المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. اسْتِمَاعُ بَيَانِ الْخَصْمَيْنِ وَاجِبٌ عَلَى الْقَاضِي
قاضی پر دونوں فریقین کا موقف سننا واجب ہے
حدیث نمبر: 7200
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن الحسن بن أحمد الحَرَّاني، حدثنا جَدِّي، حدثنا موسى بن أعيَن، عن بكر بن حُنَيس (1) ، عن رجاء بن حَيْوة، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن يزيد بن أبي سفيان، قال: قال لي أبو بكر الصِّديِّق حين بعثني إلى الشام: يا يزيدُ إنَّ لك قرابةً عَسَيتَ أن تُؤثرَهم بالإمارة، ذلك أكثرُ ما أخافُ عليك، فقد قال رسول الله ﷺ:"مَنْ وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا، فأمَّرَ عليهم أحدًا محاباةً (2) ، فعليه لعنةُ الله، لا يَقبَلُ اللهُ منه صرفًا ولا عَدْلًا حتى يُدخِلَه جهنَّمَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن ابی سفیان فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی جانب بھیجا تو فرمایا: اے یزید! بے شک تیری رشتہ داریاں ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم ان کو امارت میں ترجیح دو، اس چیز کا مجھے تم پر بہت خوف ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس کو مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے، وہ محض اپنے تعلقات کی بناء پر کسی (نااہل) کو ان کا امیر بنا دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کے فرائض و نوافل قبول نہیں کرتا اور اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7200]