🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. النَّهْيُ الْوَاضِحُ عَنْ تَحْصِينِ الْحِيطَانِ وَالنَّخِيلِ
دیواروں اور کھجور کے درختوں کو (لوگوں سے) محفوظ کرنے (روکنے) کی واضح ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7365
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا شُعبة، عن أبي بشر قال: سمعت عبَّاد بن شُرحبيل قال: أصابَتْنا مَجاعةٌ، فأتيتُ المدينةَ، فدخلتُ حائطًا من حِيطانها، فأخذتُ سُنبلًا فعَرَكتُه (2) فأكلتُ منه وجعلتُ منه في ثوبي، فجاء صاحبُ الحائط فضربني وأخذَ ثوبي، فأتيتُ النبيَّ ﷺ، فقال:"ما علَّمتَه إذ كان جاهلًا، ولا أطعمتَه إذ كان ساغبًا أو جائعًا، قال: فردَّ عليَّ الثوبَ، وأمرَ لي بنصف وَسْقٍ أو وَسْقٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7182 - صحيح
سیدنا عباد بن شرحبیل فرماتے ہیں: ہمیں بہت سخت بھوک لگی، میں مدینہ میں آیا اور مدینے کے ایک باغ میں چلا گیا، وہاں سے (کھجوروں کا ایک) خوشہ لیا، اس کو چیرا، اور اس میں سے کچھ کھا لیا اور کچھ اپنے کپڑے میں ڈال لیا، اچانک باغ کا مالک آ گیا، اس نے پکڑ کر مجھے مارا، اور میرا کپڑا بھی چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ جاہل تھا تو تم نے اس کو بتایا کیوں نہیں؟ اور جب وہ بھوکا تھا تو تم نے اسے کھلایا کیوں نہیں؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7365]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7366
أخبرنا السَّيَّاري، حدثنا أبو الموجِّه وعبد الله بن جعفر قالا: أخبرنا علي بن حُجْر السَّعدي، حدثنا عاصم بن سويد، عن محمد بن موسى بن الحارث، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: أتى رسولُ الله ﷺ بين عمرو بن عوف يومَ الأربعاء، فرأى أشياءَ لم يكن رآها قبلَ ذلك من حِصْنةٍ عن النخيل، فقال:"لو أنكم إذا جئتُم عيدَكم هذا مَكَثتُم حتى تسمعُوا من قَوْلي" قالوا: نَعَم بآبائنا أنتَ أي رسولَ الله وأمّهاتِنا، قال: فلما حضروا الجُمعةَ صلَّى بهم رسولُ الله ﷺ الجمعة، ثم صلَّى ركعتين في المسجد، وكان ينصرفُ إلى بيته قبلَ ذلك اليوم، ثم استوى فاستقبلَ الناسَ بوجهه، فتبِعَتْ له الأنصارُ أو من كان منهم حتى وفَّى بهم إليه، فقال:"يا معشرَ الأنصار"، قالوا: لبَّيكَ أيْ رسولَ الله، فقال:"كنتُم في الجاهلية إذ لا تَعبُدون الله تَحمِلونَ الكَلَّ، وتفعلون في أموالِكم المعروفَ، وتفعلون إلى ابن السَّبيل، حتى إذا مَنَّ الله عليكم بالإسلام، ومَنَّ عليكم بنبيِّه، إذا إنكم لتُحصِّنون أموالَكم، وفيما يأكل ابن آدمَ أَجْرٌ، وفيما يأكلُ السَّبُعُ أجرٌ، وفيما يأكل الطيرُ أجرٌ (1) "، فرجعَ القومَ، فما منهم أحدٌ إِلَّا هدم من حديقته ثلاثين بابًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرَّج. وفيه النهيُ الواضح عن تحصين الحيطان والنخيل والكُروم وغيرِها من أنواع الثِّمار عن المحتاجين والجائعين أن يأكلوا منها. وقد خرَّج الشيخانِ ﵄ حديثَ ابن عمر عن النبيِّ ﷺ:"إذا دخلّ أحدُكم حائطَ أخيه، فليأكُلْ منه ولا يَتَّخِذْ خُبْنَةً" (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدھ کے دن بنی عمرو بن عوف میں تشریف لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں کھجوروں کے باغ کے اطراف میں دیوار دیکھی جو اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہو کہ جب تمہارا عید کا دن آئے تو تم اس کو روک لو، یہاں تک کہ تم میری آواز سن لو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہمیں منظور ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ جمعہ کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمعہ پڑھایا پھر مسجد میں دو رکعتیں مزید ادا فرمائیں، حالانکہ اس سے پہلے معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے، پھر لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہونے لگے، انصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے، یا جو لوگ بھی وہاں موجود تھے (سب چل پڑے) یہاں تک کہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو آواز دی، انصار نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاہلیت میں تھے، جب تم اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے، اس وقت بھی تم غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے، اپنا مال نیک راستے میں خرچ کرتے تھے، اور تم مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا، تمہیں اسلام کی دولت سے نوازا، تمہیں اپنا نبی عطا فرمایا۔ اب تم اپنے مالوں کے اطراف میں دیواریں بنانے لگ گئے ہو، ہر وہ چیز جس سے انسان نے کھایا تمہارے لئے اجر ہے، جو چیزیں درندے یا پرندے کھا جاتے ہیں، اس میں بھی اجر ہے۔ لوگ واپس گئے، ہر شخص نے اپنے باغ کے تیس تیس دروازے گرا دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں واضح حکم ہے کہ بھوکوں اور غریبوں سے اپنی کھجوریں، اور دیگر پھل بچانے کے لئے باغات کے گرد چار دیواری نہ کی جائے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ جب تم اپنے بھائی کے باغ میں جاؤ، تو اس میں سے کھا سکتے ہو، اور ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7366]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7367
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا زيد (2) بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا محمد بن سليمان بن مَسمُول، حدثنا القاسم بن مُخوَّل البَهْزي (3) ، سمع أباه يقول: قلتُ: يا رسولَ الله، الإبلُ نَلْقاها وبها اللبنُ وهي مُصَرّاة، ونحن محتاجون، فقال:"نادِ صاحبَ الإبل ثلاثًا، فإن جاءَ وإلا فاحلُبْ واحتلبْ وَاحْلُلْ، ثم صُرَّ وبَقِّ اللبنَ لدَواعِيهِ" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7184 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
قاسم بن مخول نہدی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں سے ہماری ملاقات ہوتی ہے، ان میں دودھ بھی ہوتا ہے، اونٹنی دودھ والی بھی ہوتی ہے، جبکہ ہمیں ضرورت بھی ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کے مالک کو تین آوازیں دے دیا کرو، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ تم دودھ دوہ کر پی لیا کرو، اور کچھ دودھ تھنوں میں چھوڑ دیا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7367]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7368
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم، حدثنا أبو غسان، حدثنا عبد السلام بن حرب، حدثنا يونس بن عُبيد، عن زياد بن جُبير، عن سعد قال: لمَّا بايعَ النبيُّ ﷺ النِّساءَ، قامَتْ إليه امرأةٌ جليلةٌ كأنها من نساء مُضَر، فقالت: يا رسولَ الله، إنا كَلٌّ على آبائِنا وأبنائنا وأزواجِنا، فما يَحِلَّ لنا من أموالِهم؟ قال:"الرَّطْبُ تأكلْنَه وتُهدِينَه" (5) . وقد رواه سفيان الثَّوري عن يونس بن عُبيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7185 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی بیعت لی تو ایک دراز قد خاتون اٹھ کر کھڑی ہوئیں، یوں لگتا تھا گویا کہ وہ قبیلہ مضر کی کوئی خاتون ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم خواتین کا سارا دارومدار اپنے آباء، اپنے بیٹوں اور شوہروں پر ہوتا ہے، ان کے اموال سے ہمارے لئے کیا کیا چیزیں جائز ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تازہ کھجوریں کھا بھی سکتی ہو اور ہدیہ بھی کر سکتی ہو۔ اس حدیث کو سفیان ثوری نے یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7368]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7369
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1) ، حدثنا سفيان، عن يونس، عن زياد بن جُبير، عن سعد بن أبي وقّاص قال: قالت امرأةٌ: يا رسول الله، إنا كلٌّ على آبائنا وإخوانِنا، فما يَحِلّ لنا من أموالِهم؟ قال: رَطْبُ ما تأكلينَ وتُهدِينَ" (2) . حديث عبد السلام بن حرب صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا دارومدار اپنے باپ، بیٹوں اور بھائیوں پر ہوتا ہے، ان کے مال میں سے ہمارے لئے کیا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رطب کھجوریں جو تم خود بھی کھا سکتی ہو اور کسی کو ہدیہ بھی دے سکتی ہو۔ ٭٭ عبدالسلام بن حرب کی روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7369]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں