المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
766. ذِكْرُ مَنْ رَوَى مِنَ الصَّحَابَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
ان صحابہ کا ذکر جنہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی
حدیث نمبر: 6300
حدَّثَناه (1) إبراهيم بن المستمِرِّ البصري، حَدَّثَنَا عُبَيس (2) بن مرحوم العَطّار، حَدَّثَنَا حاتم بن إسماعيل، عن أبي بكر بن يحيى، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يُشهِرنَّ أحدكم على أخيه السيفَ، لعلَّ الشيطانَ يَنزِعُ في يده فيقعُ في حُفْرةٍ من حُفَر النار". قال أبو هريرة: سمعتُه من سهل بن سعدٍ الساعديِّ سَمِعَه من رسول الله ﷺ (3) . قال أبو بكر: فحِرصُه على العلم يَبْعَثُه على سماع خَبَرٍ لم يَسمعْه من النَّبِيّ ﷺ ممَّن هو أقلُّ روايةً عن النَّبِيّ ﷺ (4) منه، وإنما يَتكلَّم في أبي هريرة لدَفْعِ أخباره مَن قد أَعمى اللهُ قلوبَهم فلا يَفهَمون معانيَ الأخبار: إما معطِّلٌ جَهْميٌّ يسمع أخبارَه التي يرويها خلافَ مذهبِهم الذي هو كفرٌ، فيَشتِمون أبا هريرة ويَرمُونه بما اللهُ تعالى قد نزَّهَه عنه، تمويهًا على الرَّعَاعِ والسُّفَّل أنَّ أخباره لا تَثبُت بها الحُجَّةُ. وإما خارجيٌّ يرى السيفَ على أمَّة محمدٍ ﷺ، ولا يرى طاعةَ خليفةٍ ولا إمام، إذا سمع أخبَار أبي هريرة ﵁ عن النَّبِيّ ﷺ خلافَ مذهبهم الذي هو ضلالٌ، لم يَجِدْ حِيلةً في دَفْع أخبارِه بحُجَّةٍ وبُرهانٍ، كان مَفزَعُه الوَقيعةَ في أبي هريرة. أو قَدَريٌّ اعتَزلَ الإسلامَ وأهلَه، وكفَّر أهلَ الإسلام الذين يُثبِتون الأقدارَ الماضية التي قدَّرها الله تعالى وقَضَاها قبل كَسْب العبادِ لها، إذا نَظَرَ إلى أخبار أبي هريرة التي قد رواها عن النَّبِيّ ﷺ في إثبات القَدَر، لم يَجِدْ حُجَّةً تؤيِّد (1) صحَّةَ مَقالتِه التي هي كفرٌ وشِركٌ، كانت حُجّتُه عند نفسه أنَّ أخبارَ أبي هريرة لا يجوز الاحتجاجُ بها. أو جاهلٌ يتعاطى الفقهَ ويَطلُبه من غير مَظانِّه، إذا سمع أخبارَ أبي هريرة فيما يخالفُ مذهبَ من قد اجتَبى مذهبَه وأخباره تقليدًا بلا حُجّة ولا بُرهان، تكلَّم في أبي هريرة ودَفَعَ أخباره التي تخالف مذهبَه، ويحتجُّ بأخباره على مُخالفِيه إذا كانت أخبارُه موافقةً لمذهبه. وقد أَنكَر بعضُ هذه الفِرَق على أبي هريرة أخبارًا لم يَفهَموا معناها أنا ذاكرٌ بعضَها بمشيئة الله ﷿. ذَكَرَ الإمامُ أبو بكر ﵀ في هذا الموضع حديثَ عائشة الذي تقدَّم ذِكْري له (2) ، وحديثَ أبي هريرة:"عُذِّبَت امرأةٌ في هرَّة" (3) ، و"مَن كان مصلِّيًا بعد الجُمعة" (4) ، وما يعارضُه من حديث ابن عُمر، والأمرَ بالوضوء ممَّا مَسَّت النارُ (5) ، وذِكرُها والكلامُ عليها يَطُول. قال الحاكم ﵀: وأنا ذاكرٌ بمشيئةِ الله ﷿ في هذا روايةَ أكابر الصحابة ﵃ أجمعين عن أبي هريرة، فقد روى عنه زيدُ بن ثابت، وأبو أيوب الأنصاريُّ، وعبد الله بن عبّاس، وعبد الله بن عُمر، وعبد الله بن الزُّبير، وأُبيُّ بن كعب، وجابر بن عبد الله، وعائشةُ، والمِسوَرُ بن مَخرَمة، وعُقْبة بن الحارث، وأبو موسى الأشعريُّ، وأنسُ بن مالك، والسائبُ بن يزيد، وأبو رافع مولى رسول الله ﷺ، وأبو أُمامةَ بن سهل، وأبو الطُّفيل، وأبو نَضْرة الغِفاري، وأبو رُهْم الغِفاري، وشدّاد بن الهادِ، وأبو حَدرَدٍ عبد الله بن حَدرَد الأسلمي، وأبو رَزِينٍ العُقَيلي، وواثلةُ بن الأسقَع، وقَبِيصة بن ذُؤيب، وعمرو بن الحَمِق، والحجّاج الأسلمي، وعبد الله بن عُكَيم، والأغرُّ الجُهَني، والشَّريد بن سُوَيد، ﵃ أجمعين، فقد بلغ عددُ من روى عن أبي هريرة من الصحابة ثمانيةً وعشرين رجلًا. فأما التابعون فليس فيهم أجَلُّ ولا أشهرُ وأشرفُ وأعلمُ من أصحاب أبي هريرة، وذِكرُهم في هذا الموضع يَطُول لكَثْرتهم، واللهُ يَعصِمُنا من مخالفة رسولِ ربِّ العالمين، والصحابةِ المُنتجَبِين، وأئمَّةِ الدِّين من التابعين ومَن بعدهم من أئمة المسلمين ﵃ أجمعين، في أمرِ الحافظِ علينا شرائعَ الدين، أبو هريرة ﵁.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی پر تلوار نہ سونتے، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان اس کے ہاتھ سے تلوار چلا دے اور وہ دوزخ میں جانے کا سبب بن جائے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سہل بن سعد ساعدی کو یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طلب حدیث پر حرص ہی ہے کہ جو حدیث انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی وہ اس صحابی سے لیتے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر ان کی روایت نہ لینے کے لئے وہی شخص اعتراض کرتا ہے جس کا دل اللہ تعالیٰ نے اندھا کر دیا ہے اور وہ حدیث کے مفہوم اور معانی کو نہیں سمجھتا۔ کچھ لوگ معطلی جہمی ہیں، یہ لوگ جب اپنے کفر مذہب کے خلاف کوئی روایت سنتے ہیں تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ان پر ایسے ایسے الزامات لگاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رکھا ہے، یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث قابل حجت نہیں ہیں۔ کچھ خارجی لوگ ہیں جو کہ امت محمدیہ پر تلوار چلانے کو جائز سمجھتے ہیں، خلیفہ کی اطاعت لازم نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی امام کی اطاعت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کوئی بھی حدیث اپنے گمراہ مذہب کے خلاف سنتے ہیں تو ان کی حدیث کا دفاع کرنے کے کسی حیلے پر کوئی دلیل اور برہان نہیں پاتے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔ کچھ قدری لوگ ہیں، جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر دیا، اور یہ لوگ ان مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جو گزشتہ تقدیر کی اسی طرح اتباع کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے وہ تقدیر بندوں کے کسب سے پہلے بنائی ہے اور ان کا فیصلہ کیا ہے۔ جب وہ لوگ سیدنا ابوہریرہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کردہ احادیث کو دیکھتے ہیں تو ان کو کوئی ایک بھی ایسی دلیل نہیں ملتی جس کی بنیاد پر وہ اپنے کفریہ اور شرکیہ موقف کی تائید کر سکیں۔ وہ اپنے دل میں سوچ لیتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیث قابل حجت نہیں ہیں۔ یا کوئی فقہ دانی کا دعویدار جاہل شخص جو فقہ کو اس کے بنیادی اصولوں سے ہٹ کر حاصل کرتا ہے، جب وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کوئی حدیث اس امام کے مذہب کے خلاف پاتا ہے جس کا مذہب اور احادیث بغیر کسی دلیل و حجت کے صرف تقلیدی بنیادوں پر اس نے قبول کیا ہوا ہے، تو وہ شخص سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ اور ان کا مخالف ہونے کے باوجود اگر ان کی مروی کوئی حدیث اس کے مذہب کے موافق ہو تو اس سے حجت پکڑتا ہے۔ اور اس گروہ کے بعد لوگوں نے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ان مرویات کا انکار ہی کر دیا ہے جس کا معنیٰ انہیں سمجھ نہیں آیا۔ اگر اللہ نے چاہا تو میں اس کے فضل و کرم سے ان میں سے بعض احادیث کا ذکر کروں گا۔ امام ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام پر ام المومنین سے مروی وہ حدیث نقل کی ہے جس کا ابھی میں ذکر کر آیا ہوں، یوں ہی سیدنا ابوہریرہ سے مروی وہ حدیث جس میں ایک بلی کی وجہ سے عورت کے دوزخ میں جانے کا ذکر ہے۔ اور وہ حدیث جس میں جمعہ کے بعد نماز پڑھنے والے آدمی کا ذکر ہے۔ یونہی اس کے معارض سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی حدیث۔ اور وہ حدیث کہ جس نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ ان کے بارے میں اگر کلام کیا جائے تو بہت طوالت ہو جائے گی۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں اس باب میں ان اکابر صحابہ کرام کا تذکرہ کروں گا جنہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں) زید بن ثابت، ابوایوب انصاری، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، ابی بن کعب، جابر بن عبداللہ، عائشہ، مسور بن مخرمہ، عقبہ بن حارث، ابوموسیٰ اشعری، انس بن مالک، سائب بن یزید، ابورافع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) ابوامامہ بن سہل، ابوالطفیل، ابونضرہ غفاری، ابورہم غفاری، شداد بن ہاد، ابوحدرد عبداللہ بن حدرد اسلمی، ابورزین عقیلی، واثلہ بن اسقع، قبیصہ بن ذویب، عمرو بن حمق، حجاج اسلمی، عبداللہ بن عکیم، الاغر جہنی، شرید بن سوید۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والوں کی تعداد 28 ہے، اور تابعین میں اگر دیکھا جائے تو سیدنا ابوہریرہ کے شاگردوں سے زیادہ کوئی بزرگ نہیں ہے، ان سے زیادہ کوئی باعزت نہیں ہے اور ان سے زیادہ کوئی علم والا نہیں ہے، ان تمام کا ذکر اس مقام پر طوالت کا باعث بن جائے گا کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد والے ائمہ مجتہدین کی مخالفت سے محفوظ فرمائے، اور اللہ پاک ہمیں اس بات سے بچائے کہ ہم اس شخصیت (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کی مخالفت کریں جنہوں نے دین اور شریعت کو محفوظ کر کے ہم تک پہنچایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6300]