المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
912. ذكر بسر بن أبى أرطاة رضي الله عنه
سیدنا بسر بن ابی ارطاة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6650
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيّاط قال: مات بُسْر بن أبي أرْطاة في خلافة معاوية، وكان قد كَبِرَ سنُّه حتى خَرِفَ، وكان يُكنَى أبا عبد الرحمن، تُوفِّي بالمدينة، وله دارٌ بالبَصْرة (4) .
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: سیدنا بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ کی خلافت میں فوت ہوئے، بہت زیادہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی عقل میں کچھ خلل واقع ہو گیا تھا۔ ان کی کنیت ” ابوعبدالرحمن “ تھی مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا، ان کی اولاد امجاد بصرہ میں قیام پذیر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6650]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6650 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) كذا في "طبقات خليفة" ص 27، وفي (ص) و (م) وولد بالبصرة، وفي (ب): وولده بالبصرة.
📖 حوالہ / مصدر: "طبقات خليفة" ص 27 میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (م) میں "وولد بالبصرة" (وہ بصرہ میں پیدا ہوئے) اور نسخہ (ب) میں "وولده بالبصرة" (ان کی اولاد بصرہ میں ہے) کے الفاظ ہیں۔
وما وقع عند المصنف قبلُ من أنه مات في خلافة معاوية، فغلطٌ أيضًا، فإن خليفة ذكر في "طبقاته" ص 27 و "تاريخه" ص 292 أنه مات في ولاية عبد الملك بن مروان، وهو الصواب المتفَق عليه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے اس سے قبل جو یہ ذکر کیا کہ ان کی وفات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوئی، وہ بھی غلط ہے؛ کیونکہ خلیفہ بن خیاط نے اپنی "طبقات" ص 27 اور "تاریخ" ص 292 میں صراحت کی ہے کہ ان کی وفات عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت میں ہوئی، اور یہی متفقہ طور پر درست بات ہے۔