🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ
اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7201
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان البزَّار (4) بمكة حرسها الله تعالى على الصَّفا، حدثنا محمد بن علي بن زيد، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا شَريك، عن سِماك بن حرب، عن حَنَش، عن علي قال: بَعَثَني رسول الله ﷺ إلى اليمن، فقلتُ: تَبعَثُني إلى قوم ذَوِي أسنانٍ وأنا حَدَثُ السِّنِّ؟! قال:"إذا جلس إليك الخَصْمَانِ، فلا تقضِ لأحدِهما حتى تسمعَ من الآخر كما سمعتَ من الأول". قال عليٌّ: فما زلتُ قاضيًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7025 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کا عامل بنا کر بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے ادھیڑ عمر کے لوگوں کا عامل بنا کر بھیج رہے ہیں جبکہ میں تو ابھی زیادہ عمر والا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیرے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئیں تو صرف ایک پارٹی کی بات سن کر فیصلہ نہیں کر دینا بلکہ جس طرح پہلے کی بات سنی ہے اسی طرح دوسرے کی بھی پوری بات سن کر پھر فیصلہ کرنا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آج تک قاضی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7201]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7202
أخبرنا أزهر بن حَمدُون المُنادي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا أبو العوام، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن ابن أبي أَوفى قال: قال رسول الله ﷺ:""إِنَّ الله مع القاضي ما لم يَجُرْ، فإذا جارَ تَبَرّأَ اللهُ ﷿ منه" (2) . أبو العوام هذا: عِمران بن داوَرَ (1) القطَّان، والإسناد صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7026 - صحيح
ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ناانصافی نہ کرے، جب وہ ناانصافی کرتا ہے تب اللہ تعالیٰ اس سے اپنا ذمہ ختم کر دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے ایک راوی جو ابوالعوام ہیں، ان کا نام عمران بن داؤد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7202]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7203
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أبو عُتبة أحمد (2) بن الفرج، حدثنا بقيّة بن الوليد، عن يزيد بن أبي مريم، عن القاسم بن مُخيمِرة، عن أبي مريم صاحب رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا فاحتجب دونَ خَلَّتِهم وحاجتِهم وفقرهِم، وفاقَتِهم، احتجبَ اللهُ ﷿ يوم القيامة دون خَلَّتِه وفاقتِه وحاجتِه وفقرِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإسناده شاميٌّ صحيح. وله شاهدٌ بإسناد البصريين صحيح عن عَمرو بن مُرَّة الجُهَني عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7027 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابومریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے اور وہ ان کی رشتہ داریوں، ان کی ضروریات اور ان کے فقر و فاقہ کا خیال نہ رکھے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی دوستی، اس کی ضروریات اور اس کے فقر و فاقہ کا کوئی لحاظ نہیں کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی اسناد شامی ہے، صحیح ہے۔ بصریین کی اسناد کے ہمراہ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7203]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں