🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

763. ذِكْرُ حِفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ
ابو ہریرہ کے حفظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6295
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن محمد بن عُمارة بن عمرو بن حَزْم: أنه قَعَدَ في مجلسٍ فيه أبو هريرة، وفيه مَشْيَخة من أصحاب رسول الله ﷺ بضعةَ عشرَ رجلًا، فجعل أبو هريرة يحدِّثُهم عن رسول الله ﷺ، يُنكِره بعضُهم ويَعرِفه البعضُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فعرفتُ يومئذٍ أن أبا هريرة أحفظُ الناسِ عن رسول الله ﷺ (4) .
محمد بن عمارہ بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دس سے زیادہ عمر رسیدہ صحابہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنانے لگے، ان میں سے بعض صحابہ کسی حدیث کا انکار کرتے اور بعض اسے پہچان لیتے، یہاں تک کہ انہوں نے کئی بار ایسا کیا، تو میں نے اسی دن جان لیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو لوگوں میں سب سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6295]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل إسماعيل بن أبي أويس وشيخه ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن بن أبي الزناد. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 186 - 187، وابن عساكر 67/ 339 من طريق إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 6295] [ترقيم الشركة 6228]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6296
حدثني محمد بن عُبيدٍ الفقيه أخبرنا أبو حامد الشَّرْقي ومَكّي بن عَبْدَان قالا: حَدَّثَنَا أبو الأزهَر، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير، حَدَّثَنَا أبي قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يحدِّث عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن أبي أَنس مالك بن أبي عامر قال: كنت عند طلحةَ بن عبيد الله، فدخل عليه رجلٌ فقال: يا أبا محمد واللهِ ما ندري هذا اليَمانِي أعلمُ برسول الله ﷺ أم أنتم؟ يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل - يعني أبا هريرة -! فقال طلحة: والله ما نَشُكُّ أنه سمع من رسول الله ﷺ ما لم نسمع، وعَلِمَ ما لم نعلم إنَّا كنَّا قومًا أغنياءَ لنا بيوتٌ وأهْلُونَ، كنّا نأتي نبيَّ الله ﷺ طَرَفَي النهار ثم نَرجِع، وكان أبو هريرة مِسكينًا لا مالَ له ولا أهلَ ولا ولدَ، إنما كانت يدُه مع يدِ النَّبِيّ ﷺ، وكان يَدُور معه حيثُ ما دار، ولا نشكُّ أنه قد عَلِم ما لم نعلم، وسَمِع ما لم نسمع، ولم يتَّهِمْه أحدٌ منا أن يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6172 - على شرط مسلم
ابوانس مالک بن ابی عامر بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص داخل ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابومحمد! اللہ کی قسم ہمیں معلوم نہیں کہ یہ یمنی (ابوہریرہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہے یا کیا بات ہے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ باتیں کہتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائیں —یعنی اس کا اشارہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا—!“ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ سنا ہے جو ہم نے نہیں سنا، اور وہ کچھ جانا ہے جو ہم نے نہیں جانا، کیونکہ ہم مالدار لوگ تھے، ہمارے گھر بار اور اہل و عیال تھے، ہم دن کے دونوں حصوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور پھر واپس چلے جاتے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسکین تھے، نہ ان کے پاس مال تھا، نہ اہل و عیال اور نہ اولاد، ان کا ہاتھ تو بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رہتا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر جگہ موجود رہتے تھے، اس لیے ہمیں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے وہ کچھ جانا جو ہم نہ جان سکے اور وہ کچھ سنا جو ہم نہ سن سکے، اور ہم میں سے کسی نے بھی ان پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ایسی بات لگائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6296]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. أبو الأزهر: هو أحمد بن الأزهر النيسابوري.» [ترقيم الرساله 6296] [ترقيم الشركة 6229] [ترقيم العلميه 6172]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں