المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
945. ذِكْرُ حُسْنِ الْكَلَامِ مِنْ عَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ
سیدنا عمرو بن الأهتم رضی اللہ عنہ کے حسنِ کلام کا بیان
حدیث نمبر: 6713
حدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن عُبيدة الوَبَري (ح) . وحدثنا أبو إسحاق إبراهيمُ بن محمد بن يحيى المُزكِّي، حدثنا إبراهيم بن محمد ابن إدريس المَعْقِلي (2) ؛ قالا: حدثنا علي بن حرب المَوْصلي، حدثنا أبو سعد (3) الهيثم بن محفوظ، عن أبي المقوِّم (4) الأنصاري يحيى بن أبي يزيد عن الحَكَم بن عُتيبة، عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس، قال: جلسَ إلى رسول الله ﷺ قيسُ بن عاصم والزِّبْرِقانُ بن بدر وعمرو بن الأهتَم التميميون، ففَخَرَ الزِّبْرقانُ فقال: يا رسولَ الله، أنا سيِّدُ تميم، والمُطاعُ فيهم، والمُجاب فيهم، أمنعهم من الظُّلم فآخذُ لهم بحقوقهم، وهذا يعلمُ ذاك -يعني عمرو بن الأهتم- فقال: عمرُو بن الأهتم: والله يا رسول الله، إنه لشديدُ العارضة، مانعٌ لجانبِه، مُطاع في أدنَيهِ. قال الزِّبرقان: والله يا رسولَ الله، لقد عَلِمَ منِّي غيرَ ما قال، وما منعه أن يتكلَّم به إلَّا الحسدُ. قال عمرٌو: أنا أحسدُك؟! فوالله إنك لَلَئيمُ الخال، حديثُ المال، أحمقُ الوالد، مُضيَّعٌ في العَشيرة، والله يا رسولَ الله، لقد صدقتُ فيما قلتُ أولًا، وما كذبتُ فيما قلتُ آخرًا، لكني رجلٌ رضيتُ فقلتُ أحسنَ ما علمتُ، وغضبتُ فقلتُ أقبحَ ما وجدتُ، ووالله لقد صدقتُ في الأمرين جميعًا، فقال النبي ﷺ:"إنَّ من البيان لَسِحرًا، إنَّ من البيان لَسِحرًا" (1) . وقد رُوي عن أبي بَكْرة الأنصاري (1) أنه حضر هذا المجلسَ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں قیس بن عاصم، زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تمیمی بیٹھے ہوئے تھے، تو زبرقان نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں بنو تمیم کا سردار ہوں، ان میں میری بات مانی جاتی ہے اور وہ میری پکار پر لبیک کہتے ہیں، میں انہیں ظلم سے بچاتا ہوں اور ان کے حقوق لے کر دیتا ہوں، اور یہ شخص (یعنی عمرو بن اہتم) اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔“ اس پر عمرو بن اہتم نے کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، یہ بڑے فصیح اللسان ہیں، اپنی پناہ میں لینے والوں کے محافظ ہیں اور اپنے قریبی حلقے میں ان کا حکم مانا جاتا ہے۔“ زبرقان نے (یہ سن کر) کہا: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، یہ میرے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں جو انہوں نے بیان کیا ہے، اور انہیں حق بات کہنے سے صرف حسد نے روکا ہے۔“ عمرو نے پلٹ کر جواب دیا: ”کیا میں تم سے حسد کروں گا؟! اللہ کی قسم تم تو ننھیال کے اعتبار سے کم ظرف ہو، تمہاری دولت نئی نئی ہے، تمہارا باپ بے وقوف تھا اور تم اپنے قبیلے میں بے وقعت ہو۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، میں نے پہلے جو کہا وہ بھی سچ تھا اور اب جو کہا اس میں بھی جھوٹ نہیں بولا، لیکن میں ایک ایسا انسان ہوں کہ جب میں خوش ہوتا ہوں تو وہ بہترین بات کہہ دیتا ہوں جو میں جانتا ہوں، اور جب مجھے غصہ آتا ہے تو وہ بدترین بات کہہ دیتا ہوں جو مجھے ملتی ہے، اور اللہ کی قسم میں دونوں حالتوں میں سچا تھا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دو مرتبہ) ارشاد فرمایا: ”بے شک بعض بیان جادو (جیسا اثر رکھنے والے) ہوتے ہیں، بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“
اس کے متعلق ابوبکرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ اس مجلس میں حاضر تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6713]
اس کے متعلق ابوبکرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ اس مجلس میں حاضر تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6713]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، إبراهيم بن محمد المعقلي مجهول الحال، روى عنه اثنان، ولم نجد من وثقه، وقد توبع، والهيثم بن محفوظ مجهول، قال الذهبي في "الميزان": لا يدرى من هو وأبو المقوِّم، قال ابن ناصر الدين في "توضيح المشتبه" 8/ 251: اختلف في اسمه، فقال عبّاس الدوري: سمعت يحيى يقول: يحيى ...» [ترقيم الرساله 6713] [ترقيم الشركة 6633]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
حدیث نمبر: 6714
أخبرنا أبو منصور محمد بن علي الفارسي، حدثنا أبو بكر محمد بن شاذانَ الجَوْهري، حدثنا سعيد بن سليمان النَّشِيطي، حدثنا عُيينة بن عبد الرحمن ابن جَوْشَن، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: كُنَّا عند النبيِّ ﷺ فَقَدِمَ عليه وفدُ بني تميم، فيهم قيسُ بن عاصم وعمرو بن الأهتَم والزِّبْرقان بن بدر، فقال النبيُّ ﷺ لعمرو بن الأهتم:"ما تقولُ في الزِّبْرقان بن بدر؟" فقال: يا رسولَ الله، مُطاعٌ في أَدنَيهِ، شديدُ العارضة، مانعٌ لما وراء ظهره، فقال الزِّبْرقان: يا رسولَ الله، والله إنه ليعلمُ منِّي أكثرَ ممّا وصفَني به، ولكنه حَسَدني، فقال عمرو: والله يا رسولَ الله، إنه لَزَمِرُ (2) المُروءة، ضَيِّق العَطَن، لَئيمُ الخال أحمقُ الوالد، والله ما كذبت أولًا، ولقد صدقتُ آخرًا، ولكني رضيتُ فقلتُ أحسن ما علمتُ، وغضبتُ فقلتُ أقبحَ ما علمتُ، فقال النبيُّ:"إنَّ من البيان لَسِحرًا، وإنَّ من الشِّعر لَحُكمًا" (1) . ذكرُ صَعْصَعةَ بن مُعاوية عمِّ الأحنف بن قيس ﵄
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ بنو تمیم کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جن میں قیس بن عاصم، عمرو بن اہتم اور زبرقان بن بدر شامل تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن اہتم سے پوچھا: ”تم زبرقان بن بدر کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ اپنے قریبی لوگوں میں مطاع (صاحبِ حکم) ہیں، فصیح اللسان ہیں اور اپنے قبیلے کے محافظ ہیں، تو زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ میرے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں جتنا انہوں نے بیان کیا ہے لیکن محض حسد کی وجہ سے خاموش رہے، اس پر عمرو نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! یہ مروت سے خالی ہیں، تنگ دل ہیں، ان کا ننھیال کمینہ ہے اور ان کا باپ احمق ہے، اللہ کی قسم میں نے پہلے جھوٹ نہیں بولا تھا اور اب میں نے سچ کہا ہے، لیکن میں جب خوش ہوا تو وہ بہترین بات کہی جو میں جانتا تھا اور جب میں ناراض ہوا تو وہ بدترین بات کہی جو میں جانتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک کچھ بیان جادو کی طرح (اثر رکھنے والے) ہوتے ہیں اور بے شک کچھ اشعار سراسر حکمت ہوتے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6714] [ترقيم الشركة 6634]