🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

950. ذِكْرُ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عروة بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6724
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير قال: لما أنشأ الناسُ الحجَّ سنةَ تسعٍ، قَدِمَ عُرْوة بن مسعود الثقفي عمُّ المغيرةِ بن شُعبة على رسولِ الله ﷺ مسلمًا، فاستأذنَ رسولَ الله ﷺ أن يرجعَ إلى قومِه، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنِّي أخافُ أن يقتلوك"، قال: لو وجدوني نائمًا ما أيقظوني، فأذِنَ له رسولُ الله ﷺ، فرجعَ إلى قومه مُسلمًا، فقدم عِشاءً، فجاءته ثقيفٌ، فدعاهم إلى الإسلام، فاتهموه وعَصَوه وأسمعوه ما لم يكن يحتسِبُ، ثم خرجوا من عنده، حتى إذا أَسحروا وطلَعَ الفجرُ قام عُرْوة في داره، فأذَّن بالصلاة وتشهَّد، فرماه رجلٌ من ثقيفٍ بسهمٍ فقتله، فقال رسول الله ﷺ:"مَثَلُ عُرْوة مَثَلُ صاحبِ ياسين؛ دعا قومَه إلى الله تعالى فقَتَلُوه" (1) . ذكرُ مُجاشِع بن مسعود الثقفي ﵁-
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جب سنہ 9 ہجری میں لوگوں نے حج کا ارادہ کیا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے چچا عروہ بن مسعود ثقفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم کی طرف واپس جانے کی اجازت مانگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہیں قتل کر دیں گے“، انہوں نے عرض کی: وہ تو مجھے سوتا ہوا پائیں تو بیدار نہ کریں (یعنی اتنی عزت کرتے ہیں)، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم کے پاس پہنچے، عشاء کے وقت ثقیف کے لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی، لوگوں نے ان پر تہمت لگائی، نافرمانی کی اور انہیں ایسی باتیں سنائیں جن کی انہیں امید نہ تھی، پھر وہ لوگ ان کے پاس سے چلے گئے، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا اور فجر طلوع ہوئی تو عروہ اپنے گھر میں کھڑے ہوئے، انہوں نے نماز کے لیے اذان دی اور شہادتین پکارے، تو ثقیف کے ایک شخص نے انہیں تیر مار کر شہید کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عروہ کی مثال صاحبِ یاسین جیسی ہے؛ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6724]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات غير ابن لَهِيعة، ففي حفظه سوء ضُعِّف من أجله، لكن قبل العلماء رواية العبادلة عنه، وقد رواه عنه منهم عبد الله بن وهب كما سيأتي. ورواية عروة ابن الزبير هذه مرسلة، وقد ورد الخبر من طرق أخرى مرسلة يقوي بعضُها بعضًا. أبو الأسود: هو ...» [ترقيم الرساله 6724] [ترقيم الشركة 6644]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں