المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. ذَكَاةُ كُلِّ مَسْكٍ دِبَاغُهُ
ہر کھال کی پاکیزگی اس کی دباغت (رنگنے) میں ہے
حدیث نمبر: 7329
حدَّثَناه أبو الطيِّب محمد بن أحمد الحِيرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا موسى بن هارون البَرْدي، حدثنا مَعْن بن عيسى (1) ، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن ابن عمر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"ما قُطِعَ من البَهيمةِ وهي حَيَّةٌ، فهو مَيْتٌ" (2) .
زید بن اسلم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زندہ جانور سے گوشت کا جو ٹکڑا کاٹ لیا گیا ہو، وہ مردار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7329]
حدیث نمبر: 7330
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعيم بن حمَّاد، حدثنا أبو أسامة، حدثنا حماد بن السائب، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن الحارث، قال: سمعتُ ابنَ عباس يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ذَكاةُ كلِّ مَسْكٍ دِباغُه"، فقلت له: إِنَّا نسافرُ مع هذه الأعاجم، ومعهم قُدُور يَطبُخون فيها المَيْتةَ ولحمَ الخنازير، فقال:"ما كان من فَخَّارٍ فاغلُوا فيها الماءَ ثم اغسِلوها، وما كان من النُّحاس فاغسِلوه، فالماءُ طَهُورٌ لكلِّ شيء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7153 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7153 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر کھال کی صفائی یہ ہے کہ اس کو دباغت دے دی جائے، میں نے عرض کی: ہم ان عجمیوں کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں، ان کے ساتھ ہانڈیاں ہوتی ہیں، یہ ان میں مردار اور خنزیر کا گوشت پکاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں جو پکی مٹی کے بنے ہوئے برتن ہوں، اس میں پانی بال کر اس کو دھو لیا کرو، اور جو برتن تانبے کے بنے ہوئے ہیں ان کو سادہ طریقے سے دھو لیا کرو، پانی ہر چیز کے لئے پاک کنندہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7330]