المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
973. فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ
جماعت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6770
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زِبْرِيق (1) ، حدثنا أصبَغ بن عبد العزيز، حدثني أبي عبد العزيز بن أصبَغ بن أبان بن سليمان، عن جدِّه أبان، عن أبيه سليمان قال: كان إسلامُ قَبَاث بن أَشيَم أنَّ رجالًا من قومِه وغيرَهم من العرب أتَوْه، فقالوا: إنَّ محمدَ بن عبد الله بن عبد المطلب قد خرَجَ يدعو إلى دينٍ غير دينِنا، فقام قَباثٌ حتى أتى رسولَ الله ﷺ فلمَّا دخل عليه قال له:"اجلِسْ يا قَباثُ" فأوجَمَ قَباثٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أنت القائل: لو خرجَتْ نساءُ قريش ردَّتْ محمدًا وأصحابَه؟" قال: قَباثُ: والذي بعثك بالحقِّ، ما تحدَّثَ به لساني، ولا تَزمزمَتْ به شفتاي، ولا سَمِعَه منِّي أحدٌ، وما هو إلَّا شيءٌ هَجَسَ في نفسي، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّك عبدُه ورسولُه، وأنَّ ما جئتَ به الحقُّ (1) .
سلیمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ یوں ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اور کچھ دیگر عرب لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے بغاوت کر دی ہے۔ وہ لوگوں کو ہمارے دین کے خلاف دعوت دیتا ہے، سیدنا قباث وہاں سے اٹھے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیٹھنے کو کہا، سیدنا قباث رضی اللہ عنہ ترش روئی کے ساتھ سر جھکا کر بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہی کہنے والے ہو نا کہ اگر قریش کی صرف عورتیں اپنے گھروں سے نکل کر آ جائیں تو وہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو واپس بھیج سکتی ہیں؟ سیدنا قباث نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، یہ باتیں تو ابھی میری زبان سے نکلی ہی نہیں ہیں۔ میرے ہونٹوں پر ابھی ان کا تذکرہ ہی نہیں آیا، اور نہ یہ باتیں ابھی تک مجھ سے کسی نے سنی ہیں، اور یہ بات تو فقط میرے دل میں آئی تھی، پھر وہ کلمہ پڑھتے ہوئے کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور بے شک جو آپ لائے ہیں وہ برحق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6770]