🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
686. مشاورة معاوية فى قتل حجر بن عدي
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بارے میں امیر معاویہ سے مشورہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6090
حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حَدَّثَنَا المفضّل بن غسّان الغَلَّابي (3) ، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين وهشام (4) ، حَدَّثَنَا داود بن عمرو، عن بُسْر بن عُبيد الله الحضرمي (5) ، قال: لما بَعَثَ زيادٌ بحُجْر بن عَدي إلى معاوية أمَرَ معاويةُ بحَبْسهم بمكانٍ يقال له: مَرْج عَذْراء، قال: ثم استشار الناسَ فيهم، قال: فجعلوا يقولون: القتلَ القتلَ، قال: فقام عبدُ الله بن يزيد بن أسَدَ البَجَليُّ فقال: يا أمير المؤمنين، أنت راعِينا ونحن رعيَّتك، وأنت رُكْتُنا ونحن عِمادُك، إن عاقبتَ قلنا: أصبتَ، وإِن عَفَوتَ قلنا: أحسنتَ، والعفوُ أقربُ للتقوى، وكلُّ راعٍ مسؤولٌ عن رعيَّته. قال: فتفرّق الناسُ عن قوله (6) .
بشر بن عبدالحضری کہتے ہیں۔ جب زیاد نے سیدنا حجر بن عدی کو سیدنا معاویہ کی جانب بھیجا تو معاویہ نے ان کو ایک جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا، اس جگہ کو مرج عذراء کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگ کہنے لگے کہ ان کو قتل کریں، ان کو قتل کریں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زید بن اسد بجلی اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور بولے: اے امیرالمومنین! آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی ریاعا ہیں، آپ ہماری بنیاد ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں۔ اگر آپ سزا دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے صحیح کیا اور اگر آپ معاف کر دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اور معاف کرنا ہی تقویٰ کے قریب تر ہے۔ اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زید بن اسد کے یہ کہتے ہی سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6090]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6090 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) بفتح الغين المعجمة وتشديد اللَّام ألف وفي آخرها الباء الموحدة، نسبةً إلى غلّاب، جدَّةٍ له. كذا ضبطها السمعاني في "الأنساب".
📝 نوٹ / توضیح: "الغلابی" کی نسبت غین کے فتحہ اور لام مشدد کے ساتھ ہے، یہ ان کی دادی "غلّاب" کی طرف نسبت ہے؛ جیسا کہ سمعانی نے "الانساب" میں ضبط کیا ہے۔
(4) كذا وقع مهملًا هنا، ولم نجزم بتعيينه، فيحتمل أن يكون هشام بن إسماعيل العطار أو هشام بن عمار، فكلاهما دمشقيان وهما من طبقة من يروي عن داود بن عمرو الشامي الدمشقي، وقد روى عنهما المفضل بن غسان الغلابي كما ذكر ابن عساكر في ترجمته في "تاريخ دمشق" 60/ 88.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں "ہشام" کا نام بغیر وضاحت کے (مہمل) آیا ہے، اس لیے یقینی طور پر تعین مشکل ہے، تاہم احتمال ہے کہ یہ ہشام بن اسماعیل العطار ہوں یا ہشام بن عمار؛ کیونکہ دونوں دمشقی ہیں اور داؤد بن عمرو الشامی سے روایت کرنے والوں کے طبقے سے ہیں۔ مفضل بن غسان الغلابی نے ان دونوں سے روایت کی ہے جیسا کہ ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (60/ 88) میں ذکر کیا ہے۔
(5) تحرَّف في النسخ إلى: عبد الحضرمي، والتصويب من مصادر ترجمته.
📌 اہم نکتہ: نسخوں میں یہاں "عبد الحضرمی" تحریف ہو گیا ہے، جبکہ راوی کے تراجم کے مطابق اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(6) أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 223 و 33/ 374 من طريق محمد بن أبي غالب، عن هشيم، عن داود بن عمرو، به. ولا بأس برجاله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے (12/ 223 اور 33/ 374) میں محمد بن ابی غالب عن ہشیم عن داؤد بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (لا باس بہ)۔