🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. حِكَايَةُ إِيثَارِ الصَّحَابِيِّ فِي الضِّيَافَةِ
مہمان نوازی میں صحابی رضی اللہ عنہ کے ایثار کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7352
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا السَّمْح حدَّثه، أنَّ أبا الهيثم حدَّثه، عن أبي سعيد الخُدْري، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"أيُّما (1) رجلٍ كسب مالًا من حلال، فأطعمَ نفسَه وكَسَاها فمَن دونَه من خلقِ الله، فإنّه له زكاةٌ، وأيُّما رجلٍ مسلم لم يكن له صدقةٌ، فليقُلْ في دعائه: اللهمَّ صلِّ على محمدٍ عبدِك ورسولِك، وصلِّ على المؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات، فإنَّه له زكاةٌ"، وقال:"لا يَشبعُ مؤمن يَسمعُ خيرًا حتى يكونَ مُنتهاه الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7175 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حلال کمائی کر کے اس میں سے خود کھا لے، اور پہن لے وہ بھی اس کے لئے صدقہ کی حیثیت رکھتی ہے، اگرچہ وہ دوسروں کو نہ دے۔ جس مسلمان کے پاس صدقہ دینے کے لئے کوئی چیز نہ ہو , اس کو چاہیے کہ وہ یہ درود شریف پڑھ لیا کرے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔ (درود شریف یہ ہے) اللھم صل علی محمد عبدک و رسولك و صل علی المومنین والمومنات والمسلمین والسلمات اور فرمایا: مومن نیکی کی بات سننے سے سیر نہیں ہوتا، حتیٰ کہ وہ جنت پہنچ جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7352]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7353
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا فُضيل بن مرزوق، حدثنا عَديّ بن ثابت، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أصابني الجَهْدُ، فأرسلَ إلى نسائِه فلم يَجِدْ عندهنَّ شيئًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"ألَا رجلٌ يُضِيفُ هذا الليلةَ ﵀"، فقام رجلٌ من الأنصار فقال: أنا يا رسولَ الله. فذهب إلى أهله، فقال لامرأته: ضيفُ رسول الله ﷺ لا تَدَّخريهِ شيئًا، قالت: والله ما عندي إلَّا قوتُ الصِّبْية، قال: فإذا أراد الصِّبيةُ العَشَاءَ فنوِّميهم وتعالَيْ فأطفِئي السِّراج، ونَطْوي بطونَنا الليلةَ، ففعلَتْ ثم غَدًا الرجلُ على رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"لقد عَجِبَ اللهُ - أي: لقد ضَحِكَ اللهُ ﷿ من فلانٍ وفلانةَ"، وأنزل الله تبارك تعالى: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [الحشر: 9] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7176 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی جانب پیغام بھیجا تو پتا چلا کہ ان کے ہاں بھی کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہے کوئی شخص جو آج رات اس مہمان کی مہمان نوازی کرے، اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کرے گا۔ ایک انصاری صحابی اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خدمت کروں گا۔ وہ اس کو اپنے گھر لے گئے، اپنی بیوی سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، ہم اس سے کوئی چیز بھی بچا کر نہیں رکھیں گے۔ بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! بچوں کی غذا کے علاوہ گھر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ جب بچوں کے شام کے کھانے کا وقت ہو گا تو ہم انہیں سلا دیں گے، تم اٹھ کر چراغ گل کر دینا، ہم آج رات صبر کریں گے۔ ان کی زوجہ نے ایسا ہی کیا، اگلی صبح وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو یہ شخص اور اس کی بیوی بہت اچھے لگے، اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے لائق) ان پر مسکرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: 9] اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (امام احمد رضا) ٭٭ یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7353]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں