🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

898. هِجَاءُ كَعْبٍ لِلْأَنْصَارِ لِمَا كَانَ صَنَعَ صَاحِبُهُمْ
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا انصار کی ہجو کرنا اس واقعے کی بنا پر جو ان کے ساتھی نے کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6622
وحدثنا القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا إبراهيم بن المنذِر، حدثني محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقْبةً قال: أنشَدَ النبي ﷺ كعبُ بنُ زهير بانَتْ سعادُ في مسجده بالمدينة، فلما بلغ قولَه: إنَّ الرسول لَسيفٌ يُستضاءُ بهِ … وصارمٌ من سيوف الله مسلولُ في فِتْيةٍ من قُريشٍ قال قائلُهمْ … ببَطْنِ مكَّةَ لمَّا أسلَموا زُولُوا أشار رسولُ الله ﷺ بكُمِّه إلى الخَلْق ليَسمَعوا منه (2) . قال: وقد كان بُجَير بن زهير كَتَبَ إلى أخيه كعبِ بن زهير بن أبي سُلْمَى يخوِّفُه ويدعوه إلى الإسلام، وقال فيها أبياتًا: مَن مُبلغٌ كعبًا فهلْ لك في الَّتي … تَلُومُ عليها باطلًا وهْيَ أحزَمُ إلى الله لا العُزَّى ولا اللَّاتِ وَحْدَهُ … فَتَنجُو إذا كان النَّجِاءُ وتَسلَمُ لَدَى يوم لا يَنجُو وليس بمُفلِتٍ … منَ النارِ إلَّا طاهرُ القلبِ مُسلِمُ فدِينُ زُهيرٍ وهُوَ لا شيءَ باطلٌ … ودِينُ أبي سُلْمى عليَّ مَحرَّمُ
هذا حديثٌ له أسانيد قد جَمَعَها إبراهيم بن المنذر الحِزَامي. فأمَّا حديثُ محمد بن فُلَيح عن موسى بن عُقْبة وحديثُ الحجَّاج بن ذي الرُّقَيبة، فإنهما صحيحان، وقد ذَكَره محمدُ بن إسحاق القُرَشي في"المغازي" مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6479 - قال الحاكم هذا وحديث ابن ذي الرقيبة صحيحان
موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں: کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قصیدہ پڑھا، جب اس شعر پر پہنچے: إِنَّ الرَّسُولَ لَسَيْفٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ ... وَصَارِمٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ مَسْلُولُ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ قَائِلُهُمْ ... بِبَطْنِ مَكَّةَ لَمَّا أَسْلَمُوا زُولُوا * بے شک رسول ایک تلوار ہیں جس کی روشنی پھیل رہی ہے، خدا کی تلواروں میں سے ایک برہنہ تلوار ہے۔ * بطن مکہ میں قریشی نوجوانوں کی ایک جماعت میں کہنے والے نے کہا: جب وہ اسلام لائے تو محفوظ ہو گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین کے ساتھ لوگوں کی جانب اشارہ کیا کہ لوگ یہ سنیں، راوی کہتے ہیں: بجیر بن زہیر رضی اللہ عنہ نے، اپنے بھائی کعب بن زہیر ابن ابی سلمی رضی اللہ عنہ کی جانب خط لکھ کر ان کو خبردار کر دیا تھا اور ان کو اسلام کی دعوت بھی دے دی تھی، اور اس سلسلہ میں درج ذیل اشعار لکھے تھے: کون شخص کعب کو میرا یہ پیغام دے گا کہ کیا تم ایک باطل (دین کو چھوڑنے میں) تاخیر کر رہے ہو، حالانکہ اس معاملے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ تم خدائے واحد کی طرف کیوں نہیں آتے؟ (میں) تمہیں عزیٰ یا لات (پر ایمان لانے) کو نہیں کہہ رہا۔ (اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر) تم نجات پا جاؤ گے اور سلامت رہو گے۔ اور جہنم سے صرف صاف دل والا مسلمان ہی نجات پا سکتا ہے۔ جہاں تک (ہمارے والد) زہیر کے دین کا تعلق ہے تو وہ کوئی چیز نہیں اور جھوٹا دین ہے اور جہاں تک (ہمارے دادا) ابوسلمیٰ کے دین کا تعلق ہے تو وہ مجھ پر حرام ہے ۔ ٭٭ اس حدیث کی دیگر اسانید بھی ہیں جو کہ ابراہیم بن منذر نے جمع کی ہیں، محمد بن فلیح، کی موسیٰ بن عقبہ سے اور حجاج بن ذی الرقیبہ کی احادیث صحیح ہیں۔ محمد بن اسحاق القرشی نے مغازی میں اس کو مختصراً ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6622]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں