🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. الْإِمَارَةُ أَمَانَةٌ وَهِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ
حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7195
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا شُعيب بن الليث بن سعد، حدثني أبي، عن يحيى بن سعيد، عن الحارث بن يزيد الحضرمي: أنَّ أبا ذرٍّ قال لرسول الله ﷺ: أمِّرْني، فقال:"إنَّك ضعيفٌ وإنها أمانةٌ، وإنها يومَ القيامة خِزيٌ ونَدَامة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيّب عن أبي ذرٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7019 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کسی جگہ کا امیر بنا دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (اس معاملے میں) کمزور ہو اور یہ ایک امانت ہے، اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ روایت یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب کے واسطے سے ابوذر سے نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7195]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا الإسناد لم يُذكر الواسطة فيه بين الحارث بن يزيد وأبي ذر، وذكرت عند مسلم وغيره.» [ترقيم الرساله 7195] [ترقيم الشركة 7114] [ترقيم العلميه 7019]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7196
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا صَدَقة بن موسى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المُسيّب، عن أبي ذر قال: قلتُ: يا رسولَ الله أمِّرني، قال:"الإمارةُ أمانةٌ، وهي يومَ القيامة خِزْيٌ ونَدامة، إِلَّا من أَمَرَ بحقّ وأدَّى بالحقِّ عليه فيها" (1) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی کام کا ذمہ دار (امیر) بنا دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمرانی ایک امانت ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہے، سوائے اس شخص کے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور اس میں اپنی ذمہ داریوں کو حق کے ساتھ ادا کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة بن موسى.» [ترقيم الرساله 7196] [ترقيم الشركة 7115]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7197
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن بلال بن أبي موسى، عن أنس بن مالك: أنَّ الحجّاج أراد أن يجعله على قضاء البصرة، فقال أنسٌ: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"مَن طَلَبَ القضاءَ واستعان عليه وُكِلَ إليه، ومن لم يَطلُبْه ولم يَستعِنْ عليه، وُكِّلَ به ملكٌ يُسدِّدُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7021 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجاج (بن یوسف) نے ارادہ کیا کہ انہیں بصرہ کا قاضی مقرر کر دے، تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے منصبِ قضا (جج بننا) طلب کیا اور اس پر دوسروں سے مدد مانگی تو اسے اسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور جس نے اسے طلب نہیں کیا اور نہ ہی اس پر مدد مانگی تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو اسے درست فیصلے کی راہ دکھاتا (تسدید کرتا) ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7197]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الأعلى - وهو ابن عامر الثعلبي - وبلال بن أبي موسى - وهو بلال بن مرداس - ضعيفان. ونسب بلال في بعض المصادر التي خرّجت هذا الحديث: بلال بن أبي بردة بن أبي موسى إلّا أنَّ أبا عوانة اليشكري خالف إسرائيل، فسماه بلال بن مرداس، كما زاد ...» [ترقيم الرساله 7197] [ترقيم الشركة 7116] [ترقيم العلميه 7021]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7198
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، أن سليمان بن حبيب حدَّثهم عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لتُنتَقَضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، فكلما انتقضَتْ عُرُوةٌ تَشبَّثَتْ بالتي يَلِيها (2) ، وأولُ نَقضِها الحُكْمُ، وآخرُها الصَّلاةُ" (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: عبد العزيز: هذا هو ابن عُبيد الله بن حمزة بن صهيب (1) ، وإسماعيل: هو ابن عبيد الله بن [أبي] المُهاجر، والإسناد كله صحيح، ولم يخرجاه.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی کڑیاں (عروہ) ایک ایک کر کے ٹوٹ جائیں گی، پس جب بھی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس سے اگلی کڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، ان کڑیوں میں سب سے پہلے حکمرانی (حکم) کی کڑی ٹوٹے گی اور سب سے آخر میں نماز کی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اس سند میں عبدالعزیز سے مراد عبدالعزیز بن عبید اللہ بن حمزہ بن صہیب ہیں اور اسماعیل سے مراد اسماعیل بن عبید اللہ بن ابی مہاجر ہیں، اور یہ پوری سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7198]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وقول المصنِّف: عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، وهمٌ سيأتي التنبيه عليه. وهو في "مسند الإمام أحمد" 36/ (22160).» [ترقيم الرساله 7198] [ترقيم الشركة 7117]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7199
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن عبد العزيز الطَّيالسي، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حسين بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن استعملَ رجلًا من عِصابة، وفي تلك العِصابة مَنْ هو أرضَى لله منه، فقد خانَ الله وخانَ رسولَه وخانَ المؤمنين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی گروہ یا جماعت پر کسی ایسے شخص کو عامل (ذمہ دار) مقرر کیا حالانکہ اس جماعت میں کوئی دوسرا ایسا شخص موجود تھا جو اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ (اور اہل) تھا، تو یقیناً اس (مقرر کرنے والے) نے اللہ، اس کے رسول اور تمام مومنین کے ساتھ خیانت کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7199]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، حسين بن قيس الرحبي المعروف بحنش متروك.» [ترقيم الرساله 7199] [ترقيم الشركة 7118] [ترقيم العلميه 7023]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7200
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن الحسن بن أحمد الحَرَّاني، حدثنا جَدِّي، حدثنا موسى بن أعيَن، عن بكر بن حُنَيس (1) ، عن رجاء بن حَيْوة، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن يزيد بن أبي سفيان، قال: قال لي أبو بكر الصِّديِّق حين بعثني إلى الشام: يا يزيدُ إنَّ لك قرابةً عَسَيتَ أن تُؤثرَهم بالإمارة، ذلك أكثرُ ما أخافُ عليك، فقد قال رسول الله ﷺ:"مَنْ وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا، فأمَّرَ عليهم أحدًا محاباةً (2) ، فعليه لعنةُ الله، لا يَقبَلُ اللهُ منه صرفًا ولا عَدْلًا حتى يُدخِلَه جهنَّمَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے فرمایا: اے یزید! تمہارے کچھ رشتے دار ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم انہیں حکمرانی میں ترجیح (جانبداری) دو، یہ وہ سب سے بڑی بات ہے جس کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جسے مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا جائے، پھر وہ محض جانبداری و رعایت «مُحَابَاةً» کی بنیاد پر کسی کو ان کا امیر مقرر کر دے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی نفل (صرف) اور نہ ہی کوئی فرض (عدل) قبول کرے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کر دے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 7200] [ترقيم الشركة 7119]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں