🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

729. ذِكْرُ إِسْلَامِ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى
سیدنا حویطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6201
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: حدثني إبراهيم بن جعفر بن محمود بن محمد بن مَسلَمة الأَشهَلي، عن أبيه قال: كان حُوَيطبُ بن عبد العزَّى قد عاش عشرين ومئة سنة، ستِّين في الجاهلية وستِّين في الإسلام، فلما وَلِيَ مروانُ بن الحَكَم المدينةَ في عمله الأول دخل عليه حويطبٌ مع مَشيَحَةٍ جِلَّةٍ: حَكيمِ بن حِزام ومَخرَمةَ بن نوفل، فتحدّثوا عنده وتفرَّقوا، فدخل عليه حويطبٌ يومًا بعد ذلك فتحدَّث عنده، فقال له مروان: ما سنُك؟ فأخبره، فقال له مروان: تأخَّر إسلامُك أيها الشيخُ حتَّى سَبَقَك الأحداثُ، فقال حويطبٌ: والله لقد هَمَمتُ بالإسلام غيرَ مرّةٍ، كلَّ ذلك يَعُوقُني أبوك عنه وينهاني ويقول: تَضَعُ شَرَفَك ودينَ آبائك لدينٍ مُحدَثٍ وتصيرُ تابعًا؟! قال: فأَسكَتَ مروانُ، ونَدِمَ على ما كان قال له، ثم قال حُوَيطِب: أما كان أخبرك عثمانُ ما لَقِيَ من أبيك حين أسلمَ؟ فازداد مروانُ غمًّا. ثم قال حُويطب: ما كان في قريشٍ أحدٌ من كُبَرائها الذين بَقُوا على دينِ قومهم إلى أن فُتِحت مكةُ أكرهَ لِمَا فُتِحَت عليه مني، ولكن المقاديرُ، ولقد شهدتُ بدرًا مع المشركين فرأيتُ عِبَرًا، الملائكةَ تقتل وتَأسِرُ بين السماء والأرض، فقلت: هذا رجلٌ ممنوع، ولم أذكُرْ ما رأيتُ، فانهزَمْنا راجعين إلى مكة، فأقَمْنا بمكة وقريشٌ تُسلِمُ رجلًا رجلًا، فلما كان يومُ الحُدَيبيَةِ حَضَرتُ وشَهِدتُ الصُّلحَ ومشيتُ فيه حتَّى تمَّ، وكلَّ ذلك أُريد الإسلامَ ويَأْبى الله ﷿ إلَّا ما يريد، فلما كتبنا صلحَ الحديبية كنت أَحدَ (1) شهودِه، وقلت: لا ترى قريشٌ من محمدٍ إلَّا ما يَسُوؤُها، قد رَضِيَت أن دافعَتْه بالرَّاح، ولما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ لعُمْرة القضيَّة وخرجت قريشٌ عن مكة، كنتُ فيمن تَخلَّف بمكة أنا وسُهَيلُ بن عمرو، لأن نُخرِجَ رسولَ الله ﷺ إذا مضى الوقتُ، فلما انقضَتِ الثلاثُ أقبلتُ أنا وسهيلُ بن عمرو فقلنا: قد مضى شَرْطُك، فاخرُجْ من بلدِنا، فصاحَ:"يا بلالُ، لا تَغِبِ الشمسُ وأَحدٌ من المسلمين بمكّةَ ممَّن قَدِمَ معنا" (2) .
ابراہیم بن جعفر بن محمود بن محمد بن سلمہ اشہلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں 120 سال گزارے اور 60 سال اسلام میں۔ جب مروان بن حکم کو پہلی مرتبہ مدینہ کا والی بنایا گیا تو سیدنا حویطب رضی اللہ عنہ چند جلیل القدر مشائخ حکیم بن حزام، اور مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے پاس آئے۔ اور کچھ گفتگو کی۔ اور چلے گئے۔ اس کے بعد ایک دن حویطب ان کے پاس گئے اور ان سے ہم کلام ہوئے۔ مروان نے ان سے کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انہوں نے ان کو بتایا۔ مروان نے کہا: اے شیخ تم نے بہت تاخیر سے اسلام قبول کیا، بعد والے لوگ آپ سے آگے نکل گئے۔ حویطب نے کہا: خدا کی قسم! میں نے کئی مرتبہ اسلام لانے کا ارادہ کیا، ہر مرتبہ تیرے والد نے مجھے ڈانٹ کر منع کر دیا۔ اور وہ یہ کہتے رہے کہ تم اپنی قوم اور اپنے آباء کے دین کو ایک نئے دین کی وجہ سے چھوڑ دو گے اور اس کے تابع ہو جاؤ گے؟ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مروان کو خاموش کرا دیا اور وہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمندہ ہوا۔ پھر حویطب نے کہا: کیا تمہیں سیدنا عثمان نے وہ حالات نہیں سنائے کہ جب سیدنا عثمان نے اسلام قبول کیا تھا اس وقت تمہارے والد نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ یہ سن کر مروان اور بھی آزردہ ہو گیا۔ پھر حویطب نے کہا: قریش مکہ کے بڑے بڑے لوگ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر ان میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ پریشان نہیں تھا۔ میں جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ شریک ہوا تھا۔ میں نے ایک بادل سا دیکھا، پھر میں نے ملائکہ کو جنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ اور وہ زمین سے آسمان تک حائل تھے۔ میں نے کہا: اس آدمی کا دفاع بہت مضبوط ہے۔ پھر جب وہ معاملات ذکر کئے جن کا جنگ احد میں مشاہدہ کیا تھا، پھر ہم وہاں سے مکہ کی جانب بھاگ نکلے، اور وہیں قیام کیا، قریشی لوگ ایک ایک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہونے لگ گئے۔ اور حدیبیہ کے موقع پر بھی حاضر ہوا، میں صلح میں بھی موجود تھا اور صلح مکمل ہونے تک میں بھی شامل تھا، لیکن اسلام دن بدن بڑھتا گیا اور اللہ تعالیٰ نے کفر کو کمزور کر دیا۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا گیا تو ان کے گواہوں میں آخری گواہ میں تھا۔ میں نے کہا: قریش محمد سے وہی معاملات دیکھیں گے جو ان کے لئے نقصان دہ ہوں گے، وہ لوگ اپنے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائے اور قریش مکہ ان کے مقابلے کے لئے نکلے تو اس وقت میں اور سہل بن عمرو مکہ میں رہ جانے والوں میں شریک تھے، تاکہ جب وقت گزر جائے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے باہر نکال دیں گے۔ جب تین دن پورے ہو گئے تو میں اور سہل بن عمرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ کا وقت پورا ہو چکا ہے، اب آپ ہمارے شہر سے چلے جائیے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو زور سے آواز دے کر کہا: اے بلال! جتنے لوگ ہمارے ساتھ عمرہ کے لئے آئے ہیں وہ سب شام ہونے سے پہلے پہلے مکہ سے نکل جائیں۔ محمد بن عمر ایک دوسری سند کے ہمراہ منذر بن جہم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو میں بہت گھبرایا تھا، میں خود مدینہ شریف سے باہر چلا گیا اور اپنے بیوی بچوں کو مختلف محفوظ مقامات پر چھپا دیا، میں چلتے چلتے عوف کے باغ میں پہنچا، وہاں پر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اور میرا آمنا سامنا ہو گیا۔ ان کے ساتھ میری پہلے سے بہت اچھی دوستی تھی۔ اور دوستی ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے، میں نے جب ان کو دیکھا تو بھاگ نکلا، انہوں نے اے ابومحمد کہہ کر مجھے آواز دی، میں نے لبیک کہہ کر جواب دیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: مجھے خوف طاری ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں کوئی خوف نہیں ہے، تو اللہ کے حکم سے امان میں ہے۔ یہ سن کر میں ان کی جانب لوٹ کر آ گیا، آ کر سلام کیا۔ انہوں نے کہا: تم اپنے گھر چلے جاؤ، میں نے کہا: کیا میرے لئے اپنے گھر جانے کی کوئی صورت ہے؟ خدا کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ میں زندہ گھر پہنچ سکتا ہوں یا اگر زندہ و سلامت گھر پہنچنے میں کامیاب ہو بھی گیا تو مجھے گھر میں مار دیا جائے گا۔ اور میرے بیوی بچے مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: تم اپنے بیوی بچوں سب کو ایک جگہ پر اکٹھے کرو، میں تجھے تیرے گھر تک پہنچاؤں گا۔ حویطب کہتے ہیں: سیدنا ابوذر میرے ساتھ ساتھ چلتے گئے اور راستے میں یہ اعلان کرتے گئے کہ حویطب کو امان دے دی گئی ہے، اس کو کچھ نہ کہا جائے۔ (مجھے میرے گھر پہنچا کر) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (میرے بارے میں) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں کو امان ہے سوائے ان لوگوں کے جن کے قتل کرنے کا ہم نے حکم سادر فرما دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں مطمئن ہو گیا اور اپنے اہل و عیال کو واپس لا کر گھر چھوڑا، اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا آیا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے ابومحمد! تم کب تک (اسی طرح چھپتے چھپاتے زندگی گزارو گے؟) تم نے ہر موقع ضائع کر دیا ہے، اور بہت ساری بھلائیاں کھو بیٹھے ہو، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے ہیں، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، سب سے زیادہ بردبار اور حوصلے کے پیکر ہیں۔ ان کی شرافت، تیری شرافت ہے اور ان کی عزت، تیری عزت ہے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے میں آپ کے ہمراہ چلوں گا۔ تم مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے جانا۔ پھر میں ان کے ہمراہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب اسلام قبول کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کہو السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ، میں نے ایسے ہی کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا: وعلیک السلام حویطب۔ میں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شکر ہے اس اللہ تبارک و تعالیٰ کا جس نے تمہیں ہدایت دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قبول اسلام کو صیغہ راز میں رکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ مال قرضہ مانگا، میں نے چالیس ہزار دینار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کئے۔ جنگ حنین اور غزوہ طائب میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے مال غنیمت سے ایک سو اونٹ مجھے عطا فرمائے۔ محمد بن عمر ایک اور سند کے ہمراہ فرماتے ہیں کہ حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ شریف والا مکان سیدنا معاویہ سے چالیس ہزار دینار کے عوض خریدا تھا۔ ان سے لوگوں نے کہا: اے ابومحمد! کیا تم نے یہ گھر واقعی چالیس ہزار دینار میں خریدا ہے؟ انہوں نے کہا: جس آدمی کے پانچ بچے ہوں، اس کے پاس چالیس ہزار دینار کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عبدالرحمن بن ابی الزناد کہتے ہیں: ان دنوں ہر ماہ ان کے رزق میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پھر اس کے بعد سیدنا حویطب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آ گئے، وہیں قیام کیا، اصحاب مصاحف کے نزدیک بلاط میں ان کا ایک گھر تھا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ 54 ہجری کو مدینہ میں فوت ہوئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 120 سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6201]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6202
قال ابن عمر: وأخبرني إبراهيم بن جعفر بن محمود، عن أبيه. وحدَّثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن موسى بن عُقْبة، عن المنذِر بن جَهْم قال: قال حُوَيطبُ بن عبد العزّى: لما دَخَلَ رسول الله ﷺ مكة عامَ الفَتْح خفتُ خوفًا شديدًا، فخرجتُ من بيتي، وفرَّقتُ عِيالى في مواضعَ يأمَنون فيها، ثم انتهيتُ إلى حائط عَوْف، فكنتُ فيه، فإذا أنا بأبي ذرٍّ الغِفَاري وكانت بيني وبينه خُلَّةٌ، والخُلَّةُ أبدًا نافعةٌ، فلما رأيته هربتُ منه، فقال: أبا محمدٍ! فقلت: لبَّيْكَ، قال: ما لك؟ قلت: الخوفُ، قال: لا خوفَ عليك، تعالَ (1) أنت آمنٌ بأمان الله ﷿، فرجعتُ إليه، فسلَّمتُ عليه، فقال: اذهَبْ إلى منزلك، قلت: هل لي سبيلٌ إلى منزلي، والله ما أُراني أَصِلُ إلى بيتي حيًّا حتَّى أُلفَى فأُقتَل، أو يُدخَلَ عليَّ منزلي فأُقتل، وإنَّ عِيالي لفي مواضِعَ شتَّى، قال: فاجمَعْ عيالَك في موضع، وأنا أبلُغُ معك إلى منزلك، فبَلَغَ معي، وجعل يُنادي: إِنَّ حُويطبًا آمنٌ فلا يُهَجْ، ثم انصرف أبو ذرٍّ إلى رسول الله ﷺ فأخبره، فقال:"أوليسَ قد آمَنَ الناسُ كلُّهم إلَّا من أَمرتُ بقتلِهم؟". قال: فاطمأننتُ ورَدَدتُ عِيالي إلى منازلهم، وعاد إليَّ أبو ذر، فقال لي: يا أبا محمد، حتَّى متى (2) وإلى متى؟! قد سُبقتَ في المواطن كلها، وفاتَكَ خيرٌ كثيرٌ وبقي خيرٌ كثير، فأتِ رسولَ الله ﷺ فأسلِمْ تَسلَمْ، ورسولُ الله ﷺ أبرُّ الناسِ وأوصلُ الناس وأحلمُ الناس، شَرَفُه شرفُك، وعِزُّه عزُّك، قال: قلت: فأنا أخرجُ معك فآتِيهِ، فخرجتُ معه حتَّى أتيتُ رسولَ الله ﷺ بالبطحاءِ وعنده أبو بكر وعمر، فوقفتُ على رأسه وسألتُ أبا ذرٍّ: كيف يقال إذا سُلِّمَ عليه؟ قال: قل: السلام عليك أيُّها النبيُّ ورحمةُ الله وبركاتُه، فقلتُها، فقال:"وعليكَ السلام حُويطِبُ". فقلت: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنك رسولُ الله، فقال رسول الله:"الحمدُ لله الذي هَدَاك"، قال: وسُرَّ رسولُ الله ﷺ بإسلامي، واستقرَضَني مالًا فأقرضتُه أربعينَ ألفَ درهمٍ، وشَهِدتُ معه حُنينًا والطائفَ، وأعطاني من غنائم حُنينٍ مئةَ بعير (3) .
حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو میں سخت خوفزدہ ہو گیا اور اپنا گھر چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا۔ میں نے اپنے اہل و عیال کو بھی مختلف محفوظ مقامات پر چھپا دیا، پھر میں خود ’حائطِ عوف‘ (ایک باغ) میں جا چھپا۔ وہاں میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میرے اور ان کے درمیان پرانی دوستی تھی اور دوستی ہمیشہ (شر سے) بچاؤ کا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو (ڈر کر) بھاگنے لگا، انہوں نے آواز دی: اے ابو محمد! میں نے کہا: لبیک۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: خوف (ستائے جا رہا ہے)۔ انہوں نے فرمایا: تم پر کوئی خوف نہیں، تم اللہ عزوجل کی امان میں ہو۔ چنانچہ میں ان کے پاس واپس آ گیا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا: اپنے گھر چلے جاؤ۔ میں نے کہا: کیا میرے لیے اپنے گھر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے گھر تک زندہ پہنچ پاؤں گا، اس سے پہلے ہی میں پکڑ کر قتل کر دیا جاؤں گا یا میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے مار دیا جائے گا، جبکہ میرے اہل و عیال بھی مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو ایک جگہ جمع کرو، میں تمہارے ساتھ تمہارے گھر تک چلتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ گھر تک آئے اور راستے بھر اعلان کرتے رہے کہ "حویطب کو امان حاصل ہے، اسے کوئی تنگ نہ کرے"۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے ان لوگوں کے علاوہ جن کے قتل کا حکم دیا تھا، تمام لوگوں کو امان نہیں دے دی تھی؟۔ حویطب کہتے ہیں: تب مجھے اطمینان ہوا اور میں نے اپنے اہل و عیال کو گھر واپس بلا لیا۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا: اے ابو محمد! آخر کب تک (حق سے دور رہو گے)؟ تم تمام اہم مواقع پر پیچھے رہ گئے اور بہت سی خیر سے محروم رہے، ابھی بھی بہت سی خیر باقی ہے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر نیک، صلہ رحمی کرنے والے اور بردبار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف تمہارا ہی شرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت تمہاری ہی عزت ہے۔ میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ نکلا اور بطحاء کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑا ہوا اور ابوذر سے پوچھا کہ سلام کیسے کرنا ہے؟ انہوں نے کہا: یوں کہو "السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"۔ میں نے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک السلام حویطب۔ پھر میں نے کلمہ شہادت پڑھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت دی۔ حویطب کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اسلام لانے پر بہت خوش ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ مال قرض مانگا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس ہزار درہم قرض دیے۔ میں غزوہ حنین اور طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ عطا فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6202]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں