المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
717. يَدُ السَّائِلِ أَسْفَلُ الْأَيْدِي
مانگنے والے کا ہاتھ دینے والوں کے ہاتھوں سے نیچا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6162
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأَسَدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا مِنْجاب بن الحارث، حَدَّثَنَا علي بن مُسْهِرٍ، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: كان حكيم بن حِزَام أعتَقَ مئةَ رَقَبة، وحَمَلَ على مئة بعيرٍ في الجاهلية، فلمّا أسلَم أَعتَقَ مئة رقبة، وحَمَلَ على مئة بعير، فقال لرسولِ الله ﷺ: أرأيتَ شيئًا كنتُ أصنعه في الجاهلية أتحنَّتُ، به هل لي فيه من أجرٍ؟ فقال له رسول الله ﷺ:"أَسلمتَ على ما سَلَفَ لك من أجرٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6047 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6047 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ایک سو غلام آزاد کئے، اور ایک سو اونٹ خیرات کئے، جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو نیک کام زمانہ جاہلیت میں کئے ہیں، کیا ان کے بدلے میں مجھے ثواب ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسلام لائے اور تمہارے لئے ان کا ثواب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6162]
حدیث نمبر: 6163
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا بَحْرُ بن نَصْر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، قال: أخبرني ابن أبي ذِئب، عن مُسلِم بن جُندُب، عن حَكِيم بن حِزَام، قال: سألتُ رسول الله ﷺ، فأعطاني، فألحَفْتُ عليه، فقال:"ما أنكَرَ مسألتَكَ يا حكيم، إنما هذا المالُ خَضِرةٌ حُلوة، وإنما هو [مع] ذلك أوساخُ أيدي الناس، وإنَّ يدَ الله فوق [يد] المُعطي، ويدَ المُعطي فوق يد السائل، ويدَ المُعطَى أسفلُ الأيدي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6048 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6048 - صحيح
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، میں نے مزید اصرار کے ساتھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ عطا کرنے کے بعد) فرمایا: اے حکیم! بے شک یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ عطا کرنے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور عطا کرنے والے کا ہاتھ مانگنے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور مانگنے والے کا ہاتھ ان سب کے نیچے ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6163]
حدیث نمبر: 6164
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، حدثني عائذ بن يحيى (1) ، عن أبي الحُوَيرث، عن عُمارةَ بن أُكَيمةَ اللَّيثي، عن حَكِيم بن حِزام قال: لقد رأيتُني يومَ بدرٍ وقد وَقَعَ بالوادي بِجَادٌ (2) من السماء قد سَدَّ الأُفق، فإذا الوادي يسيل نملًا (3) ، فوقع في نفسي أنَّ هذا شيءٌ من السماء أُيِّد به محمدٌ ﷺ، فما كانت إلَّا الهزيمةُ، وكانت الملائكةُ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ بدر میں دیکھا وادی کے اندر آسمان سے ایک دھواں سا آیا ہے جس نے پورے آسمان کو گھیر لیا ہوا ہے، اور وادی میں پانی بہنے لگ گیا، میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ کوئی چیز آسمان سے نازل ہوئی ہے، جس کے ذریعے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد تو شکست مشرکین کا مقدر بن گئی۔ وہ فرشتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6164]
حدیث نمبر: 6165
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أبو صالح، حدثني الليث، حدثني عُبيد الله بن المغيرة، عن عِرَاك بن مالك، أنَّ حَكِيم بن حِزَام قال: كان محمدٌ النبيُّ أحبَّ الناس إليَّ في الجاهلية، فلما تنبَّأَ وخرج إلى المدينة فشَهِدَ حكيمُ بن حِزام الموسمَ، فوجد حُلَّةً لِذِي يَزَن تُباع بخمسين درهمًا، فاشتراها ليُهدِيَها إلى رسول الله ﷺ، فقَدِمَ بها عليه، وأَرادَه على قبضِها، فأَبَى عليه؛ قال عُبيدُ الله: حَسِبتُ أنه قال:"إِنَّا لا نَقبلُ من المشركين شيئًا، ولكن إن شئتَ أخذناها بالثَّمن"، فأعطيتُها إياه حتَّى أتَى المدينة (1) ، فلَبِسها، فرأيتُها عليه على المنبر، فلم أَرَ شيئًا قطُّ أحسنَ منه فيها يومئذٍ، ثم أعطاها أسامةَ بنَ زيد فرآها حكيمٌ على أسامة فقال: يا أسامةُ، أنتَ تَلْبَسُ حُلَّةَ ذِي يَزَن؟! قال: نعم، لأنا خيرٌ من ذي يَزَن، ولأَبي خيرٌ من أبيه، ولأُمِّي خيرٌ من أُمِّه. قال حكيم: فانطلقتُ إلى مكة أُعجِّبُهم بقول أسامة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6050 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6050 - صحيح
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں، سب لوگوں سے زیادہ مجھے محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر گئے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ حج کے لئے آئے، انہوں نے ذی یزن کا ایک بہت خوبصورت جبہ دیکھا جو کہ پچاس درہم کا فروخت ہو رہا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کے لئے وہ جبہ خرید لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ کے طور پر پیش کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور (عبیداللہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ہم مشرکین کا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے، البتہ ہم یہ خرید لیتے ہیں۔ (سیدنا حکیم) فرماتے ہیں: میں نے وہ جبہ قیمتاً پیش کر دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ خرید لیا، سیدنا حکیم فرماتے ہیں) پھر جب میں ہجرت کر کے مدینہ منورہ آیا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جبہ پہنے ہوئے منبر پر جلوہ فرما دیکھا، اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جتنے خوبصورت لگ رہے تھے میں نے ان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جبہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دیا تھا۔ سیدنا حکیم نے سیدنا اسامہ پر یہ جبہ دیکھا تو فرمایا: اے اسامہ! تم ذی یزن کا جبہ پہنے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس لئے کہ میں ذی یزن سے بہتر ہوں اور میرا والد اس کے والد سے بہتر ہے اور میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہے۔ سیدنا حکیم فرماتے ہیں: پھر میں مکہ کی جانب آیا اور لوگوں کو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی یہ بات بہت خوشی کے ساتھ سنایا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6165]