المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. إِنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ
بے شک کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے
حدیث نمبر: 7421
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن عبد الله بن يسار الأعرج، أنه سَمِعَ سالمًا يحدّث عن أبيه، عن النبيِّ ﷺ قال:"ثلاثةٌ لا ينظر الله إليهم يومَ القيامة: عاقُّ والديهِ، ومُدمِنُ خَمرٍ، ومنَّانٌ بما أَعطَى" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7235 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7235 - صحيح
سیدنا سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ ماں باپ کا نافرمان۔ شراب نوشی کرنے والا۔ کچھ دے کر احسان جتانے والا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7421]
حدیث نمبر: 7422
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا سعيد بن أبي، مريم، أخبرنا الدَّراوَرْدي، حدثني داود بن صالح، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ أبا بكر الصديق وعمر بن الخطَّاب وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ، جلسوا بعدَ وفاة رسولِ الله ﷺ، فذكروا أعظم الكبائر، فلم يكن عندَهم فيها علم يَنْتهون إليه، فأرسلوني إلى عبد الله بن عمرو أسألُه عن ذلك، فأخبرني أنَّ أعظمَ الكبائر شربُ الخمرِ، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فأنكروا ذلك ووَثَبُوا إليه جميعًا حتى أتَوه في دارِه، فأخبَرهم أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ مَلِكًا من ملوك بني إسرائيل أخذَ رجلًا، فخيَّره بين أن يَشربَ الخمر أو يقتلَ نفسًا أو يزنيَ أو يأكلَ لحمَ الخنزير، أو يقتلوه إنْ أَبى، فاختار أن يَشربَ الخمرَ، وإنه لما شَرِبَه لم يمتنِعْ من شيء أرادُوه منه"، وأنَّ رسولَ الله ﷺ قال لنا مُجيبًا:"ما من أحدٍ يشربُها فيَقبلُ الله له صلاةَ أربعين ليلةً، ولا يموت وفي مَثانتِه منه شيء إلَّا حُرِّمَت عليه بها في الجنة، فإن ماتَ في أربعينَ ليلةً، مات مِيتةً جاهليةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کچھ دیگر صحابہ کرام بیٹھے تھے اور اس موضوع پر بات کر رہے تھے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا کونسا ہے۔ ان کے پاس اتنا علم نہ تھا کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکتے، انہوں نے اس بابت دریافت کرنے کے لئے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑا گناہ ” شراب نوشی “ ہے۔ میں واپس ان کے پاس آیا اور بتایا (کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے) وہ لوگ یہ بات نہ مانے اور سب لوگ بھاگتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے گھر آ گئے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑا اور اس کو اختیار دیا کہ شراب پیے یا قتل کرے، یا زنا کرے، یا خنزیر کا گوشت کھائے، ورنہ وہ اس کو قتل کروا دے گا۔ اس آدمی نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی تو پھر وہ کسی بھی گناہ سے نہ بچ سکا جس میں وہ لوگ اس کو پھنسانا چاہتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی عبادت قبول نہیں کرتا، اور مرتے وقت جس کے پیٹ میں شراب ہو گی، اس پر جنت حرام ہے۔ اور اگر وہ (شراب پینے کے بعد) چالیس دن کے اندر اندر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7422]