🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

781. ذِكْرُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6333
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا أبو هريرة محمد بن فراس الصَّيرَفي، حدثنا سَلّم بن قُتَيبة، حدثنا عمر بن نَبهان (2) ، حدثني سَلّام أبو عيسى، حدثنا صفوان بن المعطَّل السُّلَمي قال: خرجنا حُجّاجًا، فلما كنا بالعَرْج إذا نحن بحيّةٍ تضطرب فلم تَلبَثْ أن ماتت، فأخرج له رجلٌ منا خِرقةً من عَيْبة له فلفَّها فيها وغيَّبها في الأرض فدَفَنها، ثم قَدِمْنا مكة، فإنّا لَبالمسجدِ الحرامِ إذ وَقَفَ علينا شخصٌ فقال: أيُّكم صاحبُ عمرو بن جابر؟ فقلنا: ما نعرف عمرَو ابنَ جابر، قال: أيُّكم صاحبُ الجانِّ؟ قالوا: هذا، قال: أمَا إنه كان آخرَ التسعة موتًا، الذين أتَوْا رسولَ الله ﷺ يستمعون القرآن (3) . ذكرُ حمزة بن عمرو الأسلمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے، تو ہم نے اپنے سامنے ایک بہت بڑا سانپ دیکھا جو تڑپ رہا تھا، کچھ ہی دیر میں وہ مر گیا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی زنبیل سے کپڑے کا ایک ٹکڑا نکالا، اس سانپ کو اس کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا، پھر ہم مکہ شریف پہنچے، ہم مسجد حرام کے دروازے پر تھے کہ ایک آدمی ہم سے ملا، اس نے پوچھا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: ہم عمرو بن جابر کو نہیں جانتے، اس نے کہا: سانپ کا ساتھی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ آدمی ہے۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر عطا فرمائے، وہ سانپ ان 9 جنات میں سے آخری تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قرآن سنا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6333]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6334
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا سفيان بن حمزة الأسلَمي، عن كَثير بن زيد، عن محمد بن حمزة بن عمرو الأسلَمي، عن أبيه حمزة بن عمرو قال: كان يَدُور (1) طعامُ أصحاب رسولَ الله ﷺ على يَدَيْ أصحابه هذه الليلةَ، قال: فدارَ عليَّ، فصنعتُ طعامَ أصحابِ رسول الله ﷺ، فذهبتُ به إليه (2) . قال سفيان بن حمزة: وكان حمزةُ بن عمرو الأسلمي يُكنى أبا محمد، مات سنةَ إحدى وستين، وهو ابن إحدى وسبعين سنةً.
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو کھانا مہیا کرنے کے لئے صحابہ کرام نے آپس میں باریاں مقرر کر رکھی تھیں، میری باری آئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا کھانا تیار کروا کر لے گیا، سیدنا سفیان بن حمزہ فرماتے ہیں: حمزہ بن عمرو اسلمی کی کنیت ابومحمد تھی۔ آپ 71 برس کی عمر میں 61 ہجری کو فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں