المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
699. زِيَارَةُ عَائِشَةَ قَبْرَ أَخِيهَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے بھائی عبد الرحمن کی قبر کی زیارت کرنا
حدیث نمبر: 6125
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري، حَدَّثَنَا خليفة بن خيّاط: قال: ماتَ عبد الرحمن بن أبي بكرٍ سنةَ ثلاثٍ وخمسين، وشَهِدَ الجَمَل مع أخته عائشة، وقَدِمَ على ابن عامرٍ البصرةَ (2) .
خلیفہ بن خیاط کہتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما 53 ہجری کو فوت ہوئے، آپ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ جنگ جمل میں شریک ہوئے تھے اور بصرہ میں ابن عامر کے پاس آئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6125]
حدیث نمبر: 6126
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنَيسابور، حَدَّثَنَا أبو عُلاثة، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكةَ قال: تُوفِّي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحُبْشي من مكة على بَرِيدٍ، فلما حَجَّت عائشةُ ﵂ أَتتْ قبرَه فبَكَتْ وقالت: وكُنّا كنَدْمانَي جَذِيمةَ حِقْبةً … من الدَّهرِ حتَّى قِيلَ: لن يَتَصدَّعا فلمَّا تفرَّقْنا كأنِّي ومالكًا … لِطُولِ اجتماعٍ لم نَبِتْ ليلةً معا ثم رَدَّتْ (3) إلى مكة، وقالت: أَمَ واللهِ لو شَهِدتُك، لدفنتُك حيثُ مُتَّ (4) .
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن ابن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما حبشیٰ میں فوت ہوئے، یہ مکہ سے ایک ایک برید کے فاصلے پر ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے لئے آئیں تو ان کی قبر انور پر بھی گئیں، قبر انور کی زیارت کر کے آپ رو پڑیں اور وہاں یہ اشعار کہے۔ * ہم دونوں آپس میں ایسے دوست کی طرح تھے جو ایک طویل عرصہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہوں۔ حتی کہ لوگ کہتے تھے کہ یہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ * اور جب ہم جدا ہوئے تو ایسی دوری ہوئی، اتنا عرصہ ساتھ گزارنے کے باوجود لگتا تھا کہ ہم ایک دن بھی ساتھ نہیں رہے۔ * پھر وہ یہ کہتے ہوئے مکہ کی جانب لوٹ آئی کہ اللہ کی قسم! اگر میں وہاں موجود ہوتی تو جہاں تیری وفات ہوئی ہے، میں تجھے وہیں دفن کرواتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6126]