🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
ہر نشہ آور چیز حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7423
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن محمد بن عبد الله بن مسلم: أن أبا مسلم الخَوْلاني حجَّ فدخلَ على عائشةَ زوجِ النبي ﷺ، فجعلَتْ تسأله عن الشام وعن بَرْدِها، فجعل يُخبِرُها، فقالت: كيف يَصبِرون على بردِها؟ قال: يا أمَّ المؤمنين، إنَّهم يشربون شرابًا لهم يُقال له: الطِّلاء، قالت: صَدَقَ الله وبلَّغ حِبِّي ﷺ، يقول:"إِنَّ ناسًا من أمَّتي يَشْرَبون الخمرَ يُسمُّونها بغير اسمِها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7237 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن عبداللہ بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ ابومسلم خولانی حج پر گئے اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ام المومنین ان سے شام کے حالات اور وہاں کے موسم کے بارے میں پوچھنے لگ گئیں، اور وہ ام المومنین کو وہاں کے حالات بتاتے رہے، ام المومنین نے کہا: وہ لوگ وہاں کی سردی کیسے برداشت کرتے ہیں؟ ابومسلم خولانی نے کہا: اے ام المومنین! وہ لوگ طلاء نامی شراب پیتے ہیں۔ ام المومنین نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا: میرے محبوب نے ہم تک پہنچایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو شراب کا نام بدل کر اسے پیئں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7423]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7424
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن أبي حيَّان التَّيْمي، عن أبيه، عن مريم بنت، طارق امرأةٍ من قومه، قالت: كنتُ في نسوةٍ من نساء المهاجرات، حَجَجْنا فدخلنا على عائشةَ أمِّ المؤمنين، قالت: فجعل نساءٌ يسأَلنَها عن الظُّروف، قالت: يا معشرَ النّساء، إِنَّكُنَّ لَتَذكُرْنَ ظُروفًا ما كان كثيرٌ منها على عهدِ رسول الله ﷺ، فاتَّقِينَ الله واجتَنِينَ ما يُسكِرُكنَّ، فإنَّ رسول الله ﷺ قال:"كلُّ مُسكِرٍ حرامٌ، وإن أسكَرَها ماءُ حُبِّها فلتَجْتَنِبنَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7238 - صحيح
مریم بنت طارق فرماتی ہیں: میں ہجرت کرنے والی خواتین کے ہمراہ حج کرنے گئی، ہم ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، عورتیں ان سے برتنوں وغیرہ کے بارے میں پوچھنے لگ گئیں، ام المومنین نے فرمایا: اے خواتین! تم ایسے برتنوں کا ذکر کر رہی ہو، جن میں سے اکثر ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھے۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو اور نشہ آور چیز سے بچو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اگر تمہیں تمہارے مٹکے کا پانی نشہ دے تو اس سے بھی بچو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 7424]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں