المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
908. ذِكْرُ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمارة بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6643
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا يحيى ابن إسحاق السَّيلَحِيني، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن زياد بن لَبِيد الأنصاري قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يُحدِّث أصحابَه وهو يقول:"قد ذَهَبَ أَوَانُ العِلْم"، قلت: بأَبي وأُمِّي، وكيف يذهبُ أَوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم إلى أن تقومَ الساعةُ؟! فقال:"ثَكِلَتكَ أَمُّك يا ابن لَبِيدٍ، إنْ كنتُ لأراك من أفقهِ أهلِ المدينة، أوَليسَ اليهودُ والنصارى يَقرؤُون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتِفعون منهما بشيءٍ؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ محو گفتگو تھے، آپ فرما رہے تھے ” علم کا وقت گزر چکا ہے “ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، علم کا وقت کیسے گزر گیا ہے؟ حالانکہ ہم خود قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں، اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو تعلیم دیں گے، اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن لبید! تیری ماں تجھے روئے، میں تو تجھے پورے مدینے میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھا کرتے تھے؟ لیکن انہیں اس چیز نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6643]