المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
949. ذِكْرُ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ التَّمِيمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا جاریة بن قدامة تمیمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6721
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله ابن سليمان، حدثنا مَعمَر بن بكَّار السَّعدي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة، عن الأسود بن سَريع التميمي قال: قدمتُ على نبيِّ الله ﷺ، فقلتُ: يا نبيَّ الله، قد قلتُ شِعرًا أثنيتُ فيه على الله ﵎ ومدحتُك، فقال:"أمَّا ما أثنيتَ على الله فهاتِه، وما مدحتَني به فدَعْه"، فجعلتُ أُنشدُه، فدخل رجلٌ طُوَال أقنَى، فقال لي:"أمسِكْ"، فلما خرج، قال:"هاتِ" فجعلتُ أُنشِدُه، فلم ألبَثْ (3) أن عاد فقال لي:"أمسِكْ"، فلما خرج قال:"هاتِ"، فقلتُ: من هذا يا نبيَّ الله الذي إذا دخل قلتَ:"أمسِكْ" وإذا خرج قلتَ:"هاتِ"؟ قال:"هذا عمرُ بن الخطاب، وليس من الباطلِ في شيء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جاريةَ (1) بن قُدَامة التميمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6576 - معمر بن بكار له مناكير
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جاريةَ (1) بن قُدَامة التميمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6576 - معمر بن بكار له مناكير
سیدنا اسود بن سریع تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے کچھ اشعار کہے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی ہے اور آپ کی بھی مدح کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ کی حمد کے سلسلے میں جو اشعار لکھے ہیں وہ سناؤ، اور جو میرے بارے میں لکھے ہیں وہ رہنے دو، چنانچہ میں نے اشعار سنانا شروع کئے، ایک طویل القامت قناعت پسند شخص اندر آیا۔ اس کے آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھنے سے روک دیا، جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سناؤ، میں نے پھر سنانا شروع کر دئیے، ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ آدمی پھر آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھے پڑھنے سے روک دیا، جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھر فرمایا کہ پڑھو، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شخص کون ہے؟ جب یہ اندر آتا ہے تو آپ مجھے چپ کروا دیتے ہیں اور جب چلا جاتا ہے تو آپ دوبارہ سننا شروع فرما دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر بن خطاب ہے اور اس میں باطل کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6721]
حدیث نمبر: 6722
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا شَبَاب، قال: جاريةُ بن قُدامة بن زهير بن حُصين بن رَزَاح بن أسعد بن بُجَير (2) بن ربيعة بن كعب، يكنى أبا أيوب (3) وأبا يزيد، له دارٌ بالبصرة في سِكَّة البُخاريَّة.
شباب نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” جاریہ بن قدامہ بن زہیر بن حصین بن رباح بن سعد بن یحیی بن ربیعہ بن کعب “۔ ان کی کنیت ” ابوالولید اور ابویزید “ ہے۔ بحاریہ محلے میں بصرہ کے اندر ان کا مکان تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6722]