🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. كُلْ عِنْدَ أَخِيكَ وَلَا تَسْأَلْهُ عَنِ الشَّيْءِ
اپنے بھائی کے ہاں کھانا کھاؤ اور (زیادہ) سوال نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7336
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا المُعافَى بن عِمران، عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم، عن ضَمْرة بن حبيب، عن أم عبد الله (1) أختِ شدَّاد بن أوس: أنها بعثت إلى النبيِّ ﷺ بقَدَحِ لبنٍ عند فِطْرِه، وذلك في طول النهار وشدَّة الحرِّ، فردَّ إليها الرسولَ: ["أنَّى لكِ هذا اللَّبنُ؟" قالت: من شاةٍ لي، قال] (2) :"أنَّى لكِ هذه الشاةُ؟" قالت: اشتريتُها من مالي، فشَرِبَ، فلمّا أن كان من الغد، أتت أمُّ عبد الله رسولَ الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، بعثتُ إليك بذلك اللَّبن مَرْثِيَةً لك من شدّةِ الحرِّ وطولِ النهار، فرَدَدتَ إليَّ فيه الرسولَ، فقال النبيُّ ﷺ:"بذلكِ أُمِرَتِ الرسلُ ألَّا تأكلَ إلَّا طيّبًا، ولا تعملَ إلَّا صالحًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7159 - ابن أبي مريم واه
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن ام عبداللہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دودھ کا پیالہ نذر بھیجا اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، وہ دن بھی بہت لمبا تھا اور گرمی بھی بہت شدید تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس بھیجا اور پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ انہوں نے بتایا کہ میری اپنی بکری کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھوایا کہ وہ بکری تم نے کہاں سے لی؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے مال سے خریدی تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ اگلے دن ام عبداللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں تو عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کا دن بہت لمبا تھا اور گرمی بھی بہت سخت تھی (آپ روزے سے بھی تھے) اس لئے میں نے آپ کی ہمدردی کے طور پر آپ کی خدمت میں دودھ کا نذرانہ پیش کیا تھا، لیکن آپ نے وہ واپس بھیج دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسولوں کو یہی حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صرف حلال چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7336]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا مسلم بن خالد، حدثني زيد بن أسلم، عن سُمَيّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا دخلَ أحدُكم على أخيه فأطعَمَه طعامًا، فليأكُلْ منه ولا يَسأَلْه عنه، وإن سَقَاه شرابًا فليشرَبْ منه ولا يَسألْ عنه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے کسی بھائی کے پاس جاؤ، وہ اس کو کھانا پیش کرے تو اس کو چاہیے کہ اس میں سے کھا لے اور اس سے (تفصیل) نہ پوچھے (کہ یہ کھانا حلال کمائی سے بنایا گیا ہے یا حرام سے) اور جو مشروب پیش کرے وہ پی لے اور اس سے کوئی تحقیق نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں