🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

946. ذِكْرُ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
سیدنا صعصعة بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو احنف بن قیس کے چچا تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6714
أخبرنا أبو منصور محمد بن علي الفارسي، حدثنا أبو بكر محمد بن شاذانَ الجَوْهري، حدثنا سعيد بن سليمان النَّشِيطي، حدثنا عُيينة بن عبد الرحمن ابن جَوْشَن، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: كُنَّا عند النبيِّ ﷺ فَقَدِمَ عليه وفدُ بني تميم، فيهم قيسُ بن عاصم وعمرو بن الأهتَم والزِّبْرقان بن بدر، فقال النبيُّ ﷺ لعمرو بن الأهتم:"ما تقولُ في الزِّبْرقان بن بدر؟" فقال: يا رسولَ الله، مُطاعٌ في أَدنَيهِ، شديدُ العارضة، مانعٌ لما وراء ظهره، فقال الزِّبْرقان: يا رسولَ الله، والله إنه ليعلمُ منِّي أكثرَ ممّا وصفَني به، ولكنه حَسَدني، فقال عمرو: والله يا رسولَ الله، إنه لَزَمِرُ (2) المُروءة، ضَيِّق العَطَن، لَئيمُ الخال أحمقُ الوالد، والله ما كذبت أولًا، ولقد صدقتُ آخرًا، ولكني رضيتُ فقلتُ أحسن ما علمتُ، وغضبتُ فقلتُ أقبحَ ما علمتُ، فقال النبيُّ:"إنَّ من البيان لَسِحرًا، وإنَّ من الشِّعر لَحُكمًا" (1) . ذكرُ صَعْصَعةَ بن مُعاوية عمِّ الأحنف بن قيس ﵄
سیدنا ابوبکرہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، بنی تمیم کا ایک وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، ان میں قیس بن عاصم، عمرو بن اہتم اور زبرقان بن بدر بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن اہتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: زبرقان بن بدر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قبیلے میں اس کی بات مانی جاتی ہے، بہادر آدمی ہے، اپنے قبیلے کے علاوہ دیگر لوگوں کو کچھ نہیں دیتا۔ زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے میرے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے، یہ اس سے بھی زیادہ جانتا ہے لیکن حسد کی وجہ سے بیان نہیں کر رہا۔ عمرو نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! یہ شخص بے مروت ہے، کنجوس ہے، کمینہ ہے، خاندانی احمق ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے پہلے بھی جھوٹ نہیں کہا تھا اور دوسری بار بھی سچ بولا ہے، لیکن (اصل بات یہ ہے کہ) میں اس کے ساتھ رضا مندی کی کیفیت میں تھا میں نے اس کی وہ اچھائیاں بیان کیں جو میں جانتا تھا، اور ناراضگی کے عالم میں، میں نے وہ برائیاں بیان کر دی ہیں جو میں جانتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک بیان میں جادو کا سا اثر بھی ہوتا ہے اور بے شک شعر میں بڑی دانائی کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6715
أخبرنا أبو محمد المُزَني (2) ، أخبرنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام الجُمَحي، حدثنا أبو عُبيدة مَعمَر بن المثنَّى، قال: صَعْصَعَةُ بن معاوية بن حُصين ابن عُمير بن عُبادة بن النَّزّال بن مُرَّة بن عُبيد بن مُقاعِس بن عمرو بن كعب بن سعد ابن زيد مَنَاة بن تَميم، عمُّ الأحنف بن قيس.
ابوعبیدہ معمر بن مثنی نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے صعصعہ بن معاویہ بن حصین بن عمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن مقاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم جو کہ سیدنا احنف بن قیس کے چچا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6715]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں