا، اس جگہ کو ” مرج عذراء “ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگ کہنے لگے کہ ان کو قتل کریں، ان کو قتل کریں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زید بن اسد بجلی اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور بولے: اے امیرالمومنین! آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی ریاعا ہیں، آپ ہماری بنیاد ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں۔ اگر آپ سزا دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے صحیح کیا اور اگر آپ معاف کر دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اور معاف کرنا ہی تقویٰ کے قریب تر ہے۔ اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زید بن اسد کے یہ کہتے ہی سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6090]