🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
986. ذكر عبد الله بن حذافة السهمي رضى الله عنه
سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6794
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بعثَ النبيُّ ﷺ علقمةَ بن مُجزِّز على بعثٍ، فلما بَلَغْنا رأسَ مَغْزانا (1) أَذِنَ لطائفة من الجيش، وأمَّر عليهم عبدَ الله بن حُذافة بن قيس السَّهمي، وكان من أهل بدر، وكانت فيه دُعابة، فإنه كان يُرحِّلُ ناقةَ رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه ليُضحكَه بذلك، وكان الرُّومُ قد أسَروه في زمن عمرَ بن الخطاب فأرادوه على الكُفر، فعَصَمَه اللهُ ﷿ حتى أنجاه الله ﵎ منهم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن محرز رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، جب ہم میدان جنگ کے قریب پہنچے تو لشکر کی ایک جماعت کو انہوں نے اجازت دی اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ آپ بدری صحابہ میں سے ہیں، اور ان میں خوش طبعی کی عادت تھی بعض اوقات سفروں میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو چلایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں روم نے ان کو گرفتار کر لیا تھا، انہوں نے ان کو کفر اختیار کرنے پر بہت مجبور کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو کفر سے محفوظ رکھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قید سے رہائی عطا فرما دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6794]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6794 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: معرارًا، والمثبت من (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ص) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "معراراً" ہو گیا ہے، ہم نے نسخہ (ب) کے مطابق اسے درست کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير، وعبد العزيز بن محمد: هو الدراوردي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یحییٰ بن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر ہیں اور عبد العزیز بن محمد سے مراد الدراوردی ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 18/ (11639)، وابن ماجه (2863)، وابن حبان (4558) من طريق يزيد بن هارون، عن محمد بن عمرو بن علقمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11639)، ابن ماجہ (2863) اور ابن حبان (4558) نے یزید بن ہارون عن محمد بن عمرو بن علقمہ کی اسی سند سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔