🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. جَوَازُ أَكْلِ الْمَيْتَةِ عِنْدَ الْإِضْرَارِ
مجبوری کی حالت میں مردار کھانے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7331
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا حَرمَلة بن عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة الجُهَني، حدثني أبي عبد العزيز بن الربيع بن سَبْرة، عن أبيه، عن جَدِّه قال: قال رسول الله ﷺ لأصحابه حين نَزَلَ الحِجْرَ:"من عَمِلَ من هذا الماء [طعامًا] (2) فليُلْقِه"، قال: فمنهم من عَجَنَ العجين، ومنهم من حاسَ الحَيْسَ فَأَلْقَوه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7154 - وعلى شرط واحد منهما
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صحابہ کرام (مقام) حجر میں اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جس نے اس پانی سے کھانا بنایا ہے وہ اس کو گرا دے (سیدنا سبرہ) فرماتے ہیں: ان میں سے بعض لوگوں نے اس پانی کے ساتھ آٹا گوندھا تھا، اور کچھ لوگوں نے حیس بنایا تھا۔ ان سب نے سب کچھ گرا دیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7331]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7332
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب وإسحاق بن الحسن، قالا: حدثنا عفّان، حدثنا أبو عَوَانة، عن سِماك بن حرب، عن جابر بن سَمُرة قال: فُلِتَ (1) بغلٌ عند رجلٍ، فأتى رسولَ الله ﷺ يستفتيه، فزعم جابر بن سَمُرة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لصاحبها:"أما لك ما يُغنيكَ عنها؟" قال: لا، قال:"اذهَبْ فكُلْها" (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7155 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی کا خچر مر گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا۔ جابر بن سمرہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر کے مالک سے کہا: کیا تیرے پاس اور کوئی چیز نہیں ہے جو تجھے اس سے بے نیاز کر دے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا، تو اس کو کھا لے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7332]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7333
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الأوزاعي، حدثنا حسان بن عطيّة، عن أبي واقدٍ اللَّيثي قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّا بأرضٍ مَخْمَصةٍ، فما يَحِلُّ لنا من المَيْتة؟ قال:"إذا لم تَصطَبِحوا، ولم تَغْتبِقوا، ولم تَحتَفِئوا (1) بها بَقْلًا، فشأنَكم بها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7156 - فيه انقطاع
ابوواقد لیثی فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ بنجر علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہمارے لئے کوئی مردار جائز نہیں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں نہ صبح کو کچھ کھانے کو میسر ہو، نہ شام کے وقت کچھ میسر ہو، اور کھیتوں میں بھی کوئی چیز نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7333]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7334
حدثنا أبو بكر بن إسحاق إملاءً، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى. وأخبرني أحمد بن محمد بن صالح السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن ثَور بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن سَمُرة بن جُندب، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إذا رَوَّيْتَ أهلَك من اللَّبن غَبُوقًا، فاجتنِبْ ما نهى اللهُ عنه من مَيْتَةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله أصلٌ بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7157 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کو اونٹنی کے دودھ سے سیراب کر لو تو اللہ تعالیٰ نے جس مردار کے کھانے سے منع کیا ہے، اس سے بچ کر رہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی اصل بھی موجود ہے اور وہ ایسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں