🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

856. ذِكْرُ أَجَلِّ فَضَائِلِ ابْنِ عُمَرَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6506
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الله بن إسحاق بن الفضل، حدثني أبي، عن صالح بن خَوَّات، عن نافع، عن ابن عمر قال: لما فَرَضَ عمرُ لأسامةَ بن زيد ثلاثةَ آلاف وفَرَضَ لي ألفين وخمس مئة، فقلت له: يا أَبَهُ، لِمَ تَفرِضُ لأسامة بن زيد ثلاثةَ آلاف وتفرضُ لي ألفين وخمس مئة؟! والله ما شَهِدَ أسامةُ مَشهدًا غبتُ عنه، ولا شَهِدَ أبوه مُشهدًا غاب عنه أَبي، قال: صَدَقتَ يا بنيَّ، ولكنْ أَشهدُ لَأبوه كان أحبَّ الناس إلى رسول الله ﷺ من أبيك، ولهو أحبُّ إلى رسول الله ﷺ منك (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإن توهَّم متوهِّمٌ أنَّ هذه الفضيلةَ لأسامة، فليَعلَمْ أني إنما أخرجتُ هذا الحديث لأمرين: أحدُهما شهادةُ عمرَ لابنه: أنه لم يَشهَدْ أسامةً مَشهَدًا إِلَّا شَهِدتَه، وهذا من أجَلِّ فضائل ابن عمر، والثاني: أنَّ الشيخين ﵄ قد خرَّجا أكثرَ ما رُوِيَ من فضائل ابن عمر على شَرْطِهما من المسانيد، فأنا أجتهِدُ في تحصيل خبرٍ مُسنَدٍ صحيحٍ لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6367 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو تین ہزار دراہم مال غنیمت عطا کیا اور مجھے اڑھائی ہزار، میں نے کہا: ابا جی! نہ اسامہ بن زید نے مجھ سے زیادہ غزوات میں شرکت کی ہے اور نہ ہی اس کے والد نے میرے والد سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں، پھر آپ نے اسامہ کو مجھ سے زیادہ مال کیوں دیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے تم بالکل سچ کہہ رہے ہو، لیکن میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اس کے والد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے والد کہ بہ نسبت زیادہ پیار کرتے تھے اور خود اسامہ کے ساتھ تجھ سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ یہ فضیلت تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی ہے پھر اس کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کے ضمن میں بیان کیوں کیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے جو یہ حدیث اس مقام پر ذکر کی ہے اس کی دو وجہیں ہیں۔ نمبر 1۔ اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لئے یہ گواہی موجود ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ جس غزوہ میں شریک ہوئے اس میں، میں بھی شریک ہوا ہوں۔ نمبر 2۔ یہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کے بارے میں بہت ساری مسند احادیث نقل کی ہیں جو ان کے معیار کے عین مطابق ہیں۔ اور میں اسی کوشش میں ہوں کہ ایسی مسند صحیح حدیث نقل کروں جس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے چھوڑ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6507
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حدثنا عَبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: بايعتُ النبيَّ ﷺ يومَ الحُديبِيَة على الموت مرتين، قال: رأى عمرُ الناسَ مجتمعين فقال: اذهب فانظُرْ ما شأنُهم، فإذا النبيُّ ﷺ يبايعُ على الموت، فبايعتُه، ثم رجعتُ إلى عمر فأخبرتُه، فجاء فبايَعَه، ثم بايعتُ بعدما بايع (2) . وهذه من أجَلِّ فضائل ابن عمر، ولم يُخرجاه، وعبدُ الله بن عمر العُمَري ﵀ لم يُذكَرُ إلَّا بسُوء الحِفْظ فقط.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر میں نے دو مرتبہ موت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: جا کر دیکھو، کیا مسئلہ ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موت پر لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، (میں گیا تو صرف دیکھنے تھا لیکن) میں نے بھی بیعت کر لی۔ پھر میں واپس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو صورت حال سے آگاہ کیا، وہ بھی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ان کے بعد میں نے پھر بیعت کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل میں یہ بات بہت بڑی ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے راوی عبیداللہ بن عمر عمری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ سوء حفظ کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6508
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عبد الله الحَضرَمي، حدثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثي، حدثنا عَبثَر، حدثنا حُصَين، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن جابر بن عبد الله قال: ما منَّا أحدٌ أدرَكَ الدنيا إلَّا قد مالَتْ به ومالَ بها، إلَّا عبدَ الله بنَ عمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6369 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم میں سے جس کو بھی دنیا ملی، وہ اس کی جانب مائل ہو گیا لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں