🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1156. ذكر فضيلة أخرى للأوس والخزرج لم يقدر ذكرها من فضائل الأنصار
اوس اور خزرج کی ایک اور فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7159
أخبرنا الحسين بن الحسن، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُميدي، حدثنا علي بن يزيد بن أبي حَكيمة (1) ، عن أبيه وغيرِه، عن سلمة بن الأكوع: أنَّ عامر بن الطُّفيل لم يدخلِ المدينةَ إلَّا بأمانٍ من رسول الله ﷺ، فلما جاء النبيَّ ﷺ قال له النبيُّ:"يا عامرُ، مَن أَسلَمَ يَسلَمُ"، قال: نعم، على أنَّ ليَ الوَبَرَ ولك المَدَرَ، قال:"هذا لا يكونُ، أَسلِمْ تَسلَمْ يا عامرُ"، فقال النبيُّ ﷺ:"اذهَبْ حتى ننظُرَ في أمرِك إلى غدٍ"، فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى الأنصار، فقال:"ماذا تَرَون؟ إني قد دعوتُ هذا الرجلَ، فأبَى أن يُسلِمَ إلَّا أن يكون له الوَبَرُ وليَ المَدَرُ"، فقالوا: ما شاء الله، ثم شئتَ يا رسولَ الله، ما أخذُوا مِنَّا عِقالًا إلَّا أخذنا منهم عِقالَين، فالله ورسولُه أعلم، فرجع عامرٌ إلى النبيِّ ﷺ الغدَ، فقال له النبيُّ ﷺ:"تُسلِمُ يا عامرُ"، قال: لا، إلّا أن يكونَ لي الوَبَرُ ولك المَدَرُ، فقال النبيُّ ﷺ:"ليسَ إلَّا ذلك؟"، فأبَى إلَّا أن يكونَ له الوَبرُ وللنبيِّ ﷺ المَدَرُ، فأبَى النبيُّ ﷺ، فقال عامرٌ: أما (2) والله لأملأنَّها عليك خَيْلًا ورِجالًا، فقال له النبيُّ ﷺ:"يأبَى الله ذلكَ عليكَ وابنا قَيْلَة الأوسُ والخزرجُ"، ثم ولَّى عامرٌ، فقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ اكفِنيهِ"، فرماه الله بالذُّبَحَة قبل أن يأتيَ أهلَه، فقال عامرٌ حينَ أخذته الذُّبَحة: يا آل عامرٍ، هذه (3) غُدَّةٌ كغُدَّة البَكْر، فهلكَ ساعةَ أخذته دونَ أهلِه (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6983 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عامر بن طفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے امان کے بعد شہر میں داخل ہوا، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے عامر! اسلام لے آ، تو سلامتی پائے گا۔ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس شرط پر کہ میرے لئے دیہاتی علاقہ ہو گا اور آپ کے لئے شہری علاقہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں ہو گا، تو اسلام قبول کر لے، سلامتی پائے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عامر! ابھی فی الحال تم چلے جاؤ، کل تک ہم تیرے معاملے پر غور کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی جانب پیغام بھیجا اور ان سے مشورہ کیا کہ میں نے اس آدمی کو دعوت دی تھی، اس نے اسلام لانے کو اس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے کہ اس کے لئے دیہاتی علاقہ ہو گا اور ہمارے لئے شہری۔ انصار نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی اور جیسے آپ مناسب سمجھیں، انہوں نے کہا: اگر اس نے ہم سے ایک عقال (اونٹ باندھنے کی رسی) لی ہے تو ہم نے بدلے میں دو عقال وصول کی ہیں۔ اس لئے اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ عامر (اگلے دن) دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا: اے عامر! اسلام لے آ، سلامتی پا جائے گا۔ اس نے کہا: میری وہی شرائط ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مدر ہو اور اس کے لئے وبر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔ عامر نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس انسانوں اور گھوڑوں کی بھیڑ لگا دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس بات کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی قبیلہ اوس اور خزرج کے لوگ اس شرط کو قبول کرتے ہیں۔ عامر پلٹ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! اس سے میری کفایت فرما۔ اس کے اپنے گھر جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کو حلق کے درد میں مبتلا کر دیا، وہ کہنے لگا: اے آل عامر! میرے گلے میں وہ گلٹی بن گئی ہے جو بکریوں کے گلے میں بیماری کی وجہ سے بنا کرتی ہے۔ وہ شخص گھر پہنچنے سے پہلے، راستے میں ہی، اسی لمحے وہ ہلاک ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7159]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7159 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: حليمة، وضبب عليها في الأولى، وفي (م) و (ص) مكانها بياض.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف ہو کر یہاں غلطی سے "حلیمہ" لکھا گیا ہے، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں یہ جگہ خالی (بیاض) چھوڑی گئی ہے۔
(2) ليست في (م) و (ص)، وضبب عليها في (ز).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ لفظ نسخہ (م) اور (ص) میں موجود نہیں ہے، اور نسخہ (ز) میں اس پر نشانِ شک (تضبیب) ہے۔
(3) ليست في (م) و (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ حصہ نسخہ (م) اور (ص) میں درج نہیں ہے۔
(4) إسناده ضعيف لجهالة علي بن يزيد وأبيه. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 326 - 327 عن الحميدي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ علی بن یزید اور ان کے والد کی "جہالت" (مجہول ہونا) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 8/ 326-327 میں عبد اللہ بن زبیر الحمیدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري في "صحيحه" (4091) من حديث أنس: أنَّ النبي ﷺ بعث خالَه - أخ لأم سُليم - في سبعين راكبًا، وكان رئيس المشركين عامر بن الطفيل خيَّر بين ثلاث خصال، فقال: يكون لك أهلُ السهل، ولي أهل المَدَر، أو أكون خليفتك، أو أغزوك بأهل غطفان بألف وألف، فطُعن عامر في بيت أم فلان فقال: غُدّة كغدّة البكر في بيت امرأة من آل فلان! ائتوني بفرسي، فمات على ظهر فرسه.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اپنی "صحیح" (4091) میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ماموں (حرام بن ملحان، جو ام سلیم کے بھائی تھے) کو ستر سواروں کے ساتھ بھیجا۔ مشرکوں کا سردار عامر بن طفیل طاعون کی گلٹی نکلنے کی وجہ سے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی مر گیا۔ 🧾 تفصیلِ روایت: عامر بن طفیل نے مرتے وقت کہا تھا: "کیا اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور وہ بھی آلِ فلاں کی عورت کے گھر میں (مجھے نکلی)!"
فانطلق حرامٌ أخو أم سليم - وهو رجل أعرج - ورجل من بني فلان، قال: كونا قريبًا حتى آتيَهم، فإن آمنوني كنتم، وإن قتلوني أتيتم أصحابكم، فقال: أتؤمِّنوني أبلِّغ رسالة رسول الله ﷺ، فجعل يحدّثهم، وأَومؤوا إلى رجل، فأتاه من خلفه فطعنه حتى أنفذه بالرمح، قال: الله أكبر، فزتُ وربِّ الكعبة، فلُحِق الرجل، فقُتلوا كلهم غيرَ الأعرج كان في رأس جبل، فأنزل الله علينا، ثم كان من المنسوخ: (إنا قد لَقِينا ربنا فرضيَ عنا وأرضانا). فدعا النبي ﷺ عليهم ثلاثين صباحًا، على رِغْلٍ وذكوانَ وبني لِحيان وعُصيةَ الذين عَصَوا الله ورسوله، ﷺ.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ جب پیغام پہنچا رہے تھے تو ایک مشرک نے پیچھے سے نیزہ مار کر انہیں شہید کر دیا۔ انہوں نے خون ہاتھوں میں لے کر چہرے پر ملا اور فرمایا: "اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا"۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جو بعد میں منسوخ ہو گئی: "ہم اپنے رب سے جا ملے، وہ ہم سے راضی ہوا اور ہمیں راضی کر دیا"۔ نبی ﷺ نے تیس دن تک فجر میں رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ قبائل پر بددعا فرمائی۔