المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
698. مَوْتُ امْرَأَةٍ فِي السَّجْدَةِ
سجدے کی حالت میں ایک عورت کی موت کا واقعہ
حدیث نمبر: 6123
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حَدَّثَنَا جَدِّي، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمّاد، حَدَّثَنَا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن الزُهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: ما تُعُلِّقَ على عبد الرحمن بن أبي بكر بكِذْبةٍ في الإسلام (3) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اسلام میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6123]
حدیث نمبر: 6124
حَدَّثَنَا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسَدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني سُليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة عن أُمِّه: أنَّ امرأةً دخلت بيتَ عائشة، فصَلَّت عند بيت النَّبِيّ ﷺ وهي صحيحةٌ، فَسَجَدَت، فلم تَرفَعْ رأسَها حتَّى ماتت، فقالت عائشة: الحمدُ لله الذي يحيي ويميت، إنَّ في هذه لَعِبرةً لي في عبد الرحمن بن أبي بكر، رَقَدَ في مَقِيل له قالَهُ، فذهبوا يُوقِظونَه فَوَجَدوه قد مات؛ فدخل نفسَ عائشةَ تُهمةُ أن يكون صُنِعَ به شرٌّ، أو عُجِل عليه فدُفِن وهو حيٌّ، فرأت أنه عِبرةٌ بها، وذَهَب ما كان في نفسِها من ذلك (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6011 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6011 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت ام المومنین سیدہ عائشہ کے گھر میں آئی، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے سامنے نماز پڑھی، جب اس نے نماز شروع کی تو بالکل تندرست و توانا تھی، جب وہ سجدے میں گئی تو پھر سر نہیں اٹھایا، (دیکھا تو) وہ فوت ہو چکی تھی، ام المومنین نے کہا: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جو زندہ رکھتی ہے اور مارتی ہے۔ اس عورت کی موت میں میرے لئے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما حوالے سے بہت عبرت ہے، کیونکہ وہ قیلولہ کے لئے لیٹے تھے، جب لوگ ان کو بیدار کرنے کے لئے گئے تو دیکھا کہ وہ فوت ہو چکے تھے، ام المومنین کے دل میں یہ خدشہ رہتا تھا کہ ان کے بھائی کے ساتھ شاید زیادتی ہوئی ہے اور لوگوں نے ان کو دفن کرنے میں عجلت سے کام لیا ہے اور ان کو زندہ ہی دفن کر دیا ہے۔ لیکن جب ام المومنین نے اس عورت کی اتنی اچانک موت دیکھی تو ان کے دل سے وہ خدشہ ختم ہو گیا۔ (اور ان کو یقین آ گیا کہ اتنی جلدی بھی موت آ سکتی ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6124]