🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. الْخَصْمَانِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7214
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف مولى الزُّبير، عن عبد الله بن الزُّبير، قال: كانت جاريةٌ لزَمْعَةَ يَطَؤُها، وكانت تُظَنُّ برجلٍ آخرَ أنه يقع عليها، فمات زَمْعةُ وهي حاملٌ، فولدت غلامًا يُشبهُ الرجلَ الذي كان يُظَنُّ به (1) ، فذكرت سَوْدةُ للنبي ﷺ، فقال:"أما الميراثُ فله، وأما أنتِ فاحتَجِبي منه، فإنه ليس لك بأخٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7038 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمعہ کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ وطی کیا کرتے تھے، اس لونڈی کے بارے میں گمان کیا جاتا تھا کہ کسی اور آدمی نے بھی اس سے وطی کی ہے۔ زمعہ کا وصال ہوا تو اس وقت وہ حاملہ تھی، اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، اس کی شباہت اس آدمی جیسی تھی جس کے بارے میں گمان کیا جاتا تھا کہ اس نے اس لونڈی کے ساتھ وطی کی ہے، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بچہ (زمعہ کا) وارث ہے۔ تم اس شخص سے پردہ کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7214]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں