المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الْإِمَارَةُ أَمَانَةٌ وَهِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ
حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
حدیث نمبر: 7194
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عثمان بن محمد الأخنَسي، عن سعيد المَقُبْري، عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال:"مَن جُعِل قاضيًا، فكأنما ذُبِحَ بغير سِكِّين" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7018 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7018 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو قاضی بنا دیا گیا، گویا کہ اس کو بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7194]
حدیث نمبر: 7195
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا شُعيب بن الليث بن سعد، حدثني أبي، عن يحيى بن سعيد، عن الحارث بن يزيد الحضرمي: أنَّ أبا ذرٍّ قال لرسول الله ﷺ: أمِّرْني، فقال:"إنَّك ضعيفٌ وإنها أمانةٌ، وإنها يومَ القيامة خِزيٌ ونَدَامة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيّب عن أبي ذرٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7019 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيّب عن أبي ذرٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7019 - صحيح
حارث بن یزید حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امیر بنا دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کمزور ہو، اور امارت ایک امانت ہوتی ہے، اور (اگر اس کا حق پورا ادا نہ کیا جائے تو) قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا باعث ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک اور سند بھی بیان کی گئی ہے اس کے مطابق یحیی بن سعید کے ذریعے سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوذر تک پہنچتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7195]
حدیث نمبر: 7196
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا صَدَقة بن موسى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المُسيّب، عن أبي ذر قال: قلتُ: يا رسولَ الله أمِّرني، قال:"الإمارةُ أمانةٌ، وهي يومَ القيامة خِزْيٌ ونَدامة، إِلَّا من أَمَرَ بحقّ وأدَّى بالحقِّ عليه فيها" (1) .
یحیی بن سعید، سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امیر بنا دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت، امانت ہوتی ہے (اور اگر اس کو صحیح طور پر ادا نہ کیا گیا تو) یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہو گی۔ البتہ جو شخص میرٹ پر قاضی مقرر ہوا اور اس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا (وہ اس ہلاکت سے بچ جائے گا) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7196]
حدیث نمبر: 7197
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن بلال بن أبي موسى، عن أنس بن مالك: أنَّ الحجّاج أراد أن يجعله على قضاء البصرة، فقال أنسٌ: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"مَن طَلَبَ القضاءَ واستعان عليه وُكِلَ إليه، ومن لم يَطلُبْه ولم يَستعِنْ عليه، وُكِّلَ به ملكٌ يُسدِّدُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7021 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7021 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حجاج نے ان کو بصرہ کا قاضی بنانا چاہا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے قضاء کی طلب کی اور اس پر کسی کی مدد مانگی، وہ اسی کے سپرد کر دی جائے گی، اور جس نے اس کو طلب نہیں کیا اور نہ اس پر کسی سے مدد مانگی اس پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو فیصلوں میں اس کی مدد کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7197]
حدیث نمبر: 7198
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، أن سليمان بن حبيب حدَّثهم عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لتُنتَقَضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، فكلما انتقضَتْ عُرُوةٌ تَشبَّثَتْ بالتي يَلِيها (2) ، وأولُ نَقضِها الحُكْمُ، وآخرُها الصَّلاةُ" (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: عبد العزيز: هذا هو ابن عُبيد الله بن حمزة بن صهيب (1) ، وإسماعيل: هو ابن عبيد الله بن [أبي] المُهاجر، والإسناد كله صحيح، ولم يخرجاه.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی رسی ایک ایک کر کے ٹوٹتی جائے گی، جب کبھی ایک رسی ٹوٹے گی، اس کا سارا بوجھ اس کے ساتھ والی پر آ جائے گا۔ سب سے پہلی رسی عدلیہ کی ٹوٹے گی اور سب سے آخری نماز۔ (یعنی اسلام اس وقت کمزور ہونا شروع ہو جائے گا جب جج کرپٹ ہو جائیں گے اور اسلام کی رسی کا آخری دھاگہ نماز ہے جب لوگ اس سے بھی لا پرواہ ہو جائیں گے تو ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہے گا) ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: یہ عبدالعزیز، عبیداللہ بن حمزہ بن صہیب کا بیٹا ہے۔ اور اسماعیل جو ہے، وہ عبداللہ بن مہاجر کا بیٹا ہے۔ پوری اسناد صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7198]
حدیث نمبر: 7199
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن عبد العزيز الطَّيالسي، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حسين بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن استعملَ رجلًا من عِصابة، وفي تلك العِصابة مَنْ هو أرضَى لله منه، فقد خانَ الله وخانَ رسولَه وخانَ المؤمنين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی ایسے شخص کو کسی جماعت کا امیر بنایا کہ اس جماعت میں اس سے بھی زیادہ اہلیت کا حامل شخص موجود ہو، اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ خیانت کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7199]