🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

718. ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ
سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6167
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني محمد بن صالح، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة. قال محمد بن عمر: وحدثني محمد بن عبد الله ابن أخي الزُّهْري، عن الزُّهْري (1) . وحدثني موسى بن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه. وحدثني ابن أبي حَبيبةَ، عن داود بن الحُصَين، فيمن هاجر إلى أرض الحبشة المرةَ الأُولى (2) ، وأميرُهم جعفر بن أبي طالب: ومن بني أسَد (1) بن عبد العُزَّى: خالدُ (2) بن حِزَام أخو حَكيم، هَلَكَ في الطريق قبل أن دَخَلَ أَرضَ الحَبَشة. قال محمد بن عمر: فحدثني المغيرة بن عبد الرحمن الأسَدي، أخبرني أبي، قال: فيه نزلت ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ [النساء: 100] (3) . ذكرُ مناقب هشام بن حَكيم بن حِزام ﵁ - قد اتَّفق الشيخان ﵄ على إخراج حديث الزُّهْري عن عُرْوة [عن المِسوَر بن مَخرَمة] (1) وعبد الرحمن بن عبدٍ القارِيّ، أنهما سمعا عمرَ بن الخطّاب يقول: مررتُ بهشام بن حَكيم بن حِزام وهو يقرأ سورةَ البقرة في حياة رسول الله ﷺ، الحديثَ بطوله. قال: ومِن رَسْم ترتيب هذا الكتاب أن يكون ذكرُ خالد بن حِزام قبلَ حَكيم، وأن يكون ذكر هشام بن حَكيم بعدهما، لكنّي جمعتُ بينهم في هذا الموضع عند ذكر حَكيمٍ ليكون أقربَ إلى فَهْم المستفيد. ذكرُ مناقب حسّان بن ثابت الأنصاري ﵁ - النائبِ عن رسول الله ﷺ وجماعةِ المسلمين في هجاءِ الشِّرك والمشركين.
سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ عاصم بن عمر بن قتادہ اور دیگر محدثین سے روایت ہے کہ حبشہ کی پہلی ہجرت کے موقع پر، جس کے امیر سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، بنو اسد بن عبدالعزیٰ میں سے سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ (سیدنا حکیم بن حزام کے بھائی) بھی شامل تھے، وہ حبشہ پہنچنے سے قبل راستے میں ہی وفات پا گئے۔ مغیرہ بن عبدالرحمن اسدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 100] ”اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے، پھر اسے (راستے میں) موت آ پکڑے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا۔“
سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ امام بخاری و مسلم نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا گزر ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے ہوا جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے...“ (مکمل حدیث)۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ کتاب کی ترتیب کے مطابق خالد بن حزام کا ذکر حکیم سے پہلے اور ہشام کا ان کے بعد ہونا چاہیے تھا، لیکن میں نے انہیں یہاں اکٹھا کر دیا ہے تاکہ قاری کے لیے سمجھنا سہل ہو۔
اب سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا تذکرہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعتِ مسلمین کی جانب سے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6167]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، والمشهور أنَّ الذي نزلت فيه هذه الآية هو جندب بن ضمرة وليس خالد بن حزام، كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 2/ 229. وكذا أنكر هذا الأثر البلاذري في "أنساب الأشراف".» [ترقيم الرساله 6167] [ترقيم الشركة 6107]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں