المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوا بِهِ أَرْحَامَكُمْ
اپنے نسب کے بارے میں اتنا ضرور جانو جس سے تم صلہ رحمی کر سکو
حدیث نمبر: 7470
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، حدثني أبي، قال: كنتُ عند ابن عباس، فأتاه رجلٌ فمَتَّ إليه برَحِمٍ بعيدة، فقال: قال رسول الله ﷺ:"اعرِفوا أنسابَكم تَصِلُوا أرحامَكم، فإنه لا قُرْبَ لَرَحِمٍ إِذا قُطِعَت وإن كانت قريبةً، ولا بُعْدَ لها إذا وُصِلَت وإن كانت بعيدةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7283 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے ان کے ساتھ بہت دور دراز کی رشتہ داری ثابت کی۔ اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسب پہچانو، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو، اس لئے کہ جب رشتہ داری ختم ہو جائے تو کوئی رشتہ قریب کا نہیں رہتا، اگرچہ وہ بہت قریبی ہو، اور جب رشتہ داری میں میل ملاقات ہوتی رہے تو اس میں کوئی دوری نہیں ہوتی اگرچہ رشتہ داری بہت دور کی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7470]