المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1156. ذِكْرُ فَضِيلَةٍ أُخْرَى لِلْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ لَمْ يُقَدَّرْ ذِكْرُهَا مِنْ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ
اوس اور خزرج کی ایک اور فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7159
أخبرنا الحسين بن الحسن، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُميدي، حدثنا علي بن يزيد بن أبي حَكيمة (1) ، عن أبيه وغيرِه، عن سلمة بن الأكوع: أنَّ عامر بن الطُّفيل لم يدخلِ المدينةَ إلَّا بأمانٍ من رسول الله ﷺ، فلما جاء النبيَّ ﷺ قال له النبيُّ:"يا عامرُ، مَن أَسلَمَ يَسلَمُ"، قال: نعم، على أنَّ ليَ الوَبَرَ ولك المَدَرَ، قال:"هذا لا يكونُ، أَسلِمْ تَسلَمْ يا عامرُ"، فقال النبيُّ ﷺ:"اذهَبْ حتى ننظُرَ في أمرِك إلى غدٍ"، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى الأنصار، فقال:"ماذا تَرَون؟ إني قد دعوتُ هذا الرجلَ، فأبَى أن يُسلِمَ إلَّا أن يكون له الوَبَرُ وليَ المَدَرُ"، فقالوا: ما شاء الله، ثم شئتَ يا رسولَ الله، ما أخذُوا مِنَّا عِقالًا إلَّا أخذنا منهم عِقالَين، فالله ورسولُه أعلم، فرجع عامرٌ إلى النبيِّ ﷺ الغدَ، فقال له النبيُّ ﷺ:"تُسلِمُ يا عامرُ"، قال: لا، إلّا أن يكونَ لي الوَبَرُ ولك المَدَرُ، فقال النبيُّ ﷺ:"ليسَ إلَّا ذلك؟"، فأبَى إلَّا أن يكونَ له الوَبرُ وللنبيِّ ﷺ المَدَرُ، فأبَى النبيُّ ﷺ، فقال عامرٌ: أما (2) والله لأملأنَّها عليك خَيْلًا ورِجالًا، فقال له النبيُّ ﷺ:"يأبَى الله ذلكَ عليكَ وابنا قَيْلَة الأوسُ والخزرجُ"، ثم ولَّى عامرٌ، فقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ اكفِنيهِ"، فرماه الله بالذُّبَحَة قبل أن يأتيَ أهلَه، فقال عامرٌ حينَ أخذته الذُّبَحة: يا آل عامرٍ، هذه (3) غُدَّةٌ كغُدَّة البَكْر، فهلكَ ساعةَ أخذته دونَ أهلِه (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6983 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6983 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عامر بن طفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان لیے بغیر مدینہ میں داخل نہیں ہوا تھا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے عامر! جو اسلام لاتا ہے وہ سلامت رہتا ہے“، اس نے کہا: جی ہاں، اس شرط پر کہ صحرائی و بدوی علاقے «الْوَبَرَ» میرے ہوں اور شہری و دیہی علاقے «الْمَدَرَ» آپ کے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہیں ہو سکتا، اے عامر! اسلام لے آؤ سلامت رہو گے“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چلے جاؤ یہاں تک کہ ہم کل تمہارے معاملے پر غور کریں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور دریافت فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے اس شخص کو دعوت دی ہے مگر وہ اس شرط کے بغیر اسلام لانے سے انکار کرتا ہے کہ صحرا پر اس کی حکومت ہو اور شہر پر میری“، انہوں نے عرض کیا: جو اللہ چاہے اور پھر جو آپ چاہیں یا رسول اللہ! انہوں نے جنگ میں ہم سے ایک اونٹ باندھنے والی رسی «عِقَالًا» لی تو ہم نے ان سے اس کے بدلے دو لیں، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، اگلے دن عامر دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اے عامر! کیا تم اسلام لاتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، بجز اس کے کہ صحرا میرا ہو اور شہر آپ کا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں؟“ مگر اس نے اسی بات پر اصرار کیا کہ خیموں والے علاقے اس کے ہوں اور مٹی کے گھروں والے علاقے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرط ماننے سے انکار فرما دیا، عامر نے غصے میں کہا: آگاہ رہو! اللہ کی قسم، میں آپ کے خلاف مدینہ کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہونے دے گا اور نہ ہی قبیلہ قیلہ کی اولاد یعنی اوس اور خزرج ایسا ہونے دیں گے“، پھر جب عامر پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِ» ”اے اللہ! اس کے مقابلے میں تو میرے لیے کافی ہو جا“، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گلے کی سخت سوزش یا خناق «الذُّبَحَةَ» کی بیماری میں مبتلا کر دیا، جب اسے یہ مرض لاحق ہوا تو وہ پکار اٹھا: اے آلِ عامر! یہ تو اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی نکل آئی ہے، چنانچہ وہ اپنے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اسی وقت ہلاک ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7159]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة علي بن يزيد وأبيه. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 326» [ترقيم الرساله 7159] [ترقيم الشركة 7078] [ترقيم العلميه 6983]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7160
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السمَّاك، حدثنا عبد الملك بن محمد، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا قُرَّة بن خالد، حدثنا أبو الزُّبير، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن يَصعَدُ ثَنيَّةَ المُرَار - أو المَرَار - فإنَّه يُحَطُّ عنه ما حُطَّ عن بني إسرائيلَ"، فكان أولَ من صَعِدَها خَيْلُنا خَيْلُ بني الخَزرَج، فقال رسول الله ﷺ:"كلُّكم مغفورٌ لهم إلَّا صاحبَ الجَمَل الأحمر"، قال: وإذا هو أعرابيٌّ يَنشُدُ ضالَّةً له، قلنا: تعالَ يستغفِرْ لك رسولُ الله ﷺ، فقال: لأن أجِدَ ضالَّتي أحبُّ إليَّ من أن يَستغفِرَ لي صاحبُكم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6984 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6984 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مرار (یا مرار) کی گھاٹی پر چڑھے گا، اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جائیں گے جیسے بنی اسرائیل کے گناہ جھڑے تھے“، تو سب سے پہلے اس پر ہمارے گھوڑے یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب کی مغفرت کر دی گئی ہے سوائے سرخ اونٹ والے کے“، راوی کہتے ہیں: وہ ایک اعرابی تھا جو اپنا گمشدہ جانور تلاش کر رہا تھا، ہم نے اس سے کہا: آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے، تو اس نے کہا: میرا اپنا گمشدہ جانور پا لینا مجھے تمہارے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے استغفار سے زیادہ محبوب ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7160]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7160]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. عبد الملك بن محمد: هو أبو قلابة الرقاشي، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.» [ترقيم الرساله 7160] [ترقيم الشركة 7079] [ترقيم العلميه 6984]
الحكم على الحديث: إسناده قوي. عبد الملك بن محمد: هو أبو قلابة الرقاشي
حدیث نمبر: 7161
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا رَوْح بن عُبادة، عن هشام بن حسَّان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ما ضَرَّ امرأةً نزلت بينَ جاريتَينِ من الأنصار، أو أُنزلت بين أبوَيْها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ فضيلةِ بني تَميمٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ فضيلةِ بني تَميمٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو کوئی نقصان نہیں جو انصار کی دو پڑوسنوں کے درمیان قیام کرے یا اسے اس کے والدین کے پاس ٹھہرا دیا جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7161]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7161]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وأعله أبو حاتم الرازي في "العلل" بالوقف.» [ترقيم الرساله 7161] [ترقيم الشركة 7080] [ترقيم العلميه 6985]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات