🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

947. ذِكْرُ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كان الأحنف أحلم العرب
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور ان کا حلم میں عربوں میں سب سے بڑھ کر ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6717
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله قال: والأحنفُ بن قيس بن حُصين بن النزَّال بن عُبيد (2) ، مُخضرَمٌ، أدرك النبيَّ ﷺ، ووجَّه رسولُ الله ﷺ مُصَدِّقَه إلى قومِه، فأعانَ الأحنفُ مُصَدِّقَ رسول الله ﷺ، فدعا له رسولُ الله ﷺ (3) . قال: واسمُ الأحنف: الضحَّاك، ويقال صَخْرُ بن قيس بن معاوية بن حُصين، وُلِدَ وهو أحنفُ، فقالت أمُّه: واللهِ لولا حَنَفٌ (4) في رِجلِهِ … ما كان في الحيِّ غلامُ مِثلِهِ وكان أحلمَ العرب.
مصعب بن عبداللہ سے مروی ہے کہ: احنف بن قیس بن حصین بن نزال بن عبید، مخضرم صحابی ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا صدقہ وصول کرنے والا عامل ان کی قوم کی طرف بھیجا تو احنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل کی بھرپور مدد کی، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ: احنف کا اصل نام ضحاک تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صخر بن قیس بن معاویہ بن حصین تھا، وہ پیدائشی طور پر احنف (پاؤں سے ٹیڑھے) تھے تو ان کی والدہ نے بچپن میں کہا تھا: اللہ کی قسم! اگر ان کے پاؤں میں ٹیڑھا پن نہ ہوتا تو بستی میں ان جیسا کوئی لڑکا نہ ہوتا اور وہ تمام عرب میں سب سے زیادہ بردبار شخص تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6717]
تخریج الحدیث: «أخرج أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1121)، وفي "تاريخ أصبهان" 1/ 224 من طريق عمر بن مصعب بن الزبير، عن عمه عروة بن الزبير، قال: حدثني الأحنف بن قيس، أنه قدم على عمر بن الخطاب بفتح تستر، فقال: يا أمير المؤمنين، إنَّ الله قد فتح عليك تستر، وهي من أرض ...» [ترقيم الرساله 6717] [ترقيم الشركة 6637]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6718
حدثنا بصحةِ ما ذكره مصعبٌ: الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي ابن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، أنَّ الأحنف بن قيس قال: بَيْنا أنا أطوفُ بالبيت في زمن عثمانَ بن عفان إذ أخذ رجلٌ من بني ليثٍ بيدي، فقال: ألا أبشِّرُك؟ قلتُ: بلى، فقال: هل تذكرُ إذ بعثني رسولُ الله ﷺ إلى قومِك بني سعد، فجعلتُ أعرِضُ عليهم الإسلامَ وأدعوهم إليه، فقلتَ أنت: إنه يدعو إلى الخير، ويأمر به، وإنه يدعو إلى الخير ويأمرُ بالخير؟ فبلَّغتُ ذلك إلى النبيِّ ﷺ، فقال:"اللهمَّ اغفِرْ للأحنفِ بن قيس"، فكان الأحنفُ يقول: ما مِن عملِ شيءٍ أرجَى لي منه (1) . ذكرُ الأسود بن سَريع ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6573 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو بنو لیث کے ایک شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف بھیجا تھا اور میں ان پر اسلام پیش کر رہا تھا تو تم نے کہا تھا کہ: یہ (نبی) خیر کی طرف بلاتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے ہیں؟ پھر میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! احنف بن قیس کی مغفرت فرما، چنانچہ احنف فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک میرا کوئی بھی عمل اس دعا سے بڑھ کر امید افزا نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6718]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد: وهو ابن جدعان. الحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 6718] [ترقيم الشركة 6638] [ترقيم العلميه 6573]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں