🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. الْخَصْمَانِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7215
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن جُريج، أخبرنا زياد بن سعد، عن هِلال بن أسامة: أنَّ أبا ميمونة سُليمًا، من أهل المدينة رجلُ صِدْقٍ - قال: بينا أنا جالسٌ عند أبي هريرة جاءته امرأةٌ فارسية معها ابنٌ لها، وقد طلَّقها زوجُها، فقالت: يا أبا هريرة، ثم رَطَنَت فقالت بالفارسية: زوجي يريد أن يذهبَ بابني، قال: فجاء زوجُها فقال: من يُحاقُّني؟ فقال أبو هريرة: إنِّي لا أقولُ في هذا إلَّا أَنِّي سمعتُ أنَّ امرأةً جاءت إلى النبي ﷺ وأنا قاعدٌ عنده، فقالت: فِداكَ أبي وأمِّي يا رسول الله، إِنَّ زوجي يريدُ أن يذهبَ بابني، وهو يَسقِيني من بئر أبي عِنَبة، وقد نَفَعَني، فقال:"استَهِما عليه" فقال زوجُها: من يُحاقُّني في ولدي يا رسولَ الله؟ فقال النبي ﷺ:"يا غلامُ، هذا أبوك، وهذه أمُّك، فخُذْ بيدِ أيِّهما شئتَ" فأخذ الغلامُ بيد أمِّه، فانطلقت به (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7039 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابومیمونہ کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک فارسی خاتون آئی جس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، اسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ اس نے اپنی فارسی زبان میں کلام کرتے ہوئے کہا: اے ابوہریرہ! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر لے جانا چاہتا ہے، اسی دوران اس کا شوہر بھی آگیا اور کہنے لگا: کون ہے جو میرے بچے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا سوائے اس کے جو میں نے خود سنا ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میں وہیں بیٹھا ہوا تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے حالانکہ یہ مجھے بئر ابی عنبہ سے پانی پلا کر نفع پہنچاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس پر قرعہ اندازی کر لو، شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے فرمایا: اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تم ان دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ تھام لو، چنانچہ اس لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7215]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.» [ترقيم الرساله 7215] [ترقيم الشركة 7134] [ترقيم العلميه 7039]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں