المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
986. ذِكْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6793
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله قال: عبد الله بن حُذافة بن قيس بن عَديّ بن سُعَيد ابن سَهْم بن عمرو بن هُصَيص بن كعب بن لؤي بن غالب بن فِهْر بن مالك.
مصعب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک (ان کا نسب ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6793]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6793] [ترقيم الشركة 6713]
حدیث نمبر: 6794
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بعثَ النبيُّ ﷺ علقمةَ بن مُجزِّز على بعثٍ، فلما بَلَغْنا رأسَ مَغْزانا (1) أَذِنَ لطائفة من الجيش، وأمَّر عليهم عبدَ الله بن حُذافة بن قيس السَّهمي، وكان من أهل بدر، وكانت فيه دُعابة، فإنه كان يُرحِّلُ ناقةَ رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه ليُضحكَه بذلك، وكان الرُّومُ قد أسَروه في زمن عمرَ بن الخطاب فأرادوه على الكُفر، فعَصَمَه اللهُ ﷿ حتى أنجاه الله ﵎ منهم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزز کو ایک مہم پر روانہ کیا، جب ہم اپنی منزل کے قریب پہنچے تو انہوں نے لشکر کی ایک جماعت کو (الگ مہم کی) اجازت دی اور ان پر سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، وہ اہل بدر میں سے تھے اور ان کے مزاج میں ظرافت تھی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اسفار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو اس طرح چلاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے، اور یہ وہی شخصیت ہیں جنہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں رومیوں نے قید کر لیا تھا اور انہیں کفر پر مجبور کرنا چاہا تھا، مگر اللہ عزوجل نے انہیں ثابت قدم رکھا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں ان سے نجات عطا فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6794]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير، وعبد العزيز بن محمد: هو الدراوردي.» [ترقيم الرساله 6794] [ترقيم الشركة 6714] [ترقيم العلميه 6649]
الحكم على الحديث: إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير
حدیث نمبر: 6795
حدثنا أبو عبد الله الصَّفَار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا قُرَّة بن عبد الرحمن بن حَيْوِيلَ، عن الزُّهْري، عن مسعود ابن الحَكَم، عن عبد الله بن حُذافة السَّهمي قال: أمرني رسولُ الله ﷺ أن أُنادي في أهل مِنى: أن"لا يصومَنَّ هذه الأيامَ أحدٌ، فإنها أيامُ أكلٍ وشُرب" (3) .
سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں منیٰ میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دوں: ”ان دنوں میں کوئی بھی روزہ نہ رکھے، کیونکہ یہ کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6795]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سويد بن سعيد كذا وقع في النسخ الخطية، ولا يعرف لسويد بن سعيد رواية عن قرة بن عبد الرحمن، والذي يروي عن قرة إنما هو سويد بن عبد العزيز، ويؤيده رواية غير المصنف كما سيأتي في التخريج، وعلى كلٍّ فكِلا السويدين ضعيف، وكذلك شيخه قرة ...» [ترقيم الرساله 6795] [ترقيم الشركة 6715]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6796
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البزَّار والفضل ابن محمد البيهقي، قالا: حدثنا نُعيم بن حماد، أخبرنا هُشيم، عن سيَّار (1) ، عن أبي وائل، أنَّ عبد الله بن حُذافة بن قيس قال: يا رسولَ الله، من أبي؟ قال:"أبوك حُذافةُ، الولدُ للفِراش وللعاهرِ الحَجَرُ" قال: لو دعوتَني لَحَبشي لاتَّبعتُه، فقالت له أمُّه: لقد عرَّضتَني، فقال: إني أحببتُ أن أستريح (2) . ذكرُ أبي بُرْدة بن نِيَار ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابووائل سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے، بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر (محرومی) ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ مجھے کسی حبشی کی طرف منسوب کر دیتے تو میں اس کی بھی پیروی کرتا، تو ان کی والدہ نے ان سے کہا: تم نے (ایسا سوال کر کے) میری عزت کو خطرے میں ڈال دیا تھا، انہوں نے جواب دیا: میں تو بس (اس شک سے) سکون پانا چاہتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6796]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، نعيم بن حماد متكلم فيه، ورواية أبي وائل -وهو شقيق ابن سلمة- عن عبد الله بن حذافة مرسلة، قال ابن البرقى: حُفظ عنه -أي: ابن حذافة- ثلاثة أحاديث ليست بصحيحة الاتصال. وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 5/ 15: رواه الطبراني وهو مرسل، ورجاله ثقات!» [ترقيم الرساله 6796] [ترقيم الشركة 6716] [ترقيم العلميه 6651]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره