🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

856. ذِكْرُ أَجَلِّ فَضَائِلِ ابْنِ عُمَرَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6507
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حدثنا عَبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: بايعتُ النبيَّ ﷺ يومَ الحُديبِيَة على الموت مرتين، قال: رأى عمرُ الناسَ مجتمعين فقال: اذهب فانظُرْ ما شأنُهم، فإذا النبيُّ ﷺ يبايعُ على الموت، فبايعتُه، ثم رجعتُ إلى عمر فأخبرتُه، فجاء فبايَعَه، ثم بايعتُ بعدما بايع (2) . وهذه من أجَلِّ فضائل ابن عمر، ولم يُخرجاه، وعبدُ الله بن عمر العُمَري ﵀ لم يُذكَرُ إلَّا بسُوء الحِفْظ فقط.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن میں نے دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو (ایک جگہ) جمع دیکھا تو مجھ سے فرمایا: جاؤ دیکھو کیا معاملہ ہے، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں تو میں نے بھی بیعت کر لی، پھر میں نے واپس آکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو وہ تشریف لائے اور بیعت کی، پھر میں نے ان کے بیعت کرنے کے بعد دوبارہ بیعت کی۔
یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل میں سے ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، جبکہ (راوی) عبداللہ بن عمر العمری کا ذکر صرف ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6507]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل خالد القطواني وعبد الله ابن عمر العمري، وقد توبعا عليه. فقد روى معناه عن نافعٍ صخرُ بن جويرية وعمر بن محمد العمري عند البخاري (4186) و (4187).» [ترقيم الرساله 6507] [ترقيم الشركة 6431]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6508
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عبد الله الحَضرَمي، حدثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثي، حدثنا عَبثَر، حدثنا حُصَين، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن جابر بن عبد الله قال: ما منَّا أحدٌ أدرَكَ الدنيا إلَّا قد مالَتْ به ومالَ بها، إلَّا عبدَ الله بنَ عمر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6369 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم میں سے جس نے بھی دنیا کے اس دور کو پایا، دنیا اس کی طرف مائل ہوگئی یا وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا، سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے (کہ وہ دنیا کی چکا چوند سے بے نیاز رہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبثر: هو ابن القاسم، وحصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.» [ترقيم الرساله 6508] [ترقيم الشركة 6432] [ترقيم العلميه 6369]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6509
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا قُتَيبة بن سعيد وأبو النَّضْر إسماعيل بن عبد الله العِجْلي قالا: حدثنا محمد بن يزيد بن حُنَيس، قال: قال عبد العزيز بن أبي رَوَّاد: حدثني نافع قال: دخل ابنُ عمر الكعبةَ، فسمعته يقول وهو ساجد: قد تَعلَمُ ما يَمنَعُني من مُزاحَمةِ قريشٍ على هذه الدنيا إلَّا خوفُك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6370 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کعبہ میں داخل ہوئے تو میں نے انہیں سجدے کی حالت میں یہ التجا کرتے سنا: (اے اللہ!) تو خوب جانتا ہے کہ اس دنیا کے حصول کے لیے قریش سے مقابلہ کرنے سے مجھے تیرے خوف کے علاوہ کسی چیز نے نہیں روکا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6509]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 6509] [ترقيم الشركة 6433] [ترقيم العلميه 6370]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں