🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. إِنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ
بے شک کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7422
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا سعيد بن أبي، مريم، أخبرنا الدَّراوَرْدي، حدثني داود بن صالح، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ أبا بكر الصديق وعمر بن الخطَّاب وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ، جلسوا بعدَ وفاة رسولِ الله ﷺ، فذكروا أعظم الكبائر، فلم يكن عندَهم فيها علم يَنْتهون إليه، فأرسلوني إلى عبد الله بن عمرو أسألُه عن ذلك، فأخبرني أنَّ أعظمَ الكبائر شربُ الخمرِ، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فأنكروا ذلك ووَثَبُوا إليه جميعًا حتى أتَوه في دارِه، فأخبَرهم أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ مَلِكًا من ملوك بني إسرائيل أخذَ رجلًا، فخيَّره بين أن يَشربَ الخمر أو يقتلَ نفسًا أو يزنيَ أو يأكلَ لحمَ الخنزير، أو يقتلوه إنْ أَبى، فاختار أن يَشربَ الخمرَ، وإنه لما شَرِبَه لم يمتنِعْ من شيء أرادُوه منه"، وأنَّ رسولَ الله ﷺ قال لنا مُجيبًا:"ما من أحدٍ يشربُها فيَقبلُ الله له صلاةَ أربعين ليلةً، ولا يموت وفي مَثانتِه منه شيء إلَّا حُرِّمَت عليه بها في الجنة، فإن ماتَ في أربعينَ ليلةً، مات مِيتةً جاهليةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7236 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب اور چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں بیٹھے اور سب سے بڑے گناہوں کا تذکرہ کرنے لگے، لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی ایسی حتمی علمی معلومات نہ تھیں جس پر وہ اتفاق کر لیتے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس اس بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے، میں نے واپس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور سب مل کر ان کے گھر کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ تب انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے ایک شخص کو گرفتار کیا اور اسے اختیار دیا کہ وہ یا تو شراب پی لے، یا کسی کو قتل کر دے، یا زنا کرے، یا خنزیر کا گوشت کھائے، ورنہ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔ اس شخص نے شراب پینے کا انتخاب کیا، لیکن جب اس نے شراب پی لی تو پھر اس نے کسی بھی ایسے کام سے انکار نہ کیا جس کا ان لوگوں نے اس سے مطالبہ کیا تھا (یعنی وہ تمام گناہوں کا مرتکب ہو گیا)؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جواباً ارشاد فرمایا: جو کوئی اسے پیتا ہے اللہ تعالیٰ چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں فرماتا، اور وہ اس حال میں نہیں مرتا کہ اس کے مثانے میں اس شراب کا کوئی حصہ موجود ہو مگر یہ کہ اس کی وجہ سے اس پر جنت حرام کر دی جائے گی، اور اگر وہ ان چالیس راتوں کے اندر مر گیا تو جاہلیت کی موت مرے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7422]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله، من أجل داود بن صالح: وهو ابن دينار التمار، وقد جاء في رواية سعيد بن أبي مريم هذه قصة الملك الإسرائيلي مرفوعة، وخالفه يعقوب بن حميد بن كاسب عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (810) فرواها عن الدراوردي موقوفة، والقلب إلى هذا أميَل، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 7422] [ترقيم الشركة 7332] [ترقيم العلميه 7236]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7423
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن محمد بن عبد الله بن مسلم: أن أبا مسلم الخَوْلاني حجَّ فدخلَ على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فجعلَتْ تسأله عن الشام وعن بَرْدِها، فجعل يُخبِرُها، فقالت: كيف يَصبِرون على بردِها؟ قال: يا أمَّ المؤمنين، إنَّهم يشربون شرابًا لهم يُقال له: الطِّلاء، قالت: صَدَقَ الله وبلَّغ حِبِّي ﷺ، يقول:"إِنَّ ناسًا من أمَّتي يَشْرَبون الخمرَ يُسمُّونها بغير اسمِها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7237 - على شرط البخاري ومسلم
ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حج کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ ان سے ملک شام اور وہاں کی سردی کے بارے میں پوچھنے لگیں اور وہ بتاتے رہے، پھر انہوں نے پوچھا کہ وہاں کے لوگ سردی پر کیسے صبر کرتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: اے ام المؤمنین! وہ ایک مشروب پیتے ہیں جسے طلاء کہا جاتا ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے (حق) پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میری امت کے کچھ لوگ شراب پیئیں گے اور اس کا نام بدل کر کچھ اور رکھ دیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «المرفوع صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قال الذهبي في "تلخيصه": محمد مجهول، وإن كان ابنَ أخي الزهري فالسند منقطع. عمرو بن الحارث: هو ابن يعقوب المصري.» [ترقيم الرساله 7423] [ترقيم الشركة 7333] [ترقيم العلميه 7237]

الحكم على الحديث: المرفوع صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں