🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1156. ذكر فضيلة أخرى للأوس والخزرج لم يقدر ذكرها من فضائل الأنصار
اوس اور خزرج کی ایک اور فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7160
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السمَّاك، حدثنا عبد الملك بن محمد، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا قُرَّة بن خالد، حدثنا أبو الزُّبير، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن يَصعَدُ ثَنيَّةَ المُرَار - أو المَرَار - فإنَّه يُحَطُّ عنه ما حُطَّ عن بني إسرائيلَ"، فكان أولَ من صَعِدَها خَيْلُنا خَيْلُ بني الخَزرَج، فقال رسول الله ﷺ:"كلُّكم مغفورٌ لهم إلَّا صاحبَ الجَمَل الأحمر"، قال: وإذا هو أعرابيٌّ يَنشُدُ ضالَّةً له، قلنا: تعالَ يستغفِرْ لك رسولُ الله ﷺ، فقال: لأن أجِدَ ضالَّتي أحبُّ إليَّ من أن يَستغفِرَ لي صاحبُكم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6984 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص ثنیۃ المرار پر چڑھے اس کو وہ چیز معاف کر دی جائے گی جو چیز بنی اسرائیل کو معاف کر دی گئی تھی، چنانچہ اس پہاڑی پر سب سے پہلے بنی خزرج کے گھوڑے چڑھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب کی مغفرت کر دی گئی ہے سوائے سرخ رنگ کے گھوڑے والے آدمی کے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ایک دیہاتی شخص تھا، اپنا گمشدہ اونٹ ڈھونڈتا پھر رہا تھا، ہم نے اس سے کہا: آ جا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے مغفرت کی دعا کر دیں، اس نے کہا: میرا گمشدہ اونٹ مجھے مل جائے، تمہارے نبی سے مغفرت کی دعا کروانے سے زیادہ خوشی مجھے اس بات کی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7160]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7160 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي. عبد الملك بن محمد: هو أبو قلابة الرقاشي، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" (مضبوط) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: عبدالملک بن محمد سے مراد "ابو قلابہ الرقاشی" ہیں، اور ابو عامر العقدی سے مراد "عبدالملک بن عمرو القیسی" ہیں۔
وأخرجه مسلم (2780) عن عبيد الله بن معاذ العنبري، عن أبيه، عن قرة بن خالد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2780) میں عبید اللہ بن معاذ العنبری از معاذ بن معاذ از قرہ بن خالد کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📝 نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اس روایت کو بطورِ استدراک لانا ان کا "ذہول" (بھول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
ورواه خداش بن عياش عند الترمذي (3863) عن أبي الزبير، عن جابر، عن النبي ﷺ قال: "ليدخلن الجنة من بايع تحت الشجرة إلَّا صاحبَ الجمل الأحمر"، وقال: غريب. فجعل قصة الجمل الأحمر في بيعة الرضوان بالحديبية، وخداش روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال الترمذي: لا نعرفه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے خداش بن عیاش نے امام ترمذی (3863) کے ہاں ابوالزبیر از حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "درخت کے نیچے بیعت کرنے والے تمام لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے سرخ اونٹ والے کے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "غریب" قرار دیا ہے، اس روایت میں سرخ اونٹ والے کا قصہ حدیبیہ میں بیعتِ رضوان کے موقع پر ذکر کیا گیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "خداش" سے صرف تین افراد نے روایت کی ہے، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے جبکہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم انہیں (بطورِ معروف راوی) نہیں جانتے۔
ورواه الليث بن سعد عند أحمد 23 / (14778)، وأبي داود (4653)، والترمذي (3860)، والنسائي (11444)، وابن حبان (4802)، عن أبي الزبير، عن جابر بلفظ: "لا يدخل النارَ أحدٌ ممن بايع تحت الشجرة"، ليس فيه ذكر صاحب الجمل.
📖 حوالہ / مصدر: لیث بن سعد نے اسے امام احمد (14778)، ابوداؤد (4653)، ترمذی (3860)، نسائی (11444) اور ابن حبان (4802) کے ہاں ابوالزبیر از حضرت جابر کی سند سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: "درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہوگا"۔ 📌 اہم نکتہ: اس (زیادہ مستند) روایت میں اونٹ والے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔
وروى أبو سفيان طلحةُ بن نافع عن جابر مرفوعًا بلفظ: لن يدخل النارَ رجل شهد بدرًا والحديبيةَ"، أخرجه أحمد 23/ (15262).
📖 حوالہ / مصدر: ابوسفیان (طلحہ بن نافع) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ الفاظ روایت کیے ہیں: "وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہوگا جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا"۔ اسے امام احمد نے (15262) میں روایت کیا ہے۔
قوله: "المرار" قال النووي في "شرح مسلم" 17/ 126: هكذا هو في الرواية الأولى: المُرَار بضم الميم وتخفيف الراء، وفي الثانية: المُرار أو المَرار بضم الميم أو فتحها على الشك، وفي بعض النسخ بضمها أو كسرها، والله أعلم. والمرار شجر مُرٌّ، وأصل الثنيَّة: الطريقُ بين جَبَلينِ، وهذه الثنية عند الحديبية.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "المرار" کے بارے میں امام نووی "شرح مسلم" (17/ 126) میں فرماتے ہیں: پہلی روایت میں یہ "المُرَار" (میم کے ضمہ اور راء کی تخفیف کے ساتھ) ہے، دوسری میں ضمہ یا فتحہ کے شک کے ساتھ ہے، اور بعض نسخوں میں کسرہ بھی مروی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: "المرار" ایک کڑوے درخت کا نام ہے، اور "ثنیہ" سے مراد دو پہاڑوں کے درمیان کا راستہ ہے؛ یہ مخصوص راستہ حدیبیہ کے مقام پر تھا۔