المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إِنَّ اللَّهَ لَيُعَمِّرُ بِالْقَوْمِ الزَّمَانَ بِصِلَتِهِمْ لِأَرْحَامِهِمْ
بے شک اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کی برکت سے قوموں کی عمروں (اقتدار یا بقا) میں اضافہ فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7469
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان المِصري (3) ، حدثنا عِمران بن موسى الرَّمْلي (1) - وهو ابن أبي عمران - حدثنا أبو خالد سليمان بن حيّان الأحمر، حدثني داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله ليُعمِّرُ بالقوم الزمانَ، ويُكثِرُ لهم الأموال، وما نَظَرَ إليهم منذ خَلَقَهم بُغضًا لهم" قالوا: كيف ذلك يا رسولَ الله؟ قال:"بصلَتِهم لأرحامِهم" (2) . قال الحاكم ﵀: عِمران بن أبي عمران الرَّمْلي من زهاد المسلمين وعبّادهم، فإن كان حَفِظَ هذا الحديثَ عن أبي خالد الأحمر، فإنه غريب صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7282 - تفرد به عمران بن موسى الرملي وإن كان حفظه فهو صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7282 - تفرد به عمران بن موسى الرملي وإن كان حفظه فهو صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ (صلہ رحمی کی برکت سے) کسی قوم کی زندگی کو طویل کر دیتا ہے اور ان کے مالوں میں اضافہ فرما دیتا ہے، حالانکہ جب سے اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے ان کی جانب (ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے) غصے کے سبب نہیں دیکھا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے صلہ رحمی کرنے کی وجہ سے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: عمران بن ابی عمران رملی مسلمانوں کے زاہدین اور عبادت گزاروں میں سے ہیں، اگر انہوں نے یہ حدیث ابو خالد احمر سے صحیح طور پر یاد رکھی ہے تو یہ غریب صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7469]
امام حاکم فرماتے ہیں: عمران بن ابی عمران رملی مسلمانوں کے زاہدین اور عبادت گزاروں میں سے ہیں، اگر انہوں نے یہ حدیث ابو خالد احمر سے صحیح طور پر یاد رکھی ہے تو یہ غریب صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7469]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد، عمران بن هارون قال أبو زرعة صدوق، وقال ابن يونس لين» [ترقيم الرساله 7469] [ترقيم الشركة 7378] [ترقيم العلميه 7282]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 7470
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، حدثني أبي، قال: كنتُ عند ابن عباس، فأتاه رجلٌ فمَتَّ إليه برَحِمٍ بعيدة، فقال: قال رسول الله ﷺ:"اعرِفوا أنسابَكم تَصِلُوا أرحامَكم، فإنه لا قُرْبَ لَرَحِمٍ إِذا قُطِعَت وإن كانت قريبةً، ولا بُعْدَ لها إذا وُصِلَت وإن كانت بعيدةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7283 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان کے پاس ایک شخص آیا جس نے ایک دور کی رشتہ داری کا واسطہ دیا، تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اپنے انساب (نسبوں) کو پہچانو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ رشتہ داری میں کوئی قربت نہیں رہتی جب اسے توڑ دیا جائے اگرچہ وہ (نسب میں) کتنی ہی قریب کیوں نہ ہو، اور وہ دور نہیں رہتی جب اسے جوڑ دیا جائے اگرچہ وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7470]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7470]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7470] [ترقيم الشركة 7379] [ترقيم العلميه 7283]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح