🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. تَعْلِيمُ النَّبِيِّ إِعْتَاقَ الْعَبْدِ
نبی کریم ﷺ کی غلام آزاد کرنے سے متعلق تعلیم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7354
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا محمد بن فَضَاء (2) ، حدثني أبي، عن علقمة بن عبد الله المُزَنِي، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا اشترى أحدُكم لحمًا فلْيُكثِرْ (3) مَرَقَه، فإن لم يُصِبْ أحدُكم لحمًا أصاب مَرَقًا، وهو أحد اللَّحمَين" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7177 - محمد بن فضاء الأزدي ضعفه ابن معين
علقمہ بن عبداللہ مزنی اپنے والد کے حوالے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص گوشت خریدے تو (پکاتے وقت) اس میں شوربا زیادہ کرے، کیونکہ کسی کو بوٹی ملے نہ ملے، شوربا تو مل ہی جائے گا۔ اور گوشت کا شوربا بھی ایک قسم کا گوشت ہی ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7354]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7355
أخبرنا عَبْدان بن يزيد (1) بن يعقوب الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس العسقلاني، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الملك بن عُمَير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في ساعةٍ لا يَخرجُ فيها ولا يَلْقاه فيها أحدٌ، فأتاه أبو بكر فقال:"ما جاءَ بك يا أبا بكر؟" فقال: خرجتُ للُقيِّ رسولِ الله ﷺ والنظرِ في وجهه والسلامِ عليه، فلم يَلبَث أن جاء عمرُ فقال له:"ما جاءَ بك يا عمرُ؟" قال: الجوعُ يا رسولَ الله، قال:"وأنا قد وَجَدتُ بعضَ ذاكَ"، فانطَلَقوا (2) إلى منزل أبي الهيثم بن التَّيِّهان الأنصاري، وكان رجلًا كثيرَ النَّخل والشَّاءِ، ولم يكن خدمٌ، فلم يَجِدوه، فقالوا لامرأته: أين صاحبُك؟ فقالت: انطلقَ يستعذبُ لنا الماءَ، فلم يَلبَثوا أن جاء أبو الهيثم بقِربة يَزْعُبُها، فوَضَعَها، ثم جاء فالتَزَمَ رسولَ الله ﷺ ويُفدِّيه بأبيه وأمّه، فانطلق بهم إلى حديقة، فبسط لهم بِساطًا، ثم انطلق إلى نخلة فجاء بقِنْوٍ فوضعه، فقال رسول الله ﷺ:"أفلا انتَقَيتَ لنا من رُطَبه؟" فقال: يا رسولَ الله، إني أردتُ أن تَخَيَّروا من بُسْرِه ورُطَبه، فأكلوا وشربوا من ذلك الماء، فقال رسول الله ﷺ:"هذا واللهِ النعيمُ الذي أنتم عنه مسؤولون يومَ القيامة: ظِلُّ بارد، ورُطَبٌ طيِّب، وماءٌ بارد". فانطلق أبو الهيثم ليصنع لهم طعامًا، فقال له رسول الله ﷺ:"لا تذبحَنَّ ذاتَ دَرٍّ"، فذبح لهم عناقًا أو جَدْيًا، فأتاهم به فأكلوا، فقال له رسول الله ﷺ:"هل لك خادمٌ؟" قال: لا، قال:"فإذا أتانا سَبْيٌ فأْتِنا"، فأُتِيَ رسولُ الله ﷺ برأسين ليس معهما ثالث، فأتاه أبو الهيثم، فقال له رسول الله ﷺ:"اختَرْ منهما" فقال: يا رسولَ الله، اختَرْ لي، فقال رسول الله ﷺ:"المستشارُ مؤتَمَنٌ، خُذْ هذا، فإني رأيتُه يُصلِّي، واستَوصِ به معروفًا". فانطلق أبو الهيثم بالخادم إلى امرأته، فأخبرها بقول رسولِ الله ﷺ، فقالت له امرأتُه: ما أنتَ ببالغِ ما قال فيه رسولُ الله ﷺ إلَّا أن تُعتِقَه، فقال: هو عَتيقٌ. فقال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا ولا خليفةً إلَّا وله بِطانَتانِ: بطانةٌ تأمرُه بالمعروف وتَنْهاه عن المنكر، وبطانةٌ لا تَأْلُوه خَبَالًا، من يُوقَ بِطانةَ السُّوءِ فقد وُقِيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن عُبيد وعبد الله بن كَيسان عن عِكْرمة عن ابن عباس، أتمَّ وأطولَ من حديث أبي هريرة هذا. أمّا حديث يونس بن عُبيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ [ص:146] _x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ عموماً اس وقت آپ باہر نہیں نکلا کرتے تھے، اور نہ ہی اس وقت میں آپ سے کوئی ملاقات کے لئے جاتا تھا، اسی وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر! تم کیوں آئے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات، ان کی زیارت اور سلام کے لئے آیا ہوں، ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عمر! تم کس لئے آئے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک بہت لگی ہے۔ (سیدنا ابوہریرہ) فرماتے ہیں: بھوک تو مجھے بھی لگی ہوئی تھی، یہ سب لوگ سیدنا ابوہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے، اس صحابی کے بہت باغات اور کافی بکریاں تھیں، ان کا کوئی خادم نہیں تھا، یہ لوگ گھر گئے تو ابوہیثم گھر میں موجود نہ تھے، ان لوگوں نے ان کی زوجہ سے کہا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: پانی بھرنے گئے ہیں، ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ابوہیثم مشکیزہ اٹھائے آ گئے، انہوں نے مشکیزہ رکھا اور آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بغلگیر ہو گئے، اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، پھر وہ ان سب کو ایک باغ میں لے گئے، ان کے لئے چادر بچھائی اور خود ایک درخت کی طرف چلے گئے، اور کھجوروں کا ایک گچھا توڑ کر لائے اور ان کو پیش کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے صرف تازہ کھجوریں ہی چن کر کیوں نہ لے آئے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ارادہ تھا کہ آپ اپنی مرضی سے جو چاہیں، لے لیں۔ ان سب نے کھجوریں کھائیں اور وہ پانی پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! یہی نعمتیں ہیں، جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا، ٹھنڈا سایہ، عمدہ تازہ کھجوریں، ٹھنڈا پانی۔ سیدنا ابوہیثم ان لوگوں کے لئے کھانا بنوانے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کوئی دودھ والی بکری ذبح مت کرنا، چنانچہ ابوہیثم نے ان کے لئے عناق (بکری کا بچہ جس کی عمر ابھی ایک سال نہ ہوئی ہو) یا جدی (بکری کا بچہ جو ایک سال کا ہو چکا ہو) ذبح کر کے (بھون کر) ان کے پاس لے آئے، ان لوگوں نے اس کو کھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟ ابوہیثم رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب جب میرے پاس قیدی آئیں گے تو تم میرے پاس آ جانا (میں تمہیں خادم دے دوں گا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی آئے، ان کے ساتھ کوئی تیسرا نہیں تھا۔ ابوہیثم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور خادم مانگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے جو چاہو لے لو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خود ہی میرے لئے چن دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے، تم یہ غلام لے جاؤ کیونکہ میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا۔ سیدنا ابوہیثم خادم کو لے کر اپنی بیوی کی طرف لوٹے، گھر پہنچ کر بیوی کو سارا ماجرا سنایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت بھی سنائی۔ ان کی زوجہ نے ان سے کہا: تم وہ بات سمجھ ہی نہیں سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کہی ہے، جب تک تم اس کو آزاد نہیں کر دیتے تب تک تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی حقیقی فرمانبرداری کو پہنچ ہی نہیں سکتے۔ ابوہیثم نے اس کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس نبی یا خلیفہ کو بھیجا ہے اس کے دو ساتھی ہوتے ہیں، ایک ساتھی اس کو بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا اس کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور جو برے رازداں سے بچ گیا، وہ واقعی بچ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو یونس بن عبید اور عبداللہ بن کیسان نے عکرمہ کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، ان کی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بہ نسبت زیادہ طویل اور تام ہے۔ نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ عام طور پر اس وقت آپ باہر نہیں نکلا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر! تم اس وقت کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک لگی ہے۔ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: ہم جاہلیت میں بن بلائے دعوت پر چلے جایا کرتے تھے، ایک آدمی کو دعوت پر بلایا جاتا تو وہ ایک اور آدمی کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا جس کو دعوت نہیں دی گئی ہوتی۔ اور وہ عادت آج بھی تم میں موجود ہے، جیسے کوئی شخص اپنا دین کسی دوسرے کے پیچھے سوار کرا دے۔ ابراہیم ہجری نے یہ حدیث ابوالاحوص سے روایت کی ہے، یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مہمان کسی قوم کے پاس جائے، اور وہ لوگ مہمان کو نہ پوچھیں تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق میزبان کی ہنڈیا سے اس کی اجازت کے بغیر لے سکتا ہے۔ اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے۔ یونس بن عبید کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7355]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7356
فأخبَرَنيهِ محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا عبد الله بن عيسى أبو خلف الخزّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم من بيته عند الظَّهيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال:"يا أبا بكر، ما أخرَجَك هذه الساعةَ؟" قال: أخرجني الذي أخرجَك يا رسولَ الله، ثم جاء عمرُ، فقال:"ما أخرَجَك يا ابنَ الخطاب؟" فقال: أخرجني الذي أخرجكما، ثم ذكر الحديث بطوله، وزاد فيه:"فلما خرجَ رسولُ الله ﷺ أخذ بعِضَادَتَي الباب وردَّها، فقال:"أكلَ طعامَكم الأبرارُ، وأفطرَ عندكم الصائمونَ، وصلَّتْ عليكم الملائكةُ" (1) . وأمَّا حديث عبد الله بن كَيْسان:
7356 - سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ: ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) مسجد میں بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں اس وقت (گھر سے) کس چیز نے نکالا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسی (بھوک) نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا۔ پھر سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:اے خطاب کے بیٹے! تمہیں کس چیز نے نکالا؟انہوں نے عرض کیا: مجھے بھی اسی نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا۔ پھر راوی نے مکمل طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کھانا کھا کر میزبان کے گھر سے) نکلے تو دروازے کے دونوں بازو پکڑ کر اسے بند کیا اور (میزبان کے لیے دعا دیتے ہوئے) فرمایا: تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا، تمہارے ہاں روزے داروں نے افطار کیا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے مغفرت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7356]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7357
فأخبرَناه أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان، حدثنا عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ أبو بكر بالهاجرة من المسجد، فسمع بذلك عمرُ فخرج، فقال: يا أبا بكر، ما أخرجَك هذه الساعةَ؟ فقال: ما أخرَجَني إلَّا ما أجدُ من حاقِّ الجُوع، فقال: وأنا والذي نفسي بيده ما أخرجني غيرُه، فبينما هما كذلك إذ خرج عليهما النبيُّ ﷺ، فقال:"ما أخرَجَكما هذه الساعةَ؟" فقالا: والله ما أخرَجَنا إِلَّا ما نجدُ من حاقٌّ الجوع في بطوننا، فقال:"وأنا والذي نفسي بيده ما أخرَجَني غيرُه، فقوما فانطَلِقا حتى نأتيَ بابَ أبي أيوب الأنصاريِّ، وكان يدَّخِرُ للنبيِّ ﷺ طعامًا كان أو لَبنًا، فأبطأَ عنه يومئذٍ، فلم يأتِ لحِينِه (2) فأطعَمَه أهلَه، وانطَلَقَ إلى نخلِه يعملُ فيها، فذكر الحديث بطوله، وزاد فيه: فلما أدركا الطعامَ ووُضِع بين يدي النبيِّ ﷺ وأصحابه، أخذَ من الجَدْي فجعله في رغيف، ثم قال:"يا أبا أيوب، أبلِغْ بهذا فاطمةَ، فإنها لم تُصِبْ مثلَ هذا منذ أيام"، فذهب به أبو أيوب إلى فاطمة، فلما أكلوا وشَبِعُوا، قال النبي ﷺ:"خبزٌ ولحمٌ وتمرٌ وبُسْرٌ ورُطَب!"، ودَمَعَت عيناه، وقال:"والذي نفس محمد بيده، إنَّ هذا لَهُو الذي تُسألون عنه يوم القيامة، قال الله ﷿: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [التكاثر: 8] فهذا النَّعيم الذي تُسألون عنه يوم القيامة"، فكبُرَ ذلك على أصحابه، فقال:"بلى، إذا أصبتُم مثلَ هذا فضربتُم بأيديكم، فقولوا: باسم الله وبركة الله، فإذا شبعتُم، فقولوا: الحمدُ الله الذي هو أشبَعَنا وأَرْوانا وأنعمَ علينا وأفضلَ، فإنَّ هذا كَفَافُ هذا" (1) ، وذكر حديث الوليدةِ باسم أبي أيوب، والمعاني قريبة. وقد رُوي هذا الحديث عن عبد الله بن عمر عن النبي ﷺ:
7357 - سیدنا ابن عباس (رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ: سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سخت دوپہر کے وقت مسجد سے باہر نکلے، سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) کو پتہ چلا تو وہ بھی باہر آ گئے اور پوچھا:اے ابوبکر! آپ کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے سوائے شدید بھوک کے اور کسی چیز نے باہر نہیں نکالا۔ سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! مجھے بھی اسی کے علاوہ کسی اور چیز نے باہر نہیں نکالا۔ وہ دونوں اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمیں سوائے اس شدید بھوک کے جو ہم اپنے پیٹ میں محسوس کر رہے ہیں، کسی اور چیز نے نہیں نکالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! مجھے بھی اسی کے علاوہ کسی اور چیز نے باہر نہیں نکالا، اٹھو اور میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ وہ سب سیدنا ابوایوب انصاری (رضی اللہ عنہ) کے دروازے پر آئے ؛ وہ (ابوایوب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا یا دودھ بچا کر رکھا کرتے تھے، لیکن اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے میں تاخیر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول کے وقت پر نہ پہنچ سکے، تو انہوں نے وہ (کھانا) اپنے گھر والوں کو کھلا دیا تھا اور خود اپنے نخلستان میں کام کرنے چلے گئے تھے۔ پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ: جب کھانا تیار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے بچے کا کچھ گوشت لیا اور اسے ایک روٹی میں رکھا، پھر فرمایا: اے ابوایوب! یہ فاطمہ تک پہنچا دو، کیونکہ اس نے کئی دنوں سے ایسا کھانا نہیں چکھا۔ سیدنا ابوایوب وہ کھانا لے کر سیدنا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے۔ پھر جب سب نے کھانا کھایا اور سیر ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روٹی، گوشت، خشک کھجوریں، کچی کھجوریں اور تازہ پکی ہوئی کھجوریں!، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! بے شک یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: 'پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا: جائے گا'، پس یہ وہ نعمت ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا۔ یہ بات صحابہ پر گراں گزری (وہ فکر مند ہوئے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں (ضرور پوچھا: جائے گا)، لیکن جب تم ایسا کھانا پاؤ اور اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھاؤ تو کہو: «باسم الله وبركة الله» (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کی برکت سے)، اور جب تم سیر ہو جاؤ تو کہو: «الحمد لله الذى هو اشبعنا واروانا وانعم علينا وافضل» (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، سیراب کیا اور ہم پر انعام و فضل فرمایا)، پس یہ کلمات اس (سوال) کا بدلہ ہو جائیں گے۔ اور (راوی نے) ابوایوب کے نام سے لونڈی والی حدیث بھی ذکر کی ہے، اور ان کے معانی قریب قریب ہیں۔ اور یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7357]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7358
أخبرَناه أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا أبو مسلم، حدثنا بكّار بن محمد بن عبد الله بن محمد بن سِيرِين، حدثنا عبد الله بن عمر العُمَري، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ خرج في ساعةٍ لم يكن يخرُجُ فيها، وخرجَ أبو بكر، فقال:"ما أخرجَكَ يا أبا بكر؟" قال: أخرَجَني الجوعُ، قال:"وأنا أخرَجَني الذي أخرَجَكَ"، ثم جاء عمرُ فقال:"ما أخرجَكَ؟" قال: الجوعُ، ثم جاء بعد ذلك عدةٌ من أصحابِه، فقال لهم:"انطلِقُوا بنا إلى منزل أبي الهيثم بن التَّيِّهان"، وذكر الحديث (1) .
7358 - سیدنا ابن عمر (رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے وقت میں (گھر سے باہر) تشریف لائے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر نہیں نکلا کرتے تھے، اور سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) بھی باہر نکل آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:اے ابوبکر! تمہیں کس چیز نے باہر نکالا ہے؟انہوں نے عرض کیا:مجھے بھوک نے نکالا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اور مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے۔ پھر سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:تمہیں کس چیز نے باہر نکالا؟انہوں نے عرض کیا:بھوک نے۔ پھر اس کے بعد آپ کے کئی اور صحابہ بھی آگئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر چلو۔ اور پھر راوی نے (مکمل) حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7358]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7359
حدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّعْراء، عن عمِّه أبي الأحوص، قال: قال عبد الله: كنا نَعُدُّ الإمَّعةَ في الجاهلية الرجلَ يُدعَى إلى الطعام فيذهبُ بآخرَ معه ولم يُدْعَ، وهو اليومَ فيكم المُحقِبُ دينَه الرِّجالَ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي بإسناد صحيح شاهد [له] :
7359 - سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ: "زمانہ جاہلیت میں ہم 'امّعہ' (بن پیندی کا لوٹا/دوسروں کے پیچھے چلنے والا) اس شخص کو سمجھتے تھے جسے کھانے پر بلایا جائے اور وہ اپنے ساتھ کسی دوسرے کو بھی لے جائے جسے دعوت نہ دی گئی ہو؛ لیکن آج تم میں 'امّعہ' وہ شخص ہے جو اپنے دین کے معاملے میں آنکھیں بند کر کے لوگوں کی پیروی کرتا ہے"۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اور اس کے شاہد کے طور پر ایک صحیح سند کے ساتھ (یہ اثر بھی) مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7359]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7360
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سليمان بن حرب وعمرو بن مرزوق، قالا: حدثنا شُعبة، عن إبراهيم الهَجَري، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، قال: كُنَّا نسمِّي الإمَّعةَ في الجاهلية الرجل يُدعى إلى الطعام فيَتبَعُه الرجلُ، وهو اليومَ الذي يُحقِبُ الناسَ دينَه، فكنا نسمّي العِضَةَ السِّحرَ، وهو اليومَ قيلَ وقالَ (1) .
7360 - سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ: "زمانہ جاہلیت میں ہم 'امّعہ' اس شخص کو کہتے تھے جسے کھانے پر بلایا جاتا تو (کوئی دوسرا بن بلایا) شخص اس کے پیچھے چل پڑتا، لیکن آج 'امّعہ' وہ ہے جو اپنے دین کے معاملے میں لوگوں کی (اندھی) پیروی کرے۔ اور ہم جاہلیت میں 'العِضہ' جادو کو کہتے تھے، جبکہ آج اس سے مراد 'قیل و قال' (بیکار باتوں اور چغل خوری کے ذریعے فساد پیدا کرنا) ہے"۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7360]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7361
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثني أَبي، أخبرنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن أبي طلحة - وهو نُعيم بن زياد - عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال:"أَيُّما ضَيفٍ نزلَ بقومٍ فأصبحَ الضَّيفُ محرومًا، فله أن يأخذَ بقَدْرِ قِرَاهُ، ولا حَرَجَ عليه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
7361 - سیدنا ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو مہمان کسی قوم کے ہاں اترے اور صبح وہ مہمان (اپنی ضیافت سے) محروم رہے، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مہمانی کے بقدر (ان کے مال سے) لے لے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہے"۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اور اس کا ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد (بھی موجود) ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7361]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7362
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، حدثنا عمار بن عبد الجبار، حدثنا شُعبة، عن أبي الجُوديِّ، عن سعيد بن المهاجر، عن المِقدام بن أبي كَريمة، عن النبيِّ ﷺ قال:"أيُّما مسلمٍ أضافَ قومًا فأصبحَ الضَّيفُ محرومًا، فإنَّ حقًّا على كلِّ مسلمٍ نصرُه حتى يأخُذَ بقِرَى ليلتِه من زرعِه ومالِه" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7179 - صحيح
مقدام بن ابی کریمہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کے پاس مہمان جائے، اور مہمان ان کی ضیافت سے محروم رہ جائے، تو ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس مہمان کی مدد کرے۔ یہاں تک کہ مہمان اسی رات ان کی ہنڈیا سے، ان کی فصل سے اور اس کے مال سے بقدر ضرورت لے سکتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7362]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں