🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

745. مَجِيءُ سَعْدٍ لِيَحْرُسَ النَّبِيَّ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ
اندھیری رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6244
حدثناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حَدَّثَنَا مكِّيّ بن إبراهيم، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد؛ قال: جاء الحارثُ بن البَرْصاء وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إني سمعت مروانَ يزعُمُ أنَّ مالَ الله مالُه، مَن شاء أعطاه ومَن شَاء مَنَعَه، فقال له: أنت سمعتَه يقول ذلك؟ قال: نعم، قال سعيد: فأَخذَ بيدي سعدٌ وبيدِ الحارث حتَّى دخل على مروان، فقال: يا مروانُ، أنت تَزعُمُ أَنَّ مالَ الله مالُك، من شئتَ أعطَيتَه، ومن شئتَ منعتَه؟ قال: نعم (1) ، قال: فادْعُ، ورفع سعدٌ يديه، فوَثَبَ إليه مروانُ وقال: أَنشُدُك الله أن تدعوَ، هو مالُ الله مَن شاء أعطاه، ومَن شاء مَنَعَه (2) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حارث بن برصاء بازار سے آئے، اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے ابواسحاق! میں نے سنا ہے، مروان کہتا ہے: اللہ کا مال اس کا مال ہے، وہ جس کو چاہے دے سکتا ہے، اور جس سے چاہے روک سکتا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے خود اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد نے میرا اور حارث کا ہاتھ پکڑا اور مروان کے پاس چلے گئے، اس کے پاس جا کر فرمایا: اے مروان! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ کا مال، تیرا مال ہے؟ اور تو جسے چاہے دے دے اور جس سے چاہے روک لے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے یہ کہا ہے۔ سیدنا سعد نے ہاتھ اٹھا کر کہا: کیا میں تیرے لئے بددعا کروں؟ تو مروان اچھل کر آپ کی جانب بڑھا اور کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ میرے لئے بددعا نہ کریں۔ وہ مال اللہ کا ہے، وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جس سے چاہے روک لے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6244]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6245
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن عامر، عن عائشة قالت: أَرِقَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ ليلة، فقال:"ليتَ رجلًا يَحرُسُني من أصحابي الليلةَ"، قالت: وسمعنا صوتَ السِّلاح، فقال رسول الله ﷺ:"مَن هذا؟" فقال سعدُ بن أبي وقاص: أنا يا رسولَ الله، جئتُ أحرُسُك، قالت عائشة: فنامَ رسولُ الله ﷺ حتَّى سمعتُ غَطِيطَه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6125 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آ رہی تھی، آپ نے فرمایا: کاش کہ اس رات میرے صحابہ میں سے کوئی چوکیداری کرے، ام المومنین فرماتی ہیں: ہم نے ہتھیاروں کی آوازیں سنیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: یہ کون ہے؟ تو آگے سے جواب آیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سعد ابن ابی وقاص ہوں۔ میں آپ کی پہرے داری کرنے کے لئے آیا ہوں، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے آ جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی سکون کی نیند سوئے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں