المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
972. إِسْلَامُ قَبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ
سیدنا قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا ذکر
حدیث نمبر: 6770
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زِبْرِيق (1) ، حدثنا أصبَغ بن عبد العزيز، حدثني أبي عبد العزيز بن أصبَغ بن أبان بن سليمان، عن جدِّه أبان، عن أبيه سليمان قال: كان إسلامُ قَبَاث بن أَشيَم أنَّ رجالًا من قومِه وغيرَهم من العرب أتَوْه، فقالوا: إنَّ محمدَ بن عبد الله بن عبد المطلب قد خرَجَ يدعو إلى دينٍ غير دينِنا، فقام قَباثٌ حتى أتى رسولَ الله ﷺ فلمَّا دخل عليه قال له:"اجلِسْ يا قَباثُ" فأوجَمَ قَباثٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أنت القائل: لو خرجَتْ نساءُ قريش ردَّتْ محمدًا وأصحابَه؟" قال: قَباثُ: والذي بعثك بالحقِّ، ما تحدَّثَ به لساني، ولا تَزمزمَتْ به شفتاي، ولا سَمِعَه منِّي أحدٌ، وما هو إلَّا شيءٌ هَجَسَ في نفسي، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّك عبدُه ورسولُه، وأنَّ ما جئتَ به الحقُّ (1) .
سلیمان اپنے والد ابان سے اور وہ اپنے والد سلیمان سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ یہ ہے کہ ان کی قوم اور دیگر عربوں کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے نکل کر ایک ایسے دین کی دعوت دی ہے جو ہمارے دین سے الگ ہے“، چنانچہ قباث کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قباث! بیٹھ جاؤ“، قباث حیرت زدہ ہو کر چپ ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی ہو جس نے کہا تھا کہ اگر قریش کی عورتیں نکل پڑیں تو وہ محمد اور ان کے ساتھیوں کو (مکے سے) نکال دیں گی؟“ قباث نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! یہ بات نہ تو میری زبان پر آئی، نہ میرے ہونٹوں نے اس کی بھنبھناہٹ کی اور نہ ہی کسی نے یہ بات مجھ سے سنی، یہ تو محض ایک خیال تھا جو میرے دل میں پیدا ہوا تھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس کے بندے اور رسول ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں وہ برحق ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، عمرو بن إسحاق بن زبريق لم نقف له على ترجمة لكن روى عنه ثلاثة، منهم الطبراني وقد أكثر عنه الرواية في كتبه، وأصبغ بن عبد العزيز بن أصبغ كذا سماه الحاكم، وسماه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 321: عبد العزيز بن مروان بن أبان ...» [ترقيم الرساله 6770] [ترقيم الشركة 6690]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل