🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

945. ذِكْرُ حُسْنِ الْكَلَامِ مِنْ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ
سیدنا عمرو بن الأهتم رضی اللہ عنہ کے حسنِ کلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6712
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الغَسِيلي، حدثنا محمد بن سلَّام الجُمَحي، عن أبي عُبيدة مَعمَر بن المثنَّى، قال: عمرُو بن الأهتَم بن سُمَي بن سِنان بن خالد بن مِنْقَر بن عُبيد بن مُقاعِس بن عمرو ابن كعب بن سعد بن زيد مَنَاة بن تَميم، واسم الأَهتَم سِنانٌ (1) ، هُتِمَت ثَنِيَّتاه يومَ الكِلاب.
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عمرو بن اہتم بن سمی بن سنان بن خالد بن منقر بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم ۔ اہتم کا نام سنان ہے۔ کلاب کے دن ان کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6713
حدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن عُبيدة الوَبَري (ح) . وحدثنا أبو إسحاق إبراهيمُ بن محمد بن يحيى المُزكِّي، حدثنا إبراهيم بن محمد ابن إدريس المَعْقِلي (2) ؛ قالا: حدثنا علي بن حرب المَوْصلي، حدثنا أبو سعد (3) الهيثم بن محفوظ، عن أبي المقوِّم (4) الأنصاري يحيى بن أبي يزيد عن الحَكَم بن عُتيبة، عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس، قال: جلسَ إلى رسول الله ﷺ قيسُ بن عاصم والزِّبْرِقانُ بن بدر وعمرو بن الأهتَم التميميون، ففَخَرَ الزِّبْرقانُ فقال: يا رسولَ الله، أنا سيِّدُ تميم، والمُطاعُ فيهم، والمُجاب فيهم، أمنعهم من الظُّلم فآخذُ لهم بحقوقهم، وهذا يعلمُ ذاك -يعني عمرو بن الأهتم- فقال: عمرُو بن الأهتم: والله يا رسول الله، إنه لشديدُ العارضة، مانعٌ لجانبِه، مُطاع في أدنَيهِ. قال الزِّبرقان: والله يا رسولَ الله، لقد عَلِمَ منِّي غيرَ ما قال، وما منعه أن يتكلَّم به إلَّا الحسدُ. قال عمرٌو: أنا أحسدُك؟! فوالله إنك لَلَئيمُ الخال، حديثُ المال، أحمقُ الوالد، مُضيَّعٌ في العَشيرة، والله يا رسولَ الله، لقد صدقتُ فيما قلتُ أولًا، وما كذبتُ فيما قلتُ آخرًا، لكني رجلٌ رضيتُ فقلتُ أحسنَ ما علمتُ، وغضبتُ فقلتُ أقبحَ ما وجدتُ، ووالله لقد صدقتُ في الأمرين جميعًا، فقال النبي ﷺ:"إنَّ من البيان لَسِحرًا، إنَّ من البيان لَسِحرًا" (1) . وقد رُوي عن أبي بَكْرة الأنصاري (1) أنه حضر هذا المجلسَ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قیس بن عاصم، زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تمیمی رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے، زبرقان نے فخریہ انداز میں کہا: میں تمیم قبیلے کا سردار ہوں، وہ لوگ میری اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں، میں ان پر ظلم نہیں ہونے دیتا، ان کو ان کے حقوق دلواتا ہوں، ان باتوں کو یہ عمرو بن اہتم بھی جانتا ہے، عمرو بن اہتم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! یہ بہادر آدمی ہے، اپنی جانب کا دفاع کرنے والا ہے، صرف اس کی اپنی مجلس میں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف حسد کی وجہ سے اس نے یہ باتیں بولی ہیں۔ عمرو نے کہا: میں تجھ سے حسد کروں گا؟ اللہ کی قسم! تو کمینہ شخص ہے۔ مال کا حریص ہے، جدی پشتی احمق ہے، خاندان میں بدنام ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہلی بات سچ بولی تھی اور بعد والی بھی جھوٹ نہیں کہی۔ لیکن میں نے رضا مندی کی کیفیت میں وہ اچھی صفات بیان کر دیں جو میں جانتا تھا اور ناراضگی کے عالم میں، میں نے وہ قباحتیں بیان کر دیں جو میں نے اس میں پائیں۔ اللہ کی قسم! میں نے دونوں باتیں ہی سچ کہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان بھی جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ سیدنا ابوبکرہ انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے کہ اس مجلس میں وہ بھی موجود تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6713]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں