🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

747. قِيَامُ النَّبِيِّ فِي دَارِ الْأَرْقَمِ
دار ارقم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6250
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني عثمان بن هِنْد بن عبد الله بن عثمان بن الأرقَم بن أبي الأرقَم المخزومي قال: أخبرني أَبي، عن يحيى بن عثمان بن الأرقَم، حدثني جدِّي عثمان بن الأرقَم أنه كان يقول: أنا ابن سُبعِ الإسلام؛ أسلمَ أبي سابعَ سبعةٍ، وكانت دارُه على الصَّفَا، وهي الدار التي كان النَّبِيُّ ﷺ يكون فيها في الإسلام، وفيها دَعَا الناسَ إلى الإسلام، فأسلَمَ فيها قومٌ كثير، وقال رسول الله ﷺ ليلةَ الاثنين فيها:"اللهم أعِزَّ الإسلام بأحبِّ الرجلين إليك: عمرَ بن الخطَّاب، أو عَمْرِو بن هشام"، فجاء عمرُ بن الخطَّاب من الغدِ بُكْرةً، فأسلَمَ في دار الأرقم، وخرجوا منها وكبَّروا، وطافُوا بالبيت ظاهرين. ودُعِيَت دارُ الأرقم دارَ الإسلام، وتَصدَّق بها الأرقمُ على ولدِه، فقرأتُ نسخةَ صدقةِ الأرقم بداره: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما قَضَى الأرقمُ في رَبْعِه ما حازَ الصَّفَا، أنها صدقةٌ بمكانها من الحَرَم لا تُباعُ ولا تُورَثُ؛ شَهِدَ هشامُ بن العاص وفلانٌ مولى هشام بن العاص، قال: فلم تَزَلْ هذه الدارُ صدقةً قائمةٌ، فيها ولدُه يَسكُنون ويُؤاجِرون ويأخذون غَلَّتَها حتَّى كان زمنُ أبي جعفر (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عثمان بن ارقم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: میں اس شخص کا بیٹا ہوں جو اسلام میں ساتویں نمبر پر تھا، میرے والد ساتویں شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا، ان کا گھر کوہِ صفا پر واقع تھا اور یہ وہی گھر ہے جس میں اسلام کے ابتدائی دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرما رہے تھے، اسی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور یہاں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کی رات اسی گھر میں یہ دعا فرمائی تھی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَوْ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ» اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو شخص تجھے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ و عزت عطا فرما، چنانچہ اگلے دن صبح سویرے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور دارِ ارقم میں اسلام لائے، پھر سب لوگ وہاں سے (حق کے اظہار کے لیے) تکبیریں بلند کرتے ہوئے نکلے اور اعلانیہ بیت اللہ کا طواف کیا، اسی مناسبت سے دارِ ارقم کو دارِ اسلام پکارا جاتا تھا، سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ نے اس گھر کو اپنی اولاد کے لیے صدقہ (وقف) کر دیا تھا، میں نے خود اس مکان کے وقف نامے کی نقل پڑھی ہے جس کی عبارت یہ تھی: بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ فیصلہ ہے جو ارقم نے صفا کے قریب واقع اپنے اس مکان کے بارے میں کیا، یہ حدودِ حرم میں اپنی جگہ پر صدقہ (وقف) ہے، اسے نہ تو فروخت کیا جائے گا اور نہ ہی اسے وراثت میں تقسیم کیا جائے گا، اس پر ہشام بن عاص اور ہشام بن عاص کے فلاں مولیٰ گواہ ہیں، راوی کہتے ہیں کہ یہ گھر مستقل طور پر وقف رہا جس میں ان کی اولاد رہائش پذیر رہی، وہ اسے کرائے پر بھی دیتے اور اس کا کرایہ وصول کرتے رہے یہاں تک کہ خلیفہ ابو جعفر منصور کا دور آگیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6250]
تخریج الحدیث: «وإسناده هذا الخبر ضعيف، فالواقدي فيه كلام معروف، ومن فوقه مجاهيل، عثمان بن هند وأبوه لم نقف لهما على ترجمة، وأما يحيى بن عثمان بن الأرقم: فهو يحيى بن عمران بن عثمان، روى عنه اثنان آخران غير هند بن عبد الله المذكور هنا كما في "التاريخ الكبير" للبخاري 8/ 297، ...» [ترقيم الرساله 6250] [ترقيم الشركة 6186] [ترقيم العلميه 6129]

الحكم على الحديث: وإسناده هذا الخبر ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں