🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

717. يَدُ السَّائِلِ أَسْفَلُ الْأَيْدِي
مانگنے والے کا ہاتھ دینے والوں کے ہاتھوں سے نیچا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6163
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا بَحْرُ بن نَصْر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، قال: أخبرني ابن أبي ذِئب، عن مُسلِم بن جُندُب، عن حَكِيم بن حِزَام، قال: سألتُ رسول الله ﷺ، فأعطاني، فألحَفْتُ عليه، فقال:"ما أنكَرَ مسألتَكَ يا حكيم، إنما هذا المالُ خَضِرةٌ حُلوة، وإنما هو [مع] ذلك أوساخُ أيدي الناس، وإنَّ يدَ الله فوق [يد] المُعطي، ويدَ المُعطي فوق يد السائل، ويدَ المُعطَى أسفلُ الأيدي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6048 - صحيح
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مال کا) سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، پھر میں نے اصرار کر کے دوبارہ سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حکیم! تمہارا سوال کرنا کتنا عجیب ہے، یقیناً یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے، اور بے شک اللہ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہے، اور دینے والے کا ہاتھ مانگنے والے کے ہاتھ کے اوپر ہے، اور جس کو دیا جائے اس کا ہاتھ سب سے نیچے والا ہاتھ ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6163]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مسلم بن جندب روايته عن حكيم بن حزام محمولة على الاتصال كما رجَّح ابن خزيمة، حيث قال في "التوحيد" 1/ 156: مسلم بن جندب قد سمع من ابن عمر غير شيء، وقال: أمرني ابن عمر أن أشتري له بدنة، فلست أنكر أن يكون قد سمع من حكيم بن حزام.» [ترقيم الرساله 6163] [ترقيم الشركة 6103] [ترقيم العلميه 6048]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6164
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، حدثني عائذ بن يحيى (1) ، عن أبي الحُوَيرث، عن عُمارةَ بن أُكَيمةَ اللَّيثي، عن حَكِيم بن حِزام قال: لقد رأيتُني يومَ بدرٍ وقد وَقَعَ بالوادي بِجَادٌ (2) من السماء قد سَدَّ الأُفق، فإذا الوادي يسيل نملًا (3) ، فوقع في نفسي أنَّ هذا شيءٌ من السماء أُيِّد به محمدٌ ﷺ، فما كانت إلَّا الهزيمةُ، وكانت الملائكةُ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمارہ بن اکیمہ لیثی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے غزوہ بدر کے دن خود کو دیکھا کہ وادی میں آسمان سے ایک سیاہ کملی (بادل کی طرح) اتری جس نے افق کو ڈھانپ لیا تھا، پھر اچانک وادی چیونٹیوں کی طرح (لشکر سے) بھر گئی، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ آسمان سے کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد کی گئی ہے، پھر بس (مشرکین کی) ہزیمت ہی ہوئی، اور وہ فرشتے ہی تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6164]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به محمد بن عمر - وهو الواقدي - ولا يعتد بما يتفرَّد به، وشيخه عائذ بن يحيى مجهول لا يُعرف رغم أنَّ الواقدي أكثَرَ عنه، وأبو الحُويرث - واسمه عبد الرحمن بن معاوية الزُّرقي - مختلف فيه.» [ترقيم الرساله 6164] [ترقيم الشركة 6104] [ترقيم العلميه 6049]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6165
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أبو صالح، حدثني الليث، حدثني عُبيد الله بن المغيرة، عن عِرَاك بن مالك، أنَّ حَكِيم بن حِزَام قال: كان محمدٌ النبيُّ أحبَّ الناس إليَّ في الجاهلية، فلما تنبَّأَ وخرج إلى المدينة فشَهِدَ حكيمُ بن حِزام الموسمَ، فوجد حُلَّةً لِذِي يَزَن تُباع بخمسين درهمًا، فاشتراها ليُهدِيَها إلى رسول الله ﷺ، فقَدِمَ بها عليه، وأَرادَه على قبضِها، فأَبَى عليه؛ قال عُبيدُ الله: حَسِبتُ أنه قال:"إِنَّا لا نَقبلُ من المشركين شيئًا، ولكن إن شئتَ أخذناها بالثَّمن"، فأعطيتُها إياه حتَّى أتَى المدينة (1) ، فلَبِسها، فرأيتُها عليه على المنبر، فلم أَرَ شيئًا قطُّ أحسنَ منه فيها يومئذٍ، ثم أعطاها أسامةَ بنَ زيد فرآها حكيمٌ على أسامة فقال: يا أسامةُ، أنتَ تَلْبَسُ حُلَّةَ ذِي يَزَن؟! قال: نعم، لأنا خيرٌ من ذي يَزَن، ولأَبي خيرٌ من أبيه، ولأُمِّي خيرٌ من أُمِّه. قال حكيم: فانطلقتُ إلى مكة أُعجِّبُهم بقول أسامة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6050 - صحيح
عراک بن مالک سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے، تو حکیم بن حزام حج کے موقع پر مکہ آئے، انہوں نے یمن کے بادشاہ ذی یزن کا ایک جبہ دیکھا جو پچاس درہم میں بک رہا تھا، انہوں نے اسے خرید لیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کریں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تحفہ قبول کرنے کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا؛“ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے یہ کہا: ”ہم مشرکوں سے کوئی چیز (بطورِ ہدیہ) قبول نہیں کرتے، لیکن اگر تم چاہو تو ہم اسے قیمت کے عوض لے سکتے ہیں،“ چنانچہ میں نے وہ جبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر وہی جبہ پہنے ہوئے تھے، اس دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو اس جبے میں نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دے دیا، حکیم نے اسامہ کو وہ پہنے ہوئے دیکھا تو کہا: اے اسامہ! کیا تم ذی یزن کا جبہ پہنتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، کیونکہ میں ذی یزن سے بہتر ہوں، میرے والد اس کے والد سے بہتر ہیں اور میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہیں۔“ حکیم کہتے ہیں کہ میں مکہ واپس آیا اور اسامہ کی اس بات پر لوگوں کو تعجب سے بتانے لگا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6165]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، دون قوله: "فرأيتها عليه على المنبر … " إلى آخره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي صالح، وهو عبد الله بن صالح، كاتب الليث بن سعد، وقد تفرَّد بالقول المشار إليه.» [ترقيم الرساله 6165] [ترقيم الشركة 6105] [ترقيم العلميه 6050]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6166
أخبرنا أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إبراهيم، قال: سمعتُ أَبي يحدِّث عن سُوَيد أبي حاتم (3) صاحبِ الطعام، حَدَّثَنَا مَطَر الورَّاق، عن حسّان بن بلال، عن حكيم بن حِزَام: أن النَّبِيّ ﷺ لمَّا بعثه واليًا إلى اليمن فقال:"لا تَمَسَّ القرآنَ إِلَّا وأنتَ طاهر" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب خالد بن حِزَام
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6051 - صحيح
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا: ”قرآن کریم کو مت چھونا مگر اس حال میں کہ تم باوضو (پاک) ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6166]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف سويد أبي حاتم، وهو صاحب أوهام وأغلاط، وكذا شيخه مطر بن طهمان الوراق، وقد غلط في هذا الحديث، فالذي أرسله النَّبِيّ ﷺ إلى اليمن هو عمرو بن حَزْم الأنصاري، وبعث معه بكتاب فيه أشياء منها هذا الحرف، وقد سلف حديث عمرو بن حَزْم هذا عند المصنّف برقم (1463).» [ترقيم الرساله 6166] [ترقيم الشركة 6106] [ترقيم العلميه 6051]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف سويد أبي حاتم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں