🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. إِنَّ اللَّهَ لَيُعَمِّرُ بِالْقَوْمِ الزَّمَانَ بِصِلَتِهِمْ لِأَرْحَامِهِمْ
بے شک اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کی برکت سے قوموں کی عمروں (اقتدار یا بقا) میں اضافہ فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7468
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني ابن الهاد، عن محمد بن عبد الله الصَّرَاري، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أنس بن مالك أنه قال: مَن سرَّه أن يُنسأَ له في أجَلِه، ويُوسَّعَ عليه في رزقه، فليَصِلْ رَحِمَه (2) . موقوفٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7281 - موقوف
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص موت میں آسانی اور رزق میں وسعت چاہتا ہے، اس کو صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ (یہ حدیث موقوف ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7468]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7469
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان المِصري (3) ، حدثنا عِمران بن موسى الرَّمْلي (1) - وهو ابن أبي عمران - حدثنا أبو خالد سليمان بن حيّان الأحمر، حدثني داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله ليُعمِّرُ بالقوم الزمانَ، ويُكثِرُ لهم الأموال، وما نَظَرَ إليهم منذ خَلَقَهم بُغضًا لهم" قالوا: كيف ذلك يا رسولَ الله؟ قال:"بصلَتِهم لأرحامِهم" (2) . قال الحاكم ﵀: عِمران بن أبي عمران الرَّمْلي من زهاد المسلمين وعبّادهم، فإن كان حَفِظَ هذا الحديثَ عن أبي خالد الأحمر، فإنه غريب صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7282 - تفرد به عمران بن موسى الرملي وإن كان حفظه فهو صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کی عمر بڑھا دیتا ہے، ان کے مال میں اضافہ فرما دیتا ہے حالانکہ ان سے اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش کے دن سے ان کی جانب نظر نہیں فرماتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ (اللہ تعالیٰ کی اتنی ناراضگی کے باوجود ان پر اتنی رحمت) کس بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لئے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: عمران رملی بہت عبادت گزار دنیا سے بے نیاز بزرگ تھے، انہوں نے یہ حدیث ابوخالد الاحمر سے یاد کی ہے۔ یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7469]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں