🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا". وَخَنَسَ سُلَيْمَانُ أُصْبُعَهُ فِي الثَّالِثَةِ يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِينَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب و کتاب، مہینہ ایسا، ایسا اور ایسا ہوتا ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا)، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2319]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اُمّی امت ہیں، ہم لکھنا نہیں جانتے اور نہ (دقیق) حساب کر سکتے ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیاں پھیلا کر اشارے سے فرمایا) مہینہ ایسے ہوتا ہے اور ایسے ہوتا ہے اور ایسے ہوتا ہے۔ اور تیسری بار میں سلیمان بن حرب نے اپنی ایک انگلی بند کر لی، یعنی انتیس دن اور تیس دن۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 13(1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن النسائی/الصیام 8 (2142)، (تحفة الأشراف: 7075)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1654)، مسند احمد (2/122) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1913) صحيح مسلم (108)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ". قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ، فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلَا قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلَا يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔ سو چاند دیکھے بغیر نہ روزے شروع کرو اور نہ دیکھے بغیر ختم کرو۔ اگر بادل کے باعث نظر نہ آئے تو اس مہینے کے تیس دن کا اندازہ لگا لو۔ چنانچہ جب شعبان کی انتیسویں تاریخ ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے چاند دیکھا جاتا۔ اگر نظر آ جاتا تو بہتر اور اگر دکھائی نہ دیتا اور نظر نہ آنے میں کوئی بادل یا غبار بھی حائل نہ ہوتا تو وہ روزہ نہ رکھتے۔ لیکن اگر فضا میں کوئی بادل یا غبار حائل ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ ہی روزہ چھوڑتے اور حساب کے درپے نہ ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 2(1080)،(تحفة الأشراف: 7536، 19146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/5) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح قد دون قوله فكان ابن عمر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1080)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَادَ:" وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقْدَرُ لَهُ أَنَّا إِذَا رَأَيْنَا هِلَالَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا، فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ".
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں (تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2321]
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اہل بصرہ کی طرف لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے جیسے کہ مذکورہ بالا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے: بہترین اندازہ یہ ہے کہ اگر ہم نے شعبان کا چاند فلاں فلاں دن دیکھا تو روزہ ان شاء اللہ فلاں دن کا ہوگا الا یہ کہ لوگ اس سے پہلے ہی چاند دیکھ لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7536 و 19146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحديث مرسل ولم يخبر الإمام عمر بن عبد العزيز ممن بلغه به
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) انتیس انتیس روزے بہت زیادہ رکھے ہیں اور تیس تیس کم۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 6 (689)، (تحفة الأشراف: 9478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/441، 397، 405، 408، 441، 450) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (689 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا  مُسَدَّدٌ ، أَنَّ  يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ  حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا  خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ  عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ  أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ: رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " .
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2323]
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 12(1912)، صحیح مسلم/الصوم 7 (1089)، سنن الترمذی/الصوم 8 (692)، سنن ابن ماجہ/الصیام 9 (1659)، (تحفة الأشراف: 11677)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38، 47، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں ایک ہی سال میں انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے، ایک اگر انتیس ہے تو دوسرا تیس کا ہو گا، ایک مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے اگر انتیس دن کے ہوں تب بھی پورے مہینے کا ثواب ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1912) صحيح مسلم (1089)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں