المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
745. مَجِيءُ سَعْدٍ لِيَحْرُسَ النَّبِيَّ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ
اندھیری رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا آنا
حدیث نمبر: 6245
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن عامر، عن عائشة قالت: أَرِقَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ ليلة، فقال:"ليتَ رجلًا يَحرُسُني من أصحابي الليلةَ"، قالت: وسمعنا صوتَ السِّلاح، فقال رسول الله ﷺ:"مَن هذا؟" فقال سعدُ بن أبي وقاص: أنا يا رسولَ الله، جئتُ أحرُسُك، قالت عائشة: فنامَ رسولُ الله ﷺ حتَّى سمعتُ غَطِيطَه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6125 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6125 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آ رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاش کہ میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد آج کی رات میرا پہرہ دیتا،“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ سنی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں ہوں، میں آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں،“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایسے اطمینان سے) سو گئے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6245]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6245]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 6245] [ترقيم الشركة 6182] [ترقيم العلميه 6125]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6246
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبّاني وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حَدَّثَنَا عِمرانُ بن موسى القزَّاز، حَدَّثَنَا عبد الوارث بن سعيد، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة، عن نُعيم بن أبي هند، عن أبي حازم، عن حُسين بن خارجةَ قال: لما جاءت الفتنةُ الأُولى أَشكلَتْ عليَّ، فقلت: اللهمَّ أرِني من الحق أمرًا أتمسَّكُ به، فأُرِيتُ فيما يَرى النائمُ الدنيا والآخرة، وكان بينهما حائطٌ غيرُ طويل، وإذا أنا تحتَه، فقلت: لو تسلَّقتُ هذا الحائط حتَّى أنظرَ إلى قتلى أشجَعَ فيُخبِروني، قال: فانهبَطتُ بأرضٍ ذاتِ شجر، فإذا بنفرٍ جلوسٍ، فقلت: أنتم الشهداءُ؟ قالوا: نحن الملائكة، قلت: فأين الشهداءُ؟ قالوا: تقدَّم إلى الدَّرَجات، فارتفعتُ درجةً، الله أعلمُ بها من الحُسْن والسَّعَة، فإذا أنا بمحمدٍ ﷺ، وإذا إبراهيمُ شيخٌ، وإذا هو يقول لإبراهيم: استغفِرْ لأمَّتي، وإبراهيم يقول: إنك لا تدري ما أحدَثُوا بعدك، أَهراقوا دماءَهم، وقتلوا إمَامَهم، فهَلَّا فعلوا كما فعل سعدٌ خليلي! فقلت: والله لقد رأيتُ رُؤْيا لعلَّ الله ينفعُني بها، أذهبُ فأَنظرُ مكانَ سعدٍ فأكونُ معه. فأتيتُ سعدًا فقَصَصتُ عليه القصة، قال: فما أكثرَ بها فَرَحًا، وقال: لقد خابَ من لم يكن إبراهيمُ خليلَه، قلت: مع أيِّ الطائفتينِ أنت؟ قال: ما أنا مع واحدةٍ منهما، قال: قلت: فما تأمرُني؟ قال: ألك غنمٌ؟ قلت: لا، قال: فاشتَرِ شاءً (1) فكن فيها حتَّى تَنجَليَ (2) . أخبرنا الشيخ أبو بكر محمد بن عبد العزيز بن أحمد بن محمد بن شاذانَ الجَوهَري ﵀ بقِراءتي عليه سنةَ تسعٍ وأربعين وأربع مئة، قال: أنبأَني الحاكمُ الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمدَوَيهِ الحافظُ ﵁، قال: ذكرُ الأَرقَم بن أبي الأَرقَم المخزومي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6126 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6126 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حسین بن خارجہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب پہلا فتنہ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد) برپا ہوا تو وہ مجھ پر مشتبہ ہو گیا، پس میں نے دعا کی: اے اللہ! مجھے حق کا وہ راستہ دکھا دے جس پر میں ثابت قدم رہوں، چنانچہ مجھے خواب میں دنیا اور آخرت دکھائی گئی اور ان دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی، میں اس دیوار کے سائے میں کھڑا تھا، میں نے سوچا کہ اگر میں اس دیوار پر چڑھ جاؤں تو میں ان مقتولین کو دیکھ سکوں گا جو (فتنے میں) ہلاک ہوئے تاکہ وہ مجھے حقیقت حال بتائیں، راوی کہتے ہیں: پھر میں درختوں والی ایک زمین پر اترا جہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے، میں نے پوچھا: کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم فرشتے ہیں، میں نے پوچھا: شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: ان درجات کی طرف آگے بڑھو، پس میں ایک ایسے درجے پر چڑھا جو خوبصورتی اور وسعت میں بے مثال تھا، وہاں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک بزرگ کی صورت میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے فرما رہے تھے: ”میری امت کے لیے مغفرت طلب کریں،“ تو ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا فتنے کھڑے کیے، انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا اور اپنے امام کو قتل کر دیا، کاش انہوں نے ایسا ہی کیا ہوتا جیسا میرے خلیل سعد نے کیا!“ میں نے سوچا کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے جس سے اللہ مجھے نفع دے گا، میں سیدنا سعد (بن ابی وقاص) کے پاس جاتا ہوں اور ان کے پاس رہوں گا، چنانچہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں سارا قصہ سنایا، وہ اس خواب کو سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ”وہ شخص محروم رہا جس کے ابراہیم علیہ السلام خلیل نہ ہوں،“ میں نے پوچھا: آپ کس گروہ کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں ان میں سے کسی کے ساتھ نہیں ہوں،“ میں نے پوچھا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس بکریاں ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”پھر کچھ بکریاں خرید لو اور انہی میں رہو یہاں تک کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل حسين بن خارجة، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو حازم سلمان الأشجعي، وهو تابعيّ كبير ذكره الحافظ ابن حجر في القسم الثالث من "الإصابة" 2/ 172، وهم الذين لهم إدراك للنبي ﷺ ولو لم يروه، وذكره ابن حبان في "الثقات" 4/ 155، وباقي رجال الإسناد ثقات.» [ترقيم الرساله 6246] [ترقيم الشركة 6183] [ترقيم العلميه 6126]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل حسين بن خارجة