🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

951. ذِكْرُ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6724
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير قال: لما أنشأ الناسُ الحجَّ سنةَ تسعٍ، قَدِمَ عُرْوة بن مسعود الثقفي عمُّ المغيرةِ بن شُعبة على رسولِ الله ﷺ مسلمًا، فاستأذنَ رسولَ الله ﷺ أن يرجعَ إلى قومِه، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنِّي أخافُ أن يقتلوك"، قال: لو وجدوني نائمًا ما أيقظوني، فأذِنَ له رسولُ الله ﷺ، فرجعَ إلى قومه مُسلمًا، فقدم عِشاءً، فجاءته ثقيفٌ، فدعاهم إلى الإسلام، فاتهموه وعَصَوه وأسمعوه ما لم يكن يحتسِبُ، ثم خرجوا من عنده، حتى إذا أَسحروا وطلَعَ الفجرُ قام عُرْوة في داره، فأذَّن بالصلاة وتشهَّد، فرماه رجلٌ من ثقيفٍ بسهمٍ فقتله، فقال رسول الله ﷺ:"مَثَلُ عُرْوة مَثَلُ صاحبِ ياسين؛ دعا قومَه إلى الله تعالى فقَتَلُوه" (1) . ذكرُ مُجاشِع بن مسعود الثقفي ﵁-
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 9 ہجری میں جب لوگ حج کے لئے آئے تو اس سال سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے چچا سیدنا عروہ بن مسعود ثقفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، پھر انہوں نے اپنی قوم میں واپس جانے کی اجازت مانگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خدشہ ہے کہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گے، انہوں نے کہا: اگر وہ لوگ مجھے سوتا پائیں گے تو جگا لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس جانے کی اجازت دے دی، چنانچہ وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم میں واپس لوٹے، آپ عشاء کے وقت اپنی بستی میں پہنچے، ان کے پاس کچھ لوگ آئے، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ لیکن ان لوگوں نے ان کو بہت برا بھلا کہا، ان کی بات نہ مانی، اور ان کو وہ وہ باتیں سنائیں، جن کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا، وہ لوگ واپس چلے گئے، جب سحری کا وقت ہوا، تو سیدنا عروہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر نماز کے لئے اذان دی، کلمہ شہادت پڑھا، قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے ان کو تیر مارا جس کی وجہ سے آپ شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عروہ کی مثال صاحب یاسین کی سی ہے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی جانب دعوت دی اور لوگوں نے ان کو شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6725
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيَّاط قال: مُجاشِع بن مسعود بن ثعلبة بن وهب بن عائذ بن ربيعة، يُكنى أبا سليمان، وأمُّه وأمُّ أخيه مُجالِدٍ مُلَيكةُ بنت سفيان بن الحارث بنْ أَسد (1) بن خُزيمة، قُتل مُجاشِعٌ يوم الجمل الأصغر سنةَ ستٍّ وثلاثين، ودُفِنَ في دارِه في بني سُليم حضرةَ بني سَدُوس، وله بالبصرة غيرُ دار، فمنها دارُه بحضرة مسجدِ الجامع.
خلیفہ بن خیاط ان کا نسب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں مجاشع بن مسعود بن ثعلبہ بن وہب بن عائذ ان کی کنیت ابوسلیمان ہے۔ ان کی والدہ اور ان کے بھائی کی والدہ ملیکہ بنت سفیان بن حارث بن لبید بن خزیمہ ہیں۔ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ 36 ہجری کو جنگ جمل اصغر میں شہید ہوئے، بنی سدوس کے سامنے بنی سلیم میں اپنی حویلی میں دفن ہوئے۔ بصرہ میں بھی ان کا ایک گھر تھا جو کہ جامع مسجد بصرہ کے سامنے تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6725]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں